“سپنج “……..از نوشین قمر

ابتدائی چند دن میری نئی صورت کی وجہ سے میرا بہت خیال رکها جاتا. مجهے احتیاط سے استعمال کیا جاتا. جوں جوں دن گزرتے گئے میرا لباس تار تار ہوا. میری صورت بگڑتی چلی گئی.میری جگہ کسی اور نے لے لی.مجهے اب ہر گندی چیز کو اچها کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا. آج ایک پڑوسن مجهے ادهار لے گئی اور واپس کرناتو دور کی بات اس نے مجهے اپنی ملکیت سمجھ لیا . میرے ساتھ ایسا سلوک ہوا کہ مجهے اپنے ہونے پہ اپنے وجود پہ سوائے رونے کے کچھ نہ آیا. میری حالت ناقابلِ بیاں تهی .میں گٹروں کے ڈهکنوں ،نالیوں کی سیر کرتے کرتے ایک جهونپڑی والوں کے ہاتھ لگا. مجھے ایک عرصے بعد نہلایا گیا تها. ادهر ادهر کے دهکے کهاتے کهاتے ایک دن کسی ریڑھی والے کی زینت بنا . سڑکوں پہ رلتا رہا.گلی محلوں کی سیر کی .کوڑے کے ڈهیر پر بهی چند دن گزارے .آج ایک گاڑی کے ٹائر نے مجهے روند ڈالا.میرے جسم کا ایک حصہ اس میں اڑ گیا .میں گهسٹتا ہوا ایک ایسے بازار میں آیا جہاں طبلوں کی تهاپ بهی تهی اور گهنگهرووں کی چهنکار بهی. ایک دکان والے کی نظر مجھ پہ پڑی تو مسکراتے ہوئے مجهے اپنی دکان پر لے گیا. ایک برتن میں زنگ سے بهرے گهنگرو پڑے تهے مجهے ان کی جمک بڑهانے کی خاطر استعمال کیا گیا. اس بازار میں آنے کے بعد میری عمر بلکل ڈهلتی چلی گئی. وہ وقت ہے کہ میں ایک کونے میں پڑا آخری سانسیں لے رہا ہوں. مجهه میں زمانے کی ہر چیز شامل ہے . دهتکار،گردوغبار، گالیوں کی بوجهاڑ،کچرے کی بهرمار،غلاظت کا پہاڑ اتنا کچھ کہ اب میں مکمل بهر چکا ہوں صرف نچڑ جانے کی گنجائش باقی ہے.میں مزید کچھ سہنے سے قاصر ہوں .

یہ بھی پڑھیں:مُلک سلمان

مگر سنو!

میرے جیسا ایک اور کردار بهی تو ہے .جو گردشِ ایام کی تمام تر ٹهوکریں سہتا ہے .برداشت کرتا ہے .اپنے اندر ہی اندر سب سموتا چلا جاتا ہے .ضبط کرتا قطرہ قطرہ نچڑتا اپنی زندگی گزار دیتا ہے. پهر ایک ایسا وقت بهی آتا ہے کہ بغاوت کا علم بلند کرتے لاوے کی طرح پهٹ پڑتا ہے .

کلثوم بهی آج وہ علم بلند کرتے ہوئے نچڑ چکی ہے .شوہر کے گلے میں پهندا ہے .جو بیچ چوراہے پتھروں میں گهرا کهڑا ہےاور کلثوم کی گود میں تار تار ہوا ایک بے جان جسم پڑا ہے .

______________

نوشین قمر
ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد.

کور ڈیزاینر:ثروت نجیب

وڈیو دیکھیں: قراقرم ہای وے کا سفر

Advertisements

10 Comments

  1. اتنے خوبصورت کور کے لیے بہت شکریہ ثروت اور اتنی محبت کا بہت شکریہ صوفیہ سلامت رہیں.

    Liked by 1 person

Comments are closed.