غزل________رابعہ بصری

رنگ میں روشنی کا قائل ہے
بات کی تازگی کا قائل ہے

تتلیاں بھی اسیر ہیں لیکن
وہ مری سادگی کاقائل ہے

یہ قلم ہے رواں اسی کے لئے
جو مری شاعری کا قائل ہے

جرم میرا بهی اپنے سر لے لے
وہ عجب منصفی کاقائل ہے

مونس و مہرباں رہا میرا
عشق میں واحدی کاقائل ہے

فکرِ تازہ اُجال رکھتا ہے
چار سُو آگہی کا قائل ہے

کوئی مسند اسے نہیں جچتی
آج بھی وہ دری کا قائل ہے

وقت پڑنے پہ جان دے دے گا
ایسی دریا دلی کا قائل ہے

اس پہ مشکل کبھی نہیں رہتی
جو بهی میرے علیؓ کا قائل ہے

____________

شاعرہ:رابعہ بصری

فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

ویڈیو دیکھیں:قراقرم ہای وے کا سفر

Advertisements

4 Comments

  1. کوئی مسند اسے نہیں جچتی
    آج بهی وہ دری کا قائل ہے

    بہت عمدہ
    دومصرعوں میں اتنا خوبصورت پیغام

    Liked by 1 person

Comments are closed.