سونے دو_____از نور العلمہ حسن

‏اقبال کے بوڑھے شاہین گو ابھی زندہ ہیں،
مگر اِنہیں سونے دو۔۔۔

میرے بزرگ گو ابھی زندہ ہیں،
مگر انہیں رونے دو۔۔۔

آخر کیوں نہ وہ روتے دھوتے رہیں جبکہ،
یہی ہیں وہ خیال پرور جنکا کہنا تھا،
“جو ہوتا ہے ہونے دو”

نہ روکو مجھ کو سخن طرازی سے؛
خیال کے برنگ موتی ہیں مرے پاس،
مجھے اِن کو پرونے دو۔۔۔

بہت ہے امیدِ زرخیزی مجھے اِس بظاہر بنجر زمیں سے بھی،
شعور و تہذیب کا فقط اک تخم،
مجھکو یہاں بونے دو۔۔۔

آج جاگیں گے تبھی،
یہ نوجواں ہونگے کل اپنا،
سو اِن معماروں کو آج،
اپنی نیند کھونے دو۔۔۔

مرے نامے کا بوجھ تم کب اٹھاؤ گے،
اپنے اعمال کی مشقت، خود مجھے ڈھونے دو۔۔۔

___________

شاعرہ:نورالعلمہ حسن

فوٹوگرافی:فرحان ریاض

وڈیو دیکھیں:قراقرم ہای وی کا اک سفر

Advertisements