جدائی …….. ام کلثوم

جدائی

فون کی گھنٹی بج رہی تھی میں برتن دھونے میں مصروف تھی نہایت بیزاری سے ہاتھ پونچھ کر ریسیور اٹھایا اور دوسری طرف سے آنے والی شیریں آواز سن کر ساری کوفت سرشاری میں بدل گئی. شکر ہے ماں جی پڑوس میں گئیں ہوئی تھیں ورنہ ابو سے بات کرنا بہت مشکل ہوجاتا
“کیسی ہو میری چڑیا”؟
ابو ہم چاروں بہنوں کو پیار سے چڑیا کہہ کر ہی پکارتے تھے وہ چڑیاں جو بابل کے آنگن سے کب کی ہجرت کر چکی تھیں

“ابو میں بالکل ٹھیک ہوں, آپ کیسے ہیں “؟میری آواز خوشی اور خوف کے امتزاج سے لرز رہی تھی
” میں تو ٹھیک ہوں میرے بچے! لیکن تم ٹھیک نہیں لگ رہی, گھر پر سب خیریت تو ہے نہ کوئی پریشانی تو نہیں “؟ ابو پریشان سے ہوگئے
“نہیں ابو ایسی کوئی بات نہیں سب ٹھیک ہے شاید فون کی لائن میں کچھ مسئلہ ہو”. میں نے کافی حد تک اپنی آواز میں بشاشت لاتے ہوئے کہا.
“اچھا تو پھر یہ بتاؤ کہ کب آرہی ہو ؟ اتنے دن سے تمہیں دیکھا نہیں”.

یہ بھی پڑھیں:ملامت
“وہ ابو! میں….. (کوئی بہانہ نہیں سوجھ رہا تھا)
میں نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا.
“میرے بچے میں جانتا ہوں کہ اتنے بڑے کنبے کی بڑی بہو ہونے کے ناطے تمہاری ذمہ داریاں کافی زیادہ ہیں, لیکن تھوڑی سی دیر کے لئے تو آہی سکتی ہو نہ”
ابو شائد مجھ سے ملنے کو کچھ زیادہ ہی بیتاب تھے ورنہ پہلے کبھی ایسا اصرار نہیں کیا تھا.
“ہاں ابو ! جلد ہی آنے کی کوشش کرونگی “. میں نے اٹکتے ہوۓ بات بنائی ( کیا بتاتی کہ حماد نے معمولی سی بدمزگی کی وجہ سے میرے میکے جانے پہ واشگاف الفاظ میں پابندی لگادی ہے)

“کوشش نہیں بیٹا! اگر ہوسکے تو آج شام یا کل صبح تک چکر لگا لینا, بہار کا موسم بہت تیزی سے گزر رہا ہے اور میرے بچے خزاں کو آتے دیر کتنی لگتی ہے “. ابو نے تھکے تھکے لہجے میں کہا
“ابو وہ دراصل حماد صبح کے گئے رات کو آتے ہیں بچے ابھی چھوٹے ہیں اکیلی ٹیکسی میں نہیں آسکتی, دونوں دیوروں کی اپنی مصروفیات ہیں لیکن آج شام کو حماد سے کہتی ہوں “. میں جانتی تھی کہ ابو سے جھوٹ بول رہی ہوں لیکن سچ زیادہ کڑوا تھا.
اور میرا شاندار وباوقار باپ فوراً بیٹی کی مجبوری بھانپ گیا
“کوئی بات نہیں میری چڑیا! ماشاءاللہ حسن اب نو, دس سال کا ہوچکا ہے بس دو چار سال کی بات ہے اس کی داڑھی مونچھ بھی آجاۓ گی اور وہ ڈرائیونگ بھی سیکھ لے گا پھر وہ خود اپنی ماما کو ہم سے ملوانے لاۓ گا, میری بچی چند سال اور….. تم تو میری بہادر بیٹی ہونا…. ”

وڈیو دیکھیں:ننھے فرشتے کے ساتھ ایبٹ آباد کی سیر

شام کو حماد آۓ تو میں نے چاۓ کے ساتھ گرم گرم پکوڑے پیش کئے. میری آؤ بھگت سے وہ سمجھ گئے کہ کسی معاملے میں مجھے ان کی اجازت درکار ہے. روکھے پن سے بولے, “خیر تو ہے آج تو بہت واری صدقے جارہی ہو؟ کوئی کام ہے کیا؟؟
میں نے ڈرتے ڈرتے منہ کھولا…
“وہ میں….. اگر… آپ کی اجازت ہو تو ایک آدھ گھنٹے کے لئے ابو کی طرف چلی جاؤں ؟ بہت یاد آرہے ہیں ”
“اوہ تو یہ بات ہے”.
حماد کی آواز غراہٹ میں تبدیل ہوگئی
“کہیں میری غیر موجودگی میں تم نے پھر سے فون پر ان لوگوں سے رابطہ تو نہیں کیا جو یوں اچانک سے ان کی یاد ستانے لگی “.
(میں کیا بتاتی کہ یاد تو ہر پل آتی ہے)
“نہیں…. نہیں تو…. وہ.. میں تو بس ایسے ہی….. پلیز صرف آدھے گھنٹے کے لئے….. ” میں نے تقریباً گڑگڑاتے ہوۓ کہا, ابو کا اصرار بار بار یاد آرہا تھا.

“اچھا ٹھیک ہے چلی جانا…… ”
حماد نے گویا حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے کہا.
میں تو خوشی سے کھل اٹھی لیکن حماد کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی.
“جانا چاہتی ہو تو چلی جاؤ, لیکن پھر واپس مت آنا…. اور ہاں…. بچوں کو لے جانے کا سوچنا بھی مت…. ”
الفاظ تھے کہ زہریلے خنجر ؟؟؟
میں تو گم سم رہ گئی اور دھڑام سے زمین پر بیٹھ گئی. کبھی بے بی کاٹ میں سوۓ ہوۓ منے کی طرف دیکھتی, کبھی ابو کا پرنور چہرہ میری بصارتوں کو دھندلانے لگتا. عجیب درد, بے بسی اور کشمکش کا عالم تھا. کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی فیصلے کی گھڑی اتنی کھٹن اتنی جان لیوا…….. اچانک ابو کی مہربان آواز سماعتوں سےٹکرائی, ” میری بچی! بس چند سال اور صبر کر لو, تم تو میری بہادر بیٹی ہو “.

یہ بھی پڑھیں:آئینے میں کچھ اور پچھتاوے

حماد اپنا فیصلہ سنا کر سٹڈی روم جا چکا تھا اور میں آہستہ آہستہ سےاپنے ریزہ ریزہ وجود اور کرچی کرچی دل کو سمیٹے ہوئے اٹھی اور منے کو اپنی بانہوں میں بھر لیا. اس وقت یہی فیصلہ مناسب لگا…. سارہ, ابیہہ اور حسن تینوں آکر مجھ سے لپٹ گئے

اگلے دن حماد نے بریانی کی فرمائش کر ڈالی. مغرب کی اذانیں ہورہی تھیں. کتنی حیرت کی بات ہے نہ کہ جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی تھی اور میں بریانی بنانے میں مصروف تھی.
فون کی گھنٹی بجی, حسن نے بھاگ کر فون اٹھایا. حماد اپنے بھائیوں کے ساتھ ٹی وی پر میچ دیکھ رہے تھے. حسن کچن کے دروازے پر آ کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا. “ماما نانی امی کا فون ہے لیکن وہ رورہی ہیں”.
میں ڈر گئی……… اس لئے نہیں کہ میری ماں رو رہی تھی بلکہ اس لئے کہ امی کے فون پر جانے حماد کا کیا ردعمل ہو…. ان کا موڈ تو خراب ہوا لیکن منہ سے کچھ نہ بولے.
میں نے ریسیور اٹھایا, “امی! کیا ہوا ہے ؟ آپ کیوں پریشان ہیں ؟
(گھبراہٹ میں امی کو سلام بھی نہیں کیا)
امی نے جو جواب دیا وہ لکھنے کی نہ تو اس دل میں ہمت ہے نہ میرے قلم میں اتنی سکت….. لیکن میرے پیارے ابو….. ہمیں چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے جاچکے تھے.
اف!!!!!!!! کیا میں زندہ رہ پاؤنگی ؟؟؟ یہ گھر… یہ بچے… یا دنیا کی کوئی اور شے…. کوئی بھی خزانہ… میرے ابو کا نعم البدل ہوسکے گا… کبھی نہیں… کبھی بھی نہیں…

ابو اپنے سفید الوداعی لباس میں خاموش لیٹے ہوئے تھے. میں ایک مجرم کی طرح ان کے قریب آئی اور سرگوشی کی. ” ابو! دیکھیں نہ میں آگئی ہوں آنکھیں کھولیں ابو! میں آپ سے ملنے آئی ہوں آپ کو میرا انتظار تھا نہ….. ”
پتہ نہیں ابو تو ہم سے کبھی ناراض نہیں ہوتے تھے اس دن آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا….. میں نے منتیں کیں, دہائیاں دیں لیکن وہ ایک لفظ نہ بولے…. میں بلکنے لگی…. ابو تو میری ایک سسکی پر تڑپ اٹھتے تھے آج کیا ہوگیا ؟؟؟؟…… یہ سب کچھ کیسے بدل گیا ؟؟؟ یہ پوری دنیا ویرانہ کیسے بن گئی ؟؟
وہ دن بھی گزر گیا اور اس کے بعد کے بہت سے دن بھی گزر گئے… میں پھر اسی شخص کے ساتھ اس کی اور اس کے گھر والوں کی خدمتیں کرنے کے لئے واپس آگئی…
حسن کے اوپری ہونٹ پر روؤاں نمودار ہورہا تھا اور وہ بہت تیزی سے اپنے شباب کی طرف بڑھ رہا تھا. پھر اس نے ڈرائیونگ بھی سیکھ لی. ہم عید پر گاؤں گئے تھے تو میں نے حسن سے کہا, “بیٹا گاڑی نکالو مجھے ابو سے ملوانے لے جاؤ ” اب مجھے اجازتون کی ضرورت نہیں ہوتی…. لیکن….

ام کلثوم
ینگ وومن رائٹرز فورم اسلام آباد

وڈیو دیکھیں:ابوظہبی میں نیشنل ڈے پا آتش بازی کا مظاہرہ

Advertisements

7 Comments

  1. Ufff really dil ki ghari say hakekat ko qalamband kia gya ha …..i wish it wouldnt be so…. sofia after so long i saw but your efforts are priceless wheras ume kalsoom has written… no words!

    Liked by 2 people

Comments are closed.