“مُلکِ سیلمان “_____از ثروت نجیب

سربیا سے آنیوالی سنساتی سردی کی لہر ریڑھ کی ہڈی میں پیوست ہوتی ہوئی اس کے وجود میں تیز دھار آلے کی طرح چبھتی گلاب جان کے روم روم کو شل کر رہی تھی ـ وہ مہاجر کیمپ کے سلیپنگ بیگ میں بار بار اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں ہلا کر خون میں گرمی کی ذرا سی رمق پہ خوشی سے رو پڑتا پر کم بخت آنکھوں سے آنسوکہاں نکلتے تھے ـ وہ تو اسی دن جم گئے تھے جب وہ آئے روز بم دھماکوں سے تنگ آ کر ایک کنٹینر میں بیٹھا کابل کی پیالہ نما وادی سے کوچ کر کے ترکی سے یونان پہنچا پھر وہ خزان آلود زرد پتے کی طرح کہاں کہاں گرتا پڑتا رہا اس نے حساب ہی نہ رکھا ‘ اب بھی وہ کسی مہاجر کیمپ کے خیمے میں سلیپنگ بیگ کے اندر چت لیٹا ان دنوں کو یاد کر ریا تھا جب اسے لگتا تھا اس کا باپ چاہتا ہی نہیں وہ زندہ رہے ـ گاؤں کے چند لڑکے ارداہ کر چکے تھے کہ وہ غرب جائیں گے پر ٹریول ایجنٹ تو پیسے مانگتا تھا اور اس کے پاس تو ذاتی خرچ کے پیسے بھی نہیں تھے اور پلار جان کا موقف تھا اتنی رقم باہر جانے کے لیے مصرف کرنے سے بہتر ہے یہاں کوئی دکان کھول لو ـ وہ چِلاتا یہ جو آئے دن دھماکے ہوتے ہیں گھر سے باہر قدم نکالتے ہی یہ اندیشہ سر پہ سوار یو جاتا ہے واپس زندہ پلٹ سکوں گا یا نہیں؟ باپ اپنی سفید داڑھی کو کھجاتے ہوئے کہتا ـ سوویت جنگ میں شوروی فوج کا گولہ میرے قریب آ کر پھٹا پر میں زندہ رہا ـ خانہ جنگی کے دور میں بھی ہجرت نہ کی ابھی تک زندہ ہوں اور تُو موت سے بھاگتا ہے ـ موت آتی کب ہے موت تو بلاتی ہے ـ اسے اب سمجھ آ گی تھی کہ زندگی کا فلسفہ موت سے عبارت ہے ـ اب تو وہ باپ کے جھریوں ذدہ لرزتے ہاتھوں کی حرارت کو بھی ترس گیا ـ وہ کیا کرتا جوانی کے خواب ضعیفی کے دکھ نہیں سمجھ سکتے وہ دنیا کو اپنی نگاہ سے دیکھنے کے لیے بےچین تھا اسے کیا خبر تھی تجربے کی کنگھی پاس آتی ہے تو تب تک سر کے سارے بال جھڑ چکے ہوتے ہیں ـ فلموں میں نظر آنے والی گوری شوخ حسیناؤں کی کشش تو کبھی کھلے ماحول میں بلا روک ٹوک عیاشی کی آرزویں اور کبھی ہرے ہرے ڈالروں کی کڑک جس کی کھنک سنتے ہی غربت کا عفریت چکنا چور ہو جاتا ہے ـ رنگین خوابوں کا طلسم تو تب ٹوٹا جب پیٹ کی حرارت کو تسکین دینے کے لیے اس نے بار بار جسم کی گرمی کاسودا کیا احتلام ذدہ خوابوں کی تعبیر میں اس کے وجود کو محبت بھرے لمس کے بجائے وحشت ملی جو اس کے دل کی طرح گداز جذبوں کو کچلتی ‘ اس طرح بھنبھورتی کہ کبھی کبھی خود سے کراہیت محسوس ہونے لگتی ـ جیب میں اڑسے ہوئے وہ چند سکّے بھی اب برف کے گولوں کی طرح یخ ہو کر اس کےدل کو داغ رہے تھے ـ اسے ماں کا آنچل یاد آنے لگا گرم نرم جس میں لپیٹ کر جب وہ تھپکتے ہوئے کہتی لّلو لّلو میری آنکھوں کا نور لّلو ‘ میرے دل کا سرور لّلو ـ ـ ـ ـ جار جار ـ ــــ قربان لّلو ـــــ اور پھر پّلو اٹھا کر دیکھتی سویا کہ نہیں ـ جب وہ بھوری کھلی ہوئی آنکھیں دیکھتی تو بے اختیار وہ مسکرا اٹھتا اور ماں پیشانی پہ بوسہ دیتی ـــــ اللہ ھو للّو لالوـ ـ ماں کو چھوڑ کر ممتا کی تلاش میں نہ نکل ـ گلاب جان کبھی گھر چھوڑنے کی دھمکی دیتا اور کبھی کہتا پیسے پیارے ہیں تم لوگوں کو میری پروا کسے ہے ـ ایک دن ماں نے طلائی کنگن بیچ کر پیسے گلاب جان کی جیب میں اڑس دیے اور وہ راتوں رات ایجنٹ کو تھما کے رختِ سفر باندھے ہواؤں میں اڑتے خوابوں کو گیر کرنے کنٹینر میں خوشی سے سوار ہو گیا ـ

یہ بھی پڑھیں: جدائی

دن رات اٹھتے بیٹھتے حاجی آدم اپنا غصہ بیوی پہ نکالتا اسے احساس دلاتا مر کھپ گیا ہوگا کہیں مہینے گزر گئے کوئی اطلاع نہیں دی ـ کبھی وہ کسی کشتی کے الٹنے کی خبر دیتا جس میں افغان مہاجر لڑکے بھی شامل تھے ـ گلاب جان کی ماں ہولناک خبریں سن سن کر اندر ہی اندر ملامت اور پشیمانی کے زہر سے گھائل ہونے لگی تھی ـ پر وہ کیا کرتی وہ تو اس دن ہی دہل گئی تھی جب چہار راہی میں دھماکے کے وقت وہ موت کے منہ سے نکل کر گھر آیا تو زردے کی طرح پیلا چہرہ ‘ سفید قمیض کالک سے لتھڑی ہوئی ‘الجھے ہوئے سرمئی بال دھوئیں اور ریزوں سے آٹے وحشتاک حد تک سیاہ ہو چکے تھے ـ خوف سے سِلی زبان کئی دنوں تک سِلی رہی ـ اس نے جدائی کو گوارا ہی اس لیے کیا تاکہ وہ دل کا ٹکڑا نظر سے دور سہی پر محفوظ اور سلامت تو رہے ـ اسے جب گلاب جان کے سرخ گلابی چہرے کی یادآتی تو بیٹے کی قمیض تکیے کے نیچے سے نکال کر اسکی خوشبو سونگھ کر اشکوں میں بھگو کے واپس رکھ دیتی ـ
یونان سے ایکبار گلاب جان نے کال کی تھی مگر باپ کی گرجدار آواز میں گرج کے بجائے گھمبیر ادسی تھی وہ آلو آلو آلو کرتا رہا مگر گلاب جان کی آواز رندھ گئی وہ رسیور پھینک کر بوتھ نے نکل کے زانو میں سر دے کر ہچکیاں لے لے کر رونے لگاـ کوئی دستِ شفقت کہاں تھا جو تسلی دیتا اس بوتھ سے نکلنے والے سبھی آستینوں سے آنسو پونچھتے گزر رہے تھے ـ

سردی کی ایک اور تند تیز لہر اس کے جسم میں سرایت کر گی وہ تھر تھرا کر رہ گیا ـ پاؤں کی انگلیاں باوجود کوشش کے اب حرکت کرنے سے قاصر ہو گئیں ـ
اس نےآنکھیں موند لیں اورخیالوں میں ماں کے چہرے کا طواف کرنے لگا ـ کیا وہ اس بار بھی سمنک بنانے کےلیے گندم خرید لائی ہوگی ـ کیا وہاں بھی برف پڑی ہوگی یا لالہ کے پودوں پہ ہریالی آ چکی ہوگی ـ ماں کے احساس میں کتنی حدّت تھی محض یاد کرنے سے ہی ممتا کی حرارت نے اسے سینکنا شروع کر دیا ـ جیسے باہر برف کے بجائے دھیمی دھیمی ٹکور دیتی دھوپ نکل آئی ہو ـ اس نے تہیہ کر لیا آج رات جیسے تیسے گزر جائے صبح ہوتے ہی وہ خود کو ڈیپورٹ کر دے گا ـ اسی خیال میں وہ ٹھنڈی دوزخ کو فراموش کر کے ماں کی آغوش میں آنکھیں موندے خوابوں کی ایک تابناک وادی میں جا پہنچا ـ

یہ بھی پڑھیں:پچاس لفظوں کی کہانی

مورے مورے وہ آوزیں دیتا گھر میں داخل ہوا ماں توشک پہ بیٹھی تکیے سے ٹیک لگائے خلاؤں کو گھورتے اداسی کی بکل مارے بیٹے کی یادوں میں غرق تھی ـ ـ ـ مورے مورے کہاں ہو تم ـ ـ ـ بھئو بھئو کرتے اس کا پالتو تازی کتا اس کے اردگرد دم ہلاتا پاؤں چاٹنے لگا اس نے سر پہ ہاتھ رکھ کے زرا سا سہلایا اور ماں کے کمرے کی جانب چل پڑا ـ ماں نے دراوزے پہ ٹنگی آنکھیں راہ میں بچھاتے ہوئے دونوں ہاتھ کھول کر کہا بسم اللہ ‘ بسم اللہ گلاب جانہ پخیر پخیر ماں کی ٹھنڈی پیشانی پہ بوسہ دیتے ہوئے اس نے منہ بناتے ہوئے کہا پناہ تو مل گئی تھی مجھے میں تو صرف یہاں تیری خاطر آیا ہوں ـ ماں نے ہاتھ چومتے ہوئے دلگیر آواز میں کہا میں اب کبھی تجھے واپس نہیں جانے دوں گی ـ اس نے ماں کا ہاتھ دباتے ہوئے کہا نہیں جاؤں گا ماں ــ ـ ـ ـ ـادھر صبح پیرس کی سینٹ مارٹن نہر کے کنارے بلدیہ والے کیمپ سے برف میں مدفن سلیپنگ بیگ سے اکڑی ہوئی انیس سالہ افغان مہاجر لڑکے کی لاش کو نکالنے میں ناکام ہو گئے تو بیگ سمیت بلدیاتی موٹر میں دھکیل دیا ـ ادھر ماں کی آخری رسومات میں بہنیں پردیسی بھائی کا رستہ دیکھتی رہ گئیں ماں کا دل حرکتِ قلب کے بند ہونے سے ہمیشہ کے لیے اسی رات خاموش ہو گیا تھا جس رات گلاب جان کو حقیقی پناہ مل گئی تھی ـ

__________________

مصنفہ و کور ڈیزاینر:

ثروت نجیب

یہ بھی پڑھیں:ہم عظیم ہوتے گر

Advertisements

10 thoughts on “    “مُلکِ سیلمان “_____از ثروت نجیب

  1. فرحین خالد

    واہ ۔۔۔ بہت ہی دلگیر فراق و ملال کی کہانی۔۔ کتنے ہی ماؤں کے لعل زندگی کی تلاش میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ماؤں کو ان کا انتظار لے گیا۔ ممتا کی تپش میں گندھی پہترین کہانی!! مبارکباد! ❤️

    Liked by 2 people

  2. Pingback: “سپنچ “……..از نوشین قمر – SofiaLog.Blog

  3. Pingback: بیس سیکنڈ مصنفہ _____حمیرا فضا – SofiaLog.Blog

  4. Pingback: “کھڑکی کے اس پار “_______فرحین جمال – SofiaLog.Blog

  5. Pingback: تحریر ۔ حمیرا فضا۔۔ (زندگی ) صرف گڑھ مہاراجہ نیوز پر – http://www.garhmaharajanewsdaily.com

Comments are closed