”اب کوئی ماں بیٹی نہ جنے ”_____فقہیہ حیدر

ابلیس صفت آنکھیں
تانبے سے بنے ناخن حیوان نما سوچیں
سفاک لبادوں میں
ملبوس بھی انساں ہیں ؟؟؟
لعنت ہے سدا لعنت
مخلوق وہی ہے کیا اشرف ہے جو سنتے ہیں
شیطان وہی ہیں کیا جو پھول جلاتے ہیں
جو راکھ اڑاتے ہیں حیوان وہی ہیں کیا
اے میرے وطن والو اب ایک ہی رستہ ہے

انصاف نہیں مانگو چوراہوں میں لٹکا دو
قاتل کو عدالت مت جانا کہ وہاں بھی سب
قاتل ہیں درندے ہیں
انصاف تمخسر ہے
ہم لوگ تماشا ہیں وہ لوگ تماشائی
انصاف اگر مانگا دس سال لگیں گے یا
پھر کوئی کمیٹی بن جائے گی درندوں کی
تحقیق کریں گے جب تو یاد رکھوتب تک
بس ایک نہیں ہو گی
ہر بیٹی نظر آئے گی تم کو بنی زینب
مردار ضمیروں کے رکھوالو اٹھو بے حس
کرداروں کے متوالو ہے وقت اٹھو زینب
کا خون ہر اک بیٹی کا خون ہے سمجھو سب
لٹکا دو ہر اک قاتل لٹکا دو ہر اک ظالم
انصاف نہ مانگو اب
زنجیر ہلانے کا
اب وقت نہیں لوگو چھوڑو یہ ادا کاری
وہ ہاتھ جو تانبے کے ناخن سے بھرے ہیں نا
وہ کاٹ کے رکھ دو سب
انصاف یونہی ہو گا
انصاف یونہی لے لو
اور اب بھی اگر تم نے کہنا ہے مذمت ہے
اس قتل کی بس دکھ ہے
تو مر جاّو
یا ایک دعا مانگو________

اے کاش کوئی ماں بھی بیٹی نہ جنے بس اب

آمین کہو مردہ ہونٹوں سے کہو سارے
_____

شاعرہ:فقیہہ حیدر

کور ڈیزائن:ثروت نجیب

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.