“سیاہ کار بھیڑیا اور خون آلود پری”________از …..ثروت نجیب

نازک جسم کے زاویوں کو
تراشو وحشت کی آنکھ سے
اور نوچو اپنی ہوس سے یوں
کہ چیخ گلے میں رہ جائے
ظلم کی انتہا ‘ بے رحم صدا
عِصمت کے تجار ‘ قہرو قضا
یہ گندم گوں نازک اندام
غزال آنکھیں’ کلی سی خام
اپنی جنت سے دور پریاں
کسی کے بام کی چاندنی ہیں
کسی کی آنکھوں کا نور پریاں
پنکھڑی سی پنکھڑی ہیں
اپنی نزاکت سے چُور پریاں
کسی کے گھر کا نمک ہیں
معصوم مثلِ حور پریاں
افسوس اِن سے کھو گیا
چمکتا ہوا وہ ستارہ عصا
جو دیتا اِنھیں ترے باطن کا پتہ
ترے دستِ گرفت سے نکلیں
افسوس ! اِن کے پیروں میں پر نہیں ہیں
المیہ! جس جگہ اُتریں ہیں یہ
ُان تہہ خانوں میں در نہیں ہیں
مقدس صحن سے ہو کے اغوا
ہوس کے قدموں میں مر رہی ہیں
روشن عکسالہ گھما کے
کتنا کھینچو گے وحشتوں کو
لذتِ گناہ بھی کپکپائے
تم کو شاید ہی ترس آئے
گھناونے سفر پہ نکلے
سیاہ کار گمراہ گِدھو ـ ـ ـ ـ
شیطانیت کے ناخدا گِدھو ـ ـ ـ
پسماندہ آنگنوں کی ساری گلابی کلیاں گھبرا رہی ہیں
کہ کوچہِ بے نوا میں ‘ وہ کھو بھی جائیں
تو کون کھوجے؟
کون پوچھے؟
کس نے نوچا؟
کس نے مسلا؟
کس کی گدڑی کا لعل تھی تم؟
کس کی جبیں کا تِلک ؟
کہاں کا حسنِ کمال تھی تم ـ ـ ـ ـ
کس کے پّلو میں چھپ کے تم نے سُنی تھی لوری؟
اور کس نے دبوچا؟
ماں کس درندے کا منہ کھولے تمھارے لہو کی شناخت کو ؟
یہاں تو شھر کا شھر بسا ہے
سب ہی کے منہ کو لت لگی ہے
خون ہے بس صنفِ غریب کا
عصمت دری کے بحران میں
نکلا کبھی نا آشنا تو کبھی ہے بہت قریب کا
ڈھونڈتے ڈھونڈتے دشمنِ جاں کو
کھوج کی کڑیاں ملی وہاں پہ
جہاں مرقدِ انسانیت فنا تھی
ہر ایک پری زمین پہ آ کے
اپنے خدا سے بہت خفا تھی
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ

شاعرہ و کور ڈیزائن:ثروت نجیب

Advertisements

4 Comments

  1. آنکھ میں آنسو دے جانے والی،
    منہ سے زباں چھین لے جانے والی،
    روح کو کپکپی دے دینے والی
    گنگ کردینے والی،
    شاہکار نظم

    Liked by 1 person

Comments are closed.