غزل________اُم کلثوم

اب کے برس ہم نے بھی خود شناسائی کا ارادہ کرلیا ہے
تمہیں بھلا کے ہم نے بخت آزمائی کا ارادہ کرلیا ہے
بہت کہا تھا تجھے, ساتھ ساتھ چلتے ہیں
اب ساتھ چلنا بھی چاہو تو ہم نے جدائی کا ارادہ کر لیا ہے
آج تک اسیر تھی میں تمہاری یادوں کی
اب تم آؤ یا نہ آؤ ہم نے رہائی کا ارادہ کر لیا ہے
شیخ جی تھے امیر شہر کے گھر, اور وعظ جی میخانے میں
ہم جب پی کر نکلے تو رہنمائی کا ارادہ کرلیا ہے
ترے علاوہ جانے کیوں سب اجنبی سے لگتے تھے
آج ہم نے ان سب سے آشنائی کا ارادہ کر لیا ہے
سوچتی ہوں زندگی کا کُل تو ہی تو نہیں ہے
میں نے بھی نئے موسموں کی پزیرائی کا ارادی کرلیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُم کلثوم

فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

وڈیو دیکھیں:ننھے منے بچوں کے گیت

Advertisements