Note to self by Connor Franta________ کتاب تبصرہ از صوفیہ کاشف

ایک چوبیس سالہ بلاگر ،انسٹاگرامر Connor Franta ,جسکی پہلی کتاب

A work in Progress

بہترین سوانحی عمری اور یاداشت کے طور پر نیویارک ٹائمزبیسٹ سیلر رہی ہے۔یہ کتاب اسکے زاتی احساسات اور واقعات اور اپنی شخصیت کے اندرونی تہہ خانوں تک روشنی کی لہریں لیجانے اور انکی تاریکی کو اجالے میں بدلنے کے سفر کی روداد ہے۔ایک ایسا سفر جو ہر نوجوان کے سامنے ایک سوال بنکر کھڑا ہوتا ہے جسے حل کرنے کی جراءت کوی کوی کر پاتا ہے ،ایک ایسا گرم جھلساتا ہوا سورج جسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا ہر جوان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اکثریت بہانوں ،معزرتوں اور شرمندگیوں کے پتوں تلے چھپ کر زندگی گزار لینے پر قناعت کر جاتے ہیں۔اسی لیے یہ کتاب بالخصوص اٹھارہ سے تیس سال تک کے جوانوں کے لیے ہے جو اپنی شناخت سے لیکر اپنی پہچان تک میں الجھے زندگی کے سمندر میں ہاتھ میں آ جانے والی کسی جھاڑی کی خواہش میں ڈوبتے ابھر رہے ہوتے ہیں۔اسکے موضوعات انکے کچھ مسائل کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی جرات کرتے ہیں اور انہیں آئینہ کے سامنے لانے میں مددگار رہتے ہیں۔یہ لکھاری کے اپنی زات کو دریافت کرنے کا سفر ہے،کب کب کس بات پر وہ پھوٹ پھوٹ رویا اور کب کب کس جگہ اس نے کس طرح خود کو سنبھالا،ذندگی کے وہ چھوٹے چھوٹے پھنسا دینے والے مسلئے جن سے جوانی کے مضبوط دامن اکثر الجھ جاتے ہیں اور پھر اسے کوی تسلی دینے والا نہیں ملتا ۔کوی یہ نہیں کہتا کہ”دیکھنا،،،سب ٹھیک ہو جاے گا!”اور یہی سادہ سا فقرہ بعض اوقات جوانی کی بہت بڑی ضرورت بن جاتا ہے۔پڑھنے والا خود کو ہر شے سے جڑا ہوا محسوس کرتا ہے ۔” کیا کریں اور کیا نہ کریں “کی مشکل میں سر تا پا الجھے ہوے جوانوں کے لیے یہ ایک بہترین دوست ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ یہ انکے ساتھ بیٹھ کر انتہائی دوستانہ انداز میں اور آسان الفاظ میں چھوٹی چھوٹی باتیں سمجھا دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کتاب تبصرہ(the girl on the train)

میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہ کوی بہت شہرہ آفاق کتاب ہے جسمیں جوانوں کے سب مسائل کا حل ہے۔مگر یہ ایک اچھی کتاب ہے جسکا مطالعہ اگر بہت ضروری نہیں تو غیر ضروری بھی نہیں۔خصوصا جب انکی سمجھ میں بہت سی عام باتیں سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی بیش بہا ترقی کے باوجود اکثر نہیں آ پاتیں۔اسکے باوجود کہ لکھاری کے کچھ زاتی مسائل ہمارے لیے عجیب ہو سکتے ہیں مگر انہیں نپٹنے اور حقیقت کا سامنا کرنا سکھانے میں مددگار بھی ہو سکتے ہیں۔

تیس سال سے اوپر کے افراد کے لیے یہ ایک اچھا ریمانڈر ہے ان باتوں کا جنکو ہم یاد رکھ رکھ کر بلآخر بھولنے لگتے ہیں۔وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جنہیں کبھی بڑی فرصت سے رٹا لگایا ہوتا ہے اب کسی سٹور کے اندھیرے کونے میں پھینک کر بھول چکے ہوتے ہیں۔یہ انہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر مبنی ہلکی پھلکی کتاب ہے جسمیں تصاویر ،اشعار اور کہاوتوں کے استعمال کے ساتھ انہیں مزید دلربا بنا دیا گیا ہے۔ایسے ہی جیسے ہم کسی ڈائجسٹ کے کنارے لکھے اقتباسات اور رسالوں میں لگے چھوٹے چھوٹے اقوال زریں سے دل کو بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ بھی ایک قلیل وقت میں دل بہلانے کا آسان نسخہ ہے جو کتاب کے اوراق پر آپکو تمام سوشل میڈیا اور انسٹاگرام کا آڈیو ویڈیو مزا مہیا کر دیتا ہے۔

۔میں نے یہ کتاب پہلی نظر پر ہی اٹھا لی تھی چونکہ یہ پہلی نظر میں ہی متاثرکن لگی تھی۔اسکی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اسے پڑھنے کے لیے پورا گھنٹا ڈھونڈنا ضروری نہیں،چھوٹے چھوٹے انشائیہ اور شاعری کے اوراق پر مشتمل یہ کتاب دس منٹ کی فراغت میں بھی تھوڑا سا دل بہلانے کے لیے کافی ہے اور اسی طرح یہ ان دس منٹوں میں کوی وحدانیت کی ،خدا اور اسکے معجزات کے وجود کی یا دنیا کے ثبات اور بے ثباتی پر مبنی کوئی ضخیم بحث نہیں کرتی بلکہ ہلکی پھلکی باتوں سے ہمیں وہ اسباق یاد دلاتی ہے جو دنیا کے شوروغل اور تیز رفتار زندگی میں ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔

میں نہی کہہ سکتی کہ یہ آپکی لائبریری کے لیے یہ ایک ضرور ی کتاب ہے مگر میں یہ ضرور کہتی ہوں کہ یہ میری لائبریری کے لئے ایک خوبصورت کتاب ہے جو کسی تھکے لمحے میں میرا دل بہلا سکتی ہے, ہلکیے پھلکے الفاظ سے ڈھیلے ڈھالے انداز میں کچھ مایوسی کا بوجھ بانٹ سکتی ہے اور اندھیرے کے سفر میں اک چھوٹی سی روزن مہیا کر سکتی ہے۔

___________________

صوفیہ کاشف

یہ بھی پڑھیں: پسندیدہ مصنف

Advertisements

3 thoughts on “Note to self by Connor Franta________ کتاب تبصرہ از صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s