ساون_________اے_کے_آصف

برسنا سرد ساون کا
اور اس پر اسکا یاد آنا
بڑا مشکل ہے میرے واسطے
اب اس ظالم کو بھلانا

جو کہتا تھا میں تیرا ہوں
فقط تیرا ہی رہنا ہے
تیرے بن رہ نہیں سکتا
تجھے اب یہ بھی کہنا ہے

تو میری ہی رہے گی۔۔
اور میں تیرا رہوں گا اب
کوئی تیجا نہیں ہوگا
مکمل ہم پہ ہوگا سب

فقط خوشیاں ،بہاریں اور تیرے قہقہے ہونگے
کھنکتی چوڑیاں ہر سو پرندے چہکتے ہونگے

مکمل اب تیرا ہر پل میرے حسار میں ہوگا
بسر ہر ایک لمحہ اب صرف بہار میں ہوگا

۔
مگر ۔۔۔
وہ خواب تھا سب کچھ
۔

نہ خوشیاں تھیں، نہ قہقے تھے، نہ وہ حسین یادیں تھیں
فقط کہنے کی باتیں تھیں
مکمل نہ وہ میرا تھا ۔۔۔
نہ میں چوڑی سی کھنکی تھی
نہ چہکی تھی نہ مہکی تھی بس اس سے اتنا کہتی تھی
کہ ایسا کیا کیا میں نے ؟
کی تم اکھڑے سے رہتے ہو
نہ سیدھی بات کرتے ہو
نا اب تم مجھ پہ مرتے ہو
تو کہنے وہ لگا مجھ سے ۔۔۔۔
کی تم میں ہے ہی ایسا کیا ؟
کہ تم پر مر لیا جائے
مکمل ہوگیا ہوں میں
یہ جملہ بھی کہا جائے
۔
چلو جائو
یہ کتابی محبت اب یہاں پر کون کرتا
ہے ؟
بھلا یہ بھی محبت ہے کہ جاں تک دے دی جائے
جو سب سرسبز جھوٹے خواب ہیں، پورے کیے جائیں

میری جاں!
اب یہاں اس دور میں رانجھے نہیں ملتے
چلو جائو بھلا دو سب ۔۔۔کہ اب رانجھے نہیں ملتے

یہ کہہ کر وہ جو پلٹا تھا
تو اب تک وہ نہیں لووٹا ۔۔۔
میں تب ان تلخ باتوں پر بہت دن تک تو روئی تھی
کئی راتیں نا سوئی تھی
پر اب جو حال تکتی ہوں
تو کچھ میں بھی سنبھلتی ہوں
کہ باتیں ٹھیک کہتا تھا
یہ کتابی محبت اب یہاں پر کون کرتا ہے ؟
کہ سب وحشی درندے ہیں
جو حرس و حوس کو اب محبت نام دیتے ہیں
مگر میں اب یہ سمجھی ہوں
کہ تب تو کملی جھلی تھی
جو ان باتوں کو نہ سمجھی
میں تب سب ہار بیٹھی تھی
کہ کر میں پیار بیٹھی تھی
جو اس وحشی کو نا سمجھی

مگر اے بنت حوا اب تجھے اک بات کہتی ہوں
زرا محتاط رہنا تم
کہ یہ اکیسویں ہے
اب یہاں پنوں نہیں ملتے
صرف بازار لگتے ہیں
جہاں بیوپار ہوتے
سب اداکار ہوتے ہیں
میری لیلی یہاں پر اب کوئی مجنوں نہیں ملتے
فقط وحشی ہی ملتے ہیں
میری بھولی یہاں پر اب کوئی رانجھے نہیں
کہ اب رانجھے نہیں ملتے
___________
اے-کے-آصف

فوٹوگرافی:فرحین خالد

وڈیو دیکھیں: ایک بارش

Advertisements

One thought on “ساون_________اے_کے_آصف

Comments are closed.