“ہاں میں زینب ہوں “۔۔۔۔۔۔از نوشین قمر

ہاں میں زینب ہوں
اب کی بار اک ایسی کربلا کا سامنا ہے مجهے
جہاں یزیدیت بهی شرمائے
جہاں ابلیسیت بهی سر جکهائے
جہاں جاہلیت اور سفاکیت کو بهی
اپنے ہونے پہ ترس آئے
جہاں اشکوں کی بهی آہیں نکلیں
جہاں لفظ بهی دم توڑ جائیں
جہاں جذبے بهی پیاسے ہیں
بے ضمیری بهی دور کهڑی قہقہے لگا رہی ہے
ہنس رہی ہے آج کے حضرتِ انساں پر
اب کی بار اک ایسی کربلا کا سامنا ہے مجهے
کہ جہاں بابا کا چہرہ، تایا،چچا اور ماموں
آدم کےبیٹوں کےہر رشتے
بے ردا ،نوچے گئے جسموں
تکهی ہوئی روحوں کی بهی نکلتی روحوں
بوٹی ہوتے ہر اک روئیں کے ساتھ
مر گئے ہیں
ارے او بیٹیو والو!
اب تک روتے کیوں بیٹهے ہو
اپنی زینبوں کی رداؤں کی خاطر
ماریہ ، مریم اور آمناوں کی خاطر
جو اپنی ماں کے آنچل کے سوا
آج کہیں کی نہ رہی ہیں
اٹهه کهڑے ہو
ان سفاک درندوں کے اکڑتے
ہر اک عضو،ہر اک روئیں کوکاٹ ڈالو
چیر ڈالو،روند ڈالو،پهونک ڈالو
ان کے ایسے ٹکڑے کرو کہ
وہ بهیڑیے بهی ان کے ٹکڑوں پہ تهوک ڈالیں
ہاں میں زینب ہوں
اب کی بار اک ایسی کربلا کا سامنا ہے مجهے

نوشین قمر
ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد

یہ بھی دیکھیں:جھومتے گاتے پانی کے نظارے

Advertisements