“امید کی کرن”_________آبرو نبیلہ اقبال

میرے وطن کے شاداب چہرے
گر تم جو دیکھو
تو یہ سمجھنا
ابھی یہ دھرتی
ہوئی نہیں بنجر
اور اس کے وارث
سلامتی کی دعائیں کرتے
تکھتے نہیں ہیں رات بھر بھی
کبھی جو کوئی طوفان آئے
اور دکھ کی کوئی لہر جو پھیلے
جناح کے وارث
نہ دن کو دیکھیں نہ رات دیکھیں
نثار اپنی جان کر کے
زمانے کو وہ کر دکھائیں
کہ حوصلہ گر جواں ہو
اور
من میں دھرتی کی لگن ہو سچی
تو ڈر نہیں کوئی بھی ایسا
جو وارثوں کو نڈھال کر دے
یہ وارثوں کا نہیں ہے شیوہ
کہ ڈر کر اپنی وہ راہ بدلیں
یہ تو ہیں سب کو راہ دکھاتے
ہمت و حوصلے کے سب کو سبق پڑھاتے
ہیں کر دکھاتے
سارے جہاں میں روشنی کی کرن پھیلا کے
یہ زندہ قوموں کی ہے نشانی
فراموش نہیں کرتے وہ
اپنوں کی لازوال قربانیوں کو
یاد رکھتے ہیں اسباق سارے
عمل کی کنجی کو تھامے
کامیابی کی منزلوں کو
پانے کی لگن میں
وطن کا نام ہیں روشن کرتے
سلام میرے جناح (رحمۃ اللّٰہ علیہ) کو پہنچے
سلام میرے وطن کے وارثوں کو
سلام پیارے وطن کہ تجھ کو
قائم و دائم رہنا ہے تا قیامت

(ان شاء اللہ)

شاعرہ :آبرو نبیلہ اقبال
ینگ وویمن رائٹر فورم اسلام آباد چیپٹر

وڈیو دیکھیں: پاکستان ڈے 2018 کی صبح،پریڈ سے پہلے نوجوانوں کا جنوں

Advertisements

2 thoughts on ““امید کی کرن”_________آبرو نبیلہ اقبال

  1. Rizwana noor

    Bht pyari nazm…..khubsurat akasi mehnati pakistan ki….love it. ❤❤❤❤Allah pakistan ko hmesha salamat rakhye….

    Liked by 1 person

Comments are closed