“آگہی کا دکھ”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثروت نجیب

کتابیں ان پڑھ کے چولہے کا ایندھن’
اخبار روٹیاں لپیٹتے اور شیشے چمکاتے ہیں
کتب خانے سنسان ـ ـ ـ ـ
کاغذ روشنائی کے سالن سے
لفظ چبا کے کھاتے ہیں
قلم جیب کی سجاوٹ سے اتریں تو
آزاربند ڈالنے کے کام آتے ہیں
شیشم و بلوط انگھیٹی میں سلگ کر
راکھ ہو جاتے ہیں
صندل شمشان کے گھاٹ پہ جلتی ہے
تُلسی آنگن سے اکھڑ کر
دیواروں کے سایے میں پھلتی ہے
قبروں پہ گل پاشی ـ ـ ـ ـ
عطر و اگر ــــــ
ناقدری پہ لب خندہ
کتبوں پہ عشق کندہ
سہرے کے کلیاں
روندی ہوئی
سالگرہ کے سپنے
چاقو سے کٹتے
گنے چنے اپنوں میں بٹتے ـ ـ ـ ـ
لقمے کباڑ کے منہ میں خشک ہو کر
تکبر کی خوراک بن جاتے ہیں
ٹین ‘ ڈبہ اندھی سوچیں
خارجی لیبل لگا کر کھاتے ہیں
جھنڈیاں ‘ حرمت کی منڈیاں
جشنِ آذادی کی عیاشی کے بعد
کوڑادانوں سے جھانکتی ہیں
اور کوڑا چننے والیاں
ہوس کے زہر کو پھانکتی ہیں
نوٹ رقاصہ کے قدموں سے چنتے ہیں دلال
تسبیح میں پِروئے جاتے ہیں یاقوت و لعل
چادریں سروں سے سِرک کر
مزاروں پہ چڑھنے لگی ہیں
مذہب سے رنجشیں بڑھنے لگی ہیں
محبت کے دھاگے رشتوں کے بجائے
درگاہ کی جالیوں پہ باندھے جاتے ہیں
بھوکے پیٹ کو لوگ دانشوری سمجھاتے ہیں
پھٹے ہوئے رستے سرد خیمے میں
جسم کی حرارت روا ہوتی ہے ــــ
یہاں دکھ طبعی
مرگ کا کارن قضا ہوتی ہے
خزاں کو کوئی کچھ نہیں کہتا
پتوں کی مجرم ہوا ہوتی ہے ـ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

از ثروت نجیب

وڈیو دیکھیں:قراقرم ہای وے پر کریں اک دلنشیں سفر

Advertisements

3 Comments

  1. یہ وہ آگہی ہے جس سے آگہی بهی آگاہ نہ ہو پائے گی.
    بہت عمدگی سے زندگی کی تلخ حقیقتوں کو مصرعوں میں پرویا ہے.

    سلامت رہیں.

    Liked by 1 person

Comments are closed.