” عورت ” ________از ثروت نجیب

محبت میں گُندھی ہوئی
بہتے پانی کی طرح پاکیزہ
چاند سے بھی احسن
چاندنی سے ذیادہ حسیں
بنیاد ہر بندھن کی
تخلیق کے وصف کی امیں
وفا کی خوش گِل مورت
بہشتِ بریں ـ ـ ـ
گہوارہ بھی ‘ سیپارہ بھی
درسگاہِ اولیں ـ ـ ـ
کائنات کے ماتھے کا جھومر
زمیں کی جبیں ـ ـ ـ
ہوا کی طرح لازم
پانی کیطرح لطیف
آھن کی طرح پختہ
تتلی کی طرح نحیف
خوشبو سی مہکی ہوئی
ڈالی کی طرح لہکی ہوئی
کہیں قوسِ قزع بن کے
چمکے ہر جا ٹھن کے
کبھی چار دیواری میں
پسِ پردہ کہیں عاکف ہے
وفا کا استعارہ ‘ عزت کا نور پارہ
دنیا کے چمن میں ـــ ـــ ـــ ـ
اک پھول کی مانند ہے
خامی ہے تو بس اتنی سی
کہ خود سے ہی ناواقف ہے ـ ـ ـ ـ

____________

شاعرہ:ثروت نجیب

کور ڈیزائن:صوفیہ کاش

Advertisements

1 Comment

Comments are closed.