پتے اور شجر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از میمونہ صدف

اے میرے ہم وطنو!
کبھی دیکھا تم نے خزاں رسیدہ پتے کو
جب جب شجر سے جدا ہوا
پہلے تو ہوا سنگ بہت اڑا
پھر جب گرا
قدموں تلے روندا گیا
شجر تو قائم رہتا ہے
نئے پتوں کا گھر بنتا ہے
جو اسے سے جڑے
اپنا اور اس کا تن سجائے
رہتے ہیں
یہ دیس بھی تو شجر ٹھہرا
اس کو رہنا ہے قائم
غداری کچھ لمحے تو
ہوا میں اڑائے گی بہت
لیکن انجام کیا ہو گا
بالآخر زمیں بوس ہو گا
قدموں میں روندا جائے گا
دیس تو قائم رہے گا
نئے پتوں کا مسکن بن کر
کئی زندگیوں کو مہکائےگا

………………

میمونہ صدف ہاشمی

فوٹوگرافی:عرفان فاروق

Advertisements