غزل۔۔۔۔۔۔۔ابصار فاطمہ

لگادو آئینے ہر سو مجھے سنورنا ہے
نہ چھیڑو فکر کا موضوع مجھے سنورنا ہے

بچالی آج پھر تقدیس چار دیورای
اک اور مر گئی مہہ رو، مجھے سنورنا ہے

لگیں گے داغ مشقت کے ناگوار اسے
تو کرلوں ہاتھ حِنارو , مجھے سنورنا ہے

سیاسیات، علوم و فنون سب بے کار
بس اب ہے زیست کا موضوع, مجھے سنورنا ہے

مجھے بنا دیا آرائشی سا ساماں جو
ہوا اڑان پہ قابو، مجھے سنورنا ہے

میں زن ہوں مجھ سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
میرا ہے بس یہی جادو ، مجھے سنورنا ہے؟

دھواں دھواں ہے فضا، تلخ آب و دانہ ہے
مٹاتا جاتا ہوں ذی روح، مجھے سنورنا ہے

ابصار فاطمہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔فوٹوگرافی: فرحین خالد

وڈیو دیکھیں:ابوظہبی کا ایک خوبصورت ڈوبتا سورج

Advertisements