اس سے پہلے۔۔۔۔۔۔۔صوفیہ کاشف

اس سے پہلے

کہ تلاطم خیز لہریں

ہماری ڈوبتی ابھرتی کشتی کو

گہرائیوں میں دفن کر دیں

اور ہمارے ریختہ ٹکڑے

لہروں پر نشان عبرت بنے

خوفزدہ لوگوں کو

اور پریشاں کریں

اس سے پہلے کہ طلب کی بادو باراں میں

گر پڑیں ہماری احتیاط کی چھتیں!

اس سے پہلے کہ باغوں کے جھولے

بنیادوں سے اکھڑ جائیں

عشق کا ابلتا ہوا قیامت خیز لاوہ

ہمارے گھروں اور زندگیوں کو

نیست و نابود کر دے!

چلو اک بار پھر سے

اپنے تپتے رنگ خوابوں سے

نظر چرائیں طلب کی سرخ نگاہوں سے

محبت کے زہر آلود کانٹے سے

ادھوری زندگی کا دامن چھڑائیں

چلمن سے بہتی گرم ندیوں کو

ہاتھ کی پشت سے پوچھیں!

اور پھر سے بیکار ہنگاموں میں

اشتہا انگیز کھانوں میں

رنگ و بو سے بھرے ایوانوں میں

خود کو گمشدہ کر لیں!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.