رختِ دل______آبیناز جان علی

امرین نے چین کا سانس لیا۔ سڑک کی اب مرمت کی گئی ہے۔ اس کی گاڑی کے پہیے اب آرام سے راستے پر چل رہے ہیں۔ اب کوئی جھٹکا محسوس نہیں ہوتا۔ تین ماہ قبل جب امرین نے پہلی بار اپنی نئی منزل کی طرف جاتے ہوئے یہ راستہ لیا تھا تو لاکھ کوششوں اور احتیاط کے باوجود پہیہ گڈے میں چلا ہی جاتا اور امرین کو ڈر لگتا کہ کہیں گاڑی میں خراش نہ آئے یا پھر انجن کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

یہ بھی پڑھیں:بے وفا

’میں کہاں آگئی؟‘ جب گاڑی ایک گڈے سے نکل کر دوسرے گڈے میں پڑتی ، امرین اپنے حالات کو کوسا کرتی۔گڈے سے بھرے راستوں کی مرمت جب کی جا رہی تھی تو ٹرافک جام بھی بہت ہوا تھا۔ تار کی چھوٹی کنکریاں پہیوں کے ساتھ گردش کرتے ہوئے شور کرتے۔ ان تکلیفوں کے مراحل سے گزرنا ضروری تھا۔ پریشانی کے انہی دریچوں کی کرم فرمائی سے اب صاف راستہ نظر آتا ہے۔
امرین کی زندگی بھی اب مرمت شدہ راستے کی طرح آرام سے چل رہی ہے۔ آفس کا رخ کرتے وقت امرین مشکلات کے باوجود مثبت چیزوں کی طرف اپنے ذہن کو منتقل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ کھیتوں سے گزرتے وقت وہ ہریالی کی طرف خاص توجہ دیتی ہے۔ اس کی آنکھیں راستے کے دونوں کنارے پر لگائے تناور درختوں کی قطار کو دیکھ کرمحظوظ ہوتیں اور وہ سوچتی جن لوگوں نے یہ پیڑ لگائے ہونگے وہ اب یقیناًاس جہاں سے کوچ کر گئے ہونگے۔ پھر بھی ان کی محنت سے مسافروں کو تیز دھوپ سے یہی درخت نرم چھاؤں پہنچاتے ہیں۔ یہ اونچے اور تناور درخت چرند و پرندکا بھی مسکن ہے۔ اس سوچ سے امرین عبرت حاصل کرتی کہ زندگی میں کچھ ایسے کام سرانجام دے جس سے نہ صرف اس کی زندگی میں بلکہ اس کی موت کے بعد بھی اس کے کام سے عالم کو فیض پہنچے۔
طوفان، موسلادھار بارش اور تیز ہواؤں کی وجہ سے کئی بار سڑک پر موٹی شاخیں اور درختوں کے تنے ٹوٹ کر گرتے۔ کبھی کبھار موٹے موٹے درخت بھی جڑ سے اکھر جاتے۔ اس اثنا میں سنبھل کر گاڑی چلانی ہوتی۔ کبھی کبھی رکنا بھی ضروری ہوتا۔ امرین خود کو سمجھاتی

’’جب زندگی ہمارے سفر کو رکاوٹوں سے ہمکنار کرتی ہے تو بیچ سفر میں رکنا ضروری ہو جاتا ہے تاکہ آگے جانے کا منصوبہ بنایا جاسکے۔”

یہ بھی پڑھیں:بیس سیکنڈ

صبح جب گاڑی کی نیچے کئے گئے شیشے سے بادِ صبا امرین کے رخساروں کو چھوتی اور گہری سانس لے کر جب اس کے نتھنے اس تازہ ہوا کا استقبال کرتے تو وقت وہیں ٹھہر جاتا۔ جہاں تک نگاہ جاتی گنّے کے ہلکے سبز پتلے اور جھکے ہوئے لمبے پتے قطاروں میں لگائے ہوئے موریشس کی ماضی کی طرف اشارہ کرتے جب گنا معیشت کا مضبوط ترین ستون تھا۔ یورپ سے گنّا برآمد کر کے جزیرے میں زرمبادلہ آتا۔ گنے کے کھیتوں کے بیچوں بیچ اونچا کالے پتھروں کا بنا چمنی دلفریب ماضی کی شاندار نشاندہی کر رہا ہے۔ یہ چمنی پہلے ایک شکر کے کارخانے کاحصّہ ہوا کرتا تھا۔ اس زمانے میں ہر زمیندار کا اپنا کارخانہ ہوا کرتا تھا۔ وہ بیل گاڑیوں کا سنہرا زمانہ تھا۔ یہ جدید ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے جہاں ہر کام مشینوں سے انجام پا رہا ہے۔ اب کئی کارخانے بند ہوگئے۔ ملازمین کو وی۔آر۔ایس اسکیم کے تحت زمینیں اور پنشن دے کر ان کو نوکری سے سبکدوش کیا گیا۔
جولائی سے دسمبر کے مہینے میں جب تک گنے کی کٹائی ہوتی تو راستے پر بڑے بڑے ٹریکٹر اور لاڑیاں ہوتیں۔ ان کو دیکھ کر امرین ذرا سہم جاتی۔ کئی بار ان کے پیچھے چلتے رہنا مناسب ہوتا کیونکہ آگے راستہ نظر نہ آتا اور ان بل کھاتے راستوں میں کسی سواری سے آگے جانا بعید از قیاس ہوتا۔
امرین انہیں خیالات میں منہمک تھی کہ اس کی گاڑی کے آگے ایک گاڑی چالیس کلومیٹرکی رفتار سے آگے بڑھ ہی نہیں رہی تھی۔ امرین تنگ آکر اس کے آگے نکل گئی۔گاڑی والے نے ہارن بجا کر امرین سے اپنی خفگی جتائی۔ امرین نے جواباً ہارن بجاکر اعلان کیا کہ وہ جانتی ہے کہ وہ آگے جانے کی مستحق ہے۔آنِ واحد میں اس گاڑی اورامرین کی گاڑی میں کئی کلومیٹر کا فاصلہ بن گیا۔ شیشے میں اس گاڑی کو اپنے پیچھے دیکھ کر امرین کے من میں غصّہ ابل پڑاجو رفتہ رفتہ افسوس میں تبدیل ہوا اور آخرکار ایک قوتِ اضمحلال اس پر حاوی ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:سپنج
’وہ وقت الگ تھا۔ تمہیں اپنی تیز رفتاری کا اندازہ نہیں تھا۔‘
پھر بھی ایک احساسِ زیاں غالب تھا۔ دوسروں کے پیچھے چلتے چلتے کتنا وقت نکل گیا۔ ایک موٹر سائیکل سے آگے بڑھ کر اور پھر ایک بس کو پیچھے چھوڑ کر امرین خود اعتمادی سے سرشار تھی۔ایک زمانہ ہوا کرتا تھا جب یہ راستے انجان تھے۔ منزل کی طرف جاتے جاتے کئی بار غلط راستہ لے لیتی اور پھر واپس آنا پڑتا یا لمبا راستہ لینا پڑتا۔ لیکن اب امرین کو معلوم ہے اسے کہاں جانا ہے۔

______________

آبیناز جان علی
موریشس

وڈیو دیکھیں:یوم پاکستان پر ائیر چیف فلای پاسٹ کی قیادت کرتے ہوے

Advertisements

4 thoughts on “رختِ دل______آبیناز جان علی

  1. میں خود ہی اپنے تعاقب میں پھر رہا ہوں ابھی،
    اٹھا کے تو مری راہوں سے راستہ لے جا

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s