بیس سیکنڈ _____حمیرا فضا

بعض اوقات حالات اور رشتے یوں جھٹ پٹ بدلتے ہیں کہ وقت سکڑ کر ایک پنجرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے وہ پنجرہ جو اپنے قیدی کو نہ سوچنے سمجھے کا موقع دیتا ہے نہ آواز اُٹھانے کا ۔وقت کی روانی میں کچھ پل کا جنتر منتر زندگی کا پاسہ ایسے پلٹتا ہے کہ اِنسان تبدیلی کے درپن میں تحیر کے عکس سے بس یہی کہتا رہ جاتا ہے یہ کیسے ہو گیا؟ یہ کیونکر ہوا؟ کیا ایسا بھی ہو سکتا تھا؟
آج اُس کی منگنی تھی پورا گھر روشنیوں سے لشکارے مار رہا تھا مگر وہ ایک مخمصے میں گرفتار اِس جگمگاہٹ میں بجھی بجھی سی لگ رہی تھی ۔دل کی مرضی اور دماغ کے احکامات نے دھڑکنوں اور سوچوں کو اِتنا تھکا ڈالا کہ وہ اُس لمحے کچھ بھی محسوس نہ کر پائی ۔وہ یہ منگنی نہیں کرنا چاہتی تھی مگر انکار کی یہ صدا رشتوں کے حکم اور عزت کی راہ میں کہیں گُم ہو چکی تھی ۔ کس قدر درد ناک ہوتا ہے وہ فیصلہ جس میں کسی کی خوشی تو کسی کا غم شامل ہو۔اُس کی خوشی اپنوں کی خوشی کے ملبے تلے دبی بے بسی سے پھڑپھڑا تی رہی اور اُس کا غم اِس قدر غریب تھا کہ اُسے قہقہے لگاتے محل میں داخل ہونے کی قطعی اِجازت نہ ملی۔

یہ بھی پڑھیں:حد

وہ اپنے والدین کی اِکلوتی اولاد تھی اور یہ اکلوتا ہونا ہی اُس کے لیے سزا کا موجب بن گیا ۔اُس کے نازک کندھوں پر اپنے خوابوں اور اپنوں کی اُمیدوں کا بوجھ اِس طرح بڑھ رہا تھا کہ اگر وہ تابع دار رہتی تو گُھٹ گُھٹ کے مرنے کا خدشہ پھنکارتا اور اگر نافرمانی کرتی تو بدنامی اور شرمندگی کا اندیشہ ڈستا۔
بچپن سے ہی اُس کی شخصیت ایک کشمکش کے دائرے میں گھوم رہی تھی جس کے ہر سرے پر ایک الگ طرح کی آرزو تھی جو ایک دوجے سے نہ ملتی نہ میل کھاتی ۔وہ چاہتی تھی اپنی چاہ اور اپنوں کی خواہش کو ایک ہی کشتی میں سوار کردے مگر کبھی کبھی یہ بوجھ اتنا بڑھ جاتا کہ سوائے سکون کے ڈوبنے کے کوئی راستہ نہ بچتا۔اُس کی دوہری شخصیت ہی اُسے اذیت دینے لگی ۔ ایک طرف وہ خود پر تابعداری کا لیبل لگوا نا پسند کرتی تو دوسری طرف اپنے اندر واویلا مچاتی بغاوتی سوچوں کی سنگت بھی عزیز رکھتی ۔

یہ بھی پڑھیں:سپنج
منفی ، مثبت ، اچھائی، برائی کی تال پر تھرکتے وہ ایک اور ہی جہاں میں نکل آئی تھی ،وہ جہاں جس میں کبھی دوسروں کی آسانی کے لیے وہ بھاگ بھاک کر کھڑکیاں کھولتی اور جب اپنی تمناؤں کا دم گھٹنے لگتا تو وہی کھڑکیاں زور سے بند بھی کر دیتی۔ اپنی اور اپنوں کی چاہت میں تال میل کا نہ ہونا ہی اُس کی بے سُری زندگی کا کارن تھا اور اُس کے سکون کا دشمن بھی۔
اُس نے من مار کے اپنی خواہش تِیاگ کر دی اور اُن پھولوں کا اِنتخاب کیا جن کی تازگی اور خوشبو اُس کے والدین کے لبوں پر طمانیت کی مسکان بکھیر دیں۔اُس نے خود سے زورآوری کی کہ وہ اِس نئے رشتے کی مہک کو قیمتی جان کر وجود سے لپیٹ لے، انمول سمجھ کر دل میں بسا لے یا خوش نصیبی مان کر ذہن میں اتار لے ۔وہ رضا مندی سے مہکنا چاہتی تھی ، زبردستی بھی مہکنا چاہتی تھی مگر سب جتن جیسے رائیگاں جا رہے تھے ۔اُس نے پھول دان کر دیئے اور خود مرجھا گئی ۔نئے پرانے خوابوں کی پتیاں دھیرے دھیرے سوکھیں پھر گلنے سڑنے لگیں مگر مری نہیں۔پہلی محبت کی خوشبو تعفن کا احساس دیتی تو نئے رشتے کی مہک گھٹن بڑھا جاتی ۔اُسے لگتا تھا وہ بے جان ہو چکی ہے بس ایک باسی خوشبو زندہ ہے دکھ اور ملال کی،ذمہ داری اور فرمانبرداری کی۔

یہ بھی پڑھیں: ملکِ سلمان
کچھ جذبات سوتے جاگتے تالیاں بجا کر سراہنے لگے کہ وہ ایک اچھی بیٹی ہے جس نے کچھ وقت کی رفاقت پر عمر بھر کے تعلق کو فوقیت دے کر خونی رشتوں کا مان بڑھایا ہے ، اور کچھ یادیں اُٹھتے بیٹھتے لعن طعن کرنے لگیں کہ وہ ایک بے وفا محبوبہ ہے جس نے رشتوں کی تابندگی کے لیے محبت کو مجبوریوں کی کال کوٹھڑی میں دھکیل دیا ہے۔ “یہ طے ہوا تھا جینا مرنا تمھارے سنگ ہے احمر مگر اب یہ طے کیا ہے جینا مرنا واجد کے لیے ہے۔” وہ صبح و شام کڑوی دوائی کی طرح یہ جملے صبر کا گھونٹ بھر کر حلق سے اُتارتی پر بے چین دل بارہا اُکسا رہا تھا کہ ضد کا جام پی کر ناپسندیدہ حقیقتیں باہر اُنڈیل دی جائیں۔
وقت کے سچا آئینے نے پہلی محبت کی گرد صاف کی تو اُسے صرف واجد ہی دکھنے لگا۔ وہ اِس اعتراف سے بھاگنے لگی کہ واجد احمر سے تقدیر کا چنا ہوا ایک اچھا اِنتخاب ہے۔وہ احمر سے ہر لحاظ سے اچھا تھا اُس سے بڑھ کر خیال رکھنے والا، اُس سے بڑھ کر عزت دینے والا، اُس سے بڑھ کر چاہنے والا۔اب دل پر غصہ کرنے کی باری تھی جو واجد کے لیے جگہ تو بنا رہا تھا مگر احمر کی جگہ خالی کرنے کو تیار نہ تھا۔
نئی محبت فتح سے جھوم اُٹھی تو پہلی محبت نے لٹ جانے کے غم میں وبال مچا دیا ۔ “میں بے حس ہو چکی ہوں مگر وہ اب بھی میری یاد میں تڑپتا ہو گا۔ نیندوں نے تو میری تقلید کرکے اُس سے کنارہ کر لیا ہوگا اور اُس کے دن رات شکؤں کے پنّوں پر اشکوں سے میری بے وفائی رقم کرتے ہونگے۔ہائے اُن تحفوں کا کیا ہوا ہوگا جو میں نے محبت کی نشانی سمجھ کر دیئے تھے شاید وہ اُنھیں گلے لگا کر ساری عمر بیتا دے یا پھر کوڑا دان میں پھینک کر اپنی عمر بے کار گزارنے لگے۔یہ کوئی انسانیت نہیں کہ میں خود کو آباد کر لوں اور وہ برباد ہوتا رہے ۔” وہ محبت کے لیے نہ سہی، انسانیت کی خاطر بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: جدائی

جو سوچا تھا وہ سچ ہو گیا ۔اُس کی اور اُس کے ماں باپ کی خوشی کے بیچ حائل فاصلے سمٹنے لگے ۔اب وہ سب ایک ہی کشتی میں سوار ہو چکے تھے سکون کے ساتھ ،اطمینان کے ساتھ۔ نئے جذبات کی تیز آندھی باسی پھول اُڑ کر کہیں دور لے گئی ۔اب دامن میں فقط تازہ پھول تھے۔اردگرد سڑن کا نہیں خوشبو کا حصار تھا__ گُدگُداتی ہوئی __لہراتی ہوئی __ ناچتی گاتی خوشبو۔ محبت کی خوشبو کا نشہ جب کبھی مدھم ہوتا تو پچھتاوے کا سیاہ دھواں دل و دماغ میں بھرنے لگتا جس میں اُسے احمر اور واجد کے وُجود آپس میں اُلجھتے دیکھائی دیتے۔
” واجد اِس قابل ہے کہ اُسے چاہا جائے۔ محبت دوبارہ ہو سکتی ہے، سچی محبت تو کبھی بھی ہو سکتی ہے۔تو جو احمر سے تھی کیا وہ حماقت تھی ، جوانی کا وقتی جنون تھا؟ نہیں کر سکتی میں پھر محبت __یہ سراسر منافقت ہے __ دھوکہ ہے۔” دل کی دلیلیں اور تھیں، دماغ کی رائے اور ۔اُسے لگ رہا تھا وہ پاگل ہونے کے قریب ہے۔
“واجد کتنا اچھا اور منفرد اِنسان ہے مجھ سے ایسے سلوک کرتا ہے جیسے میں کوئی معصوم بچی ہوں، اُسے کیا پتا کہ ایک لغزش نے مجھے بوڑھا کردیا ہے۔ کل کو اُسے علم ہو گیا تو__کسی نے اُسے بتا دیا تو__ اُسے الہام ہو گیا تو__کیا ہوگا پھر؟ کیا ہوگا پھر؟جن گالوں پر محبت کے لمس کی لالی ہے کیا وہاں نفرت کے طمانچوں کی سرخی ہو گی؟ جس سر پر پرواہ کی میٹھی چھاؤں ہے کیا وہاں بے پروائی کی کڑی دھوپ ہو گی؟ جن پیروں کے نیچے بھروسے کے نرم قالین ہیں کیا وہاں بے اعتباری کی پتھریلی زمین ہوگی؟” ” تمھیں اپنی غلطیوں کو ماننا چاہیے__ انھیں برا سمجھنا چاہیے __اِن پر نادم ہونا چاہیے__ معافی مانگنی چاہیے __مگر اِن کا ڈھنڈورا پیٹ کر آنے والی زندگی تباہ نہیں کرنی چاہیے۔یہ عقلمندی نہیں بیوقوفی ہے۔ ” دل کی جذباتی آواز کو ایک اِصلاحی آواز نے ٹوکا تھا۔
” احمر اِتنا اچھا نہ سہی __ وفادار تو ہے۔ اُس نے تو ہر وعدہ نبھانا چاہا مکر تو میں گئی۔میں تو جس طرف بھی جاؤ ،جس طرف بھی دیکھو فریب کا بھیانک سایہ ہے فریب کا بھیانک چہرہ ہے۔” فیصلے کی کشتی میں واجد کا خیال ، احمر کا تصور اپنی اپنی جگہ بنانے کی تگ و دو میں تھے اور اضطراب کی لہریں بار بار اُس کا وجود بھگو رہی تھیں۔
کم ہمتی ،بے بسی اور پشیمانی نے اُسے ہمیشہ احمر سے بات کرنے سے روکے رکھا ۔ اِن چھے مہینوں میں احمر نے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی ، یہ اُسے محسوس کرانے کے لیے ،احساس دلانے کے لیے کافی تھا کہ اُس کی محبت اور لگن سچی ہے۔اچانک سے یہ سلسلہ تھما تو سبین سمجھ گئی کہ وہ خفگی کے اُس دیس چلا گیا ہے جہاں سے نہ معافی مل سکتی ہے نہ دوسرا موقع۔کشتی میں توازن بری طرح سے بگڑنے لگا اُسے یقین ہوا اب فقط سکون نہیں سب کچھ ڈوب جائے گا۔یہ دونوں محبتوں کے زوال اور پاگل پن کے عروج کا وقت تھا۔جب بھی کشمش کی قید سے رہائی ملتی تو وہ ذہن کو ٹھیک غلط ، اچھے برے، جائز ناجائز ہر راستے پر دوڑاتی صرف اِس لیے کہ شاید کہیں سے کوئی دانش مندانہ فیصلے کی راہ نکل آئے۔

یہ بھی پڑھیں: پچاس لفظوں کی کہانی

شادی میں دو ماہ باقی تھے دل و دماغ نے پھرتی سے فیصلوں اور جذبوں پر نظر ثانی شروع کر دی ۔ ” احمر یا واجد__ واجد احمر سے بہتر ہے __پر احمر پہلا پیار ہے__ واجد مجھے زیادہ خوش رکھے گا __ احمر میرے بغیر شاید خوش نہ رہ پائے__ واجد سے میری اور سب کی عزت جڑی ہے __ احمر سے ضمیر اور وعدوں کا مان جڑا ہے __ کس کا انتخاب کرو ں آخر ؟ واجد کا ساتھ دونگی تو احمر کے ساتھ دھوکہ__ احمر کا ہاتھ تھامو گی تو واجد سے ناانصافی ۔بہاؤ اِس قدر تیز تھا کہ کشتی شدت سے ڈولنے لگی۔”
اُلجھنوں کے پتھروں تلے دل کا فیصلہ کہیں دب سا گیا ۔وہ کیا چاہتی ہے ؟اُسے کس سے محبت ہے ؟ اُسے کس کی ضرورت ہے ؟ ذہن میں ایک کھلبلی تھی ، سب سوالوں میں تصادم جو تھا۔ “میں دونوں کے ساتھ اِنصاف نہیں کر سکتی مگر کسی ایک کا ساتھ تو دینا ہی ہوگا۔صحیح ہو یا غلط__ دل مانے یا نہ __وعدہ پہلے وہی پورا ہونا چاہیے جس کا دھاگہ دل کی درگاہ میں پہلے باندھا جائے۔مجھے احمر کے پاس واپس لوٹ جانا چاہیے اِس سے پہلے کہ میری خودداری کی ملامت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میرا سر جھکادے ۔” وہ منگنی کی انگوٹھی نم آنکھوں سے اُتارتے ہوئے ایک نتیجے پر پہنچ چکی تھی۔
مہینے سمٹ کر ہفتوں ، ہفتے سمٹ کر دنوں میں تبدیل ہو رہے تھے ۔کشتی میں یوں چھید ہوا کہ بے چینی کے آب کو کُھلا راستہ مل گیا۔بزدلی کا گراف ایسے بڑھا کہ فیصلے کی قو ت گر نے لگی ۔وہ آج کی کل پر ٹالتی رہی اور خود سے بھاگتے بھاگتے صرف دو دن کا سفر رہ گیا ۔
شادی میں اب ایک دن باقی تھا کشتی کا پانی گردن کو بھگو چکا تھا ۔ “اگر آج میں نہ بولی تو ہمیشہ کے لیے پچھتاؤں کے سمندر میں ڈوب جاؤ گی۔میری زندگی کی کشتی کو سچ بیانی کی لہروں پر تیرنا چاہیے۔جھوٹ کے کنارے پر صرف افسوس کی منزل ہے ۔مجھے بولنا ہی ہوگا چاہے یہ دل ڈوب جائے پر ضمیر سلامت رہے۔” بند کمرے میں وہ اپنی ذات کی ہر گِرہ کھولنے میں لگی ہوئی تھی کہ کسی نتیجے پر پہنچنا اب بے حد ضروری تھا۔
آخر اُس نے فیصلہ مٹھی میں جکڑ لیا اور لفظوں کو جوڑ توڑ کر ترتیب دے ڈالی۔ دل میں واجد کی محبت کا آشیانہ تھا جسے دماغ نے انا کے حکم پر در بدر کردیا۔ جدائی تکلیف دہ ، تو دھوکہ دشمنِ جاں تھا ۔ وہ واجد کے بغیر جی سکتی تھی مگر احمر اور اپنی عزتِ نفس کو دغا دے کر نہیں ۔ ” میں واجد کو سب بتا دیتی ہوں وہ ایسی مکار لڑکی سے شادی کرے گا ہی نہیں اور پھر میں آزاد ہو گی اپنی پہلی محبت کی تکمیل کے لیے ۔” منصوبے کو جبراً عملی جامہ پہنا کر گہری سانس لی گئی۔
جمع کرنے سے بھی اتنی ہمت نہ ملی کہ وہ واجد کے روبرو ہمکلام ہوتی ۔ اُس نے موبائل پر دل میں پنہاں حقیقت تحریر کرنا شروع کردی ۔ وہ یہ پیغام بھیجنے ہی والی تھی کہ اُس پیغام سے بیس سیکنڈ پہلے کے پیغام نے اُس کا رشتہ اور محبت دونوں کی سانسوں کو بچالیا۔
محبت کو نیا جیون مل گیا تھا اور ضمیر پر بھی کوئی آنچ نہ آئی ۔اُس نے جس کشتی کو بچانا چاہا وہ درحقیقت خود ہی ڈوبونے والی تھی۔بیس سیکنڈ بعد ڈوبنے والی ہر رشتے کی کشتی بیس سیکنڈ پہلے منزل پر پہنچ چکی تھی۔ “میں سمجھ سکتا ہوں کہ تم مجبور ہو گی اِس لیے بے فکر ہو کر نئی زندگی شروع کرو۔اور ہاں سوری سبین شاید ہمارے بیچ جو تھا وہ ایک حماقت ہی تھی ۔ مجھے واقعی کسی اور سے محبت ہو گئی ہے اور دو دن بعد میری شادی ہے۔میں بہت خوش ہوں تم بھی خوش رہو۔” اُس نے لاتعداد بار احمر کا یہ پیغام پڑھا اور اپنی بیوقوفی کے ساتھ ساتھ سچی محبت کو پانے کے احساس سے دل سے مسکرا دی۔

___________________

حمیرا فضا

وڈیو دیکھیں: ننھے بچوں سے سنیں یو اے ای سانگ

Advertisements

2 thoughts on “بیس سیکنڈ _____حمیرا فضا

  1. Pingback: رختِ دل______آبیناز جان علی – SofiaLog.Blog

  2. Pingback:      “آسرا”______ثروت نجیب – SofiaLog.Blog

Comments are closed