” بد نصیب باشندے”_____ثروت نجیب

شکستہ محلات کے دریچوں سے جھانکتی آہیں
قرن ہا قرن قدیم کوچے کھنڈر کھنڈر
جوان بیواؤں کی طرح بین کرتی ہوئی لرزتی راہیں
خشک اشکوں سے گریہ کرتی ہوئی گلیاں ساری
بکھرے کواڑ ‘ جا بجا ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں کی باہیں
لڑکھڑاتی ہوئی ہر عمارت کو اس خوف سے تکتی سڑکیں
اکھڑے ہوئے وجود پہ اب گریں کہ اب گریں ـ ـ ـ ـ
صفِ ماتم کی طرح بچھی ہوئی حیراں کرچیاں
کِس کے پاؤں میں چُبھیں کہ احساسِ ہستی جاگے
یہاں شھر نہیں تہذیب تلپھٹ ہوئی ہے ابھی
وہی تہذیب جو کبھی فصل اگانے کا ہنر دیتی تھی
جو فصیلوں میں گِھرے پختہ گھر دیتی تھی
وہی تہذیب جو سکھاتی تھی تحریر رقم کیسے کریں
جس نے وقت کو دو سوئیوں میں دبوچ کر ستاروں پہ ڈالی تھی کمند ‘
وہی تہذیب جو بتاتی تھی مے کے پیالوں میں کنول کیسے بھریں
جس نے سکھایا دنیا کو حساب کیسے کریں
وہی تہذیب جو واقف تھی اندازِ کوزہ گری سے
راہ کے نقش تراشے ‘ بتایا دھرے پہ پہیہ کیسے دھریں
وہی تہذیب جو منقش تھی عظیم تمدن سے
وہی تہذیب جو مرصع تھی لٹکتے ہوئے عدن سے
ہاں وہی تہذیب آج مرقع ہے ریت و راکھ کے رن سے
یاس کے سیاہ بال کھولے نوحہ پڑھتی ہے
ہائے ـــــ ـــ ــ ـــــــ لبِ فرات پہ لہو سے لِتھڑا بابل
ہائے ـــــــــــ ـــــــــ بارود و دُود میں مدفن شام
ہائے ــــــــ ـــــــــ یمن ‘ دمشق بیروت و کابل
ہائے ـــــــ ـــــــــ ـ خوف سے لرزتے اقصیٰ کے بام

باڑوں سے الجھتے ہوئے در بہ در خاک بہ سر
ڈوبتے ‘ ابھرتے دھتکارے ہوئے’ ہارے ہوئے ـ ــــ
یہ لوگ نہیں ـ ـ ـ ـ
ویی تہذیب بھٹکتی ہے پناہ دو مجھ کو
آثار قدیمہ کی کتابوں سے نکالو ‘ راہ دو مجھ کو
موجد اولیں بادباں کی ترستی ہے کشتی کےلیے
تہذیب کے گہوارے میں بلکتی ہے ہستی کے لیے
گھر نہیں دیتے نہ سہی ـ ـ ـ ـ ـ ـ
عہد گزشتہ کی کسی ادھ مٹی تختی کی طرح
یا مورتی سمجھ کر میوزیم میں سجا لو مجھکو
نئی تہذیب جو میرے مستعار تمدن سے پنپتی ہے
اسے کہو ایک بار پھر سے اپنا لو مجھ کو ـ ـ ـ ـ

___________

از ثروت نجیب

فوٹوگرافی: صوفیہ کاشف

وڈیو دیکھیں: ٹونی ہیڈلے لائیو ان کنسرٹ”to cut a long story short”

Advertisements

3 Comments

  1. Zabardast very good, bht khoob or bht umda likha hy, keep it up 👌🏻👌🏻👌🏻👌🏻👌🏻🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌹🌹🌹🌹

    Liked by 1 person

Comments are closed.