ملامت ،،،،،،،،از ثروت نجیب

دائرے میں.بیٹھی لڑکیاں دف بجا بجا کر بابولالے گا رہیں تھیں ـ
دلہن جاؤ تمھارے آگے خیر درپیش ہو ــــ
وای وای بابولاله اللہ دلہن جا رہی ہے وای وای ـ
میں اعلیٰ نسل کی گھوڑی دوں صدقے میں
گر تیرے سر میں درد کبھی درپیش ہو ـ
وای وای ـــ وای اللہ وای
وای وای کی گونجتی آوازوں میں گم زمینہ بڑبڑائی اعلیٰ نسل گھوڑے کا صدقہ ہونہہ ـ کسی کو کیا خبر زرمینہ کے دل کے اندر آتش فشاں پھٹ چکا تھا آنسؤں کا سیلِ رواں لاوے کی طرح سرخ اناری رخساروں کو جھلساتے ہوئے پھیلتا تو گالوں پہ لگا غازہ چمکنے لگتا ـ
کاجل سے بھری نیلی آنکھیں غم کی سرخی لیے مزید نمایاں ہو رہی تھیں مکھن کے پیڑے کی طرح سفید چکنی جلد پہ دیکھنے والوں کی نگاھیں پھسل جاتیں ـ کشادہ پیشانی پہ چمکتی نقرئی ماتھا پٹی کی لڑیوں نے سہرے کی طرح ماتھے کو ڈھانپ رکھا تھا ‘ گلے میں سہ منزلہ امیل گول موٹے چاندی کی پتاسوں اور سکّوں سے سجا ‘ انگور کے خوشوں کی طرح لٹکتے گوشوارے ‘،کلائیوں میں فیروزے کے جڑاؤ کڑے جس پہ بیل بوٹے کندہ تھے اور تھوڑی پہ تین سبز خال زرمینہ کا حسن دو بالا کر رہے تھے ـ زرمینہ کی ماں کمرے میں کمر بند ہاتھوں میں تھامے داخل ہوئی تو بیٹی کو دیکھ کر بے اختیار پکار اٹھی نامِ خدا’ نامِ خدا چشمِ بد دور ‘ نظر مہ شے لورے ـ کمر بند کو دیکھ کر زرمینہ کی انکھیں بھر آئیں ـ سرخ مخمل کے سنہری گوٹے سے سجے فراک کی پیٹی کے اوپر جب ماں کمر بند باندھنے لگی تو وہ ماں سے لپٹ گئی ـ یہ زرمینہ کی ماں کا کمر بند تھا جب وہ چھوٹی تھی تو شادی بیاہ پہ جاتے وقت ماں کمربند باندھتی تو اسے بہت پسند اچھا لگتا ـ ماں نے کہا تھا جب وہ بڑی ہو جائے گی تو یہ کمر بند وہ اسے دے گی ـ سنکڑوں چاندی کے گھنگھروں سے سجا فیروزے اور لاجورد کے نگینوں سے مزین زرا سی جنبش سے چھن چھن چھنکنے لگتا جیسے رباب کے تاروں کو کسی نے پیار سے چھیڑ دیا ہو ـ سولہ سترہ کے مابین سِن بھرپور جوانی اور سڈول سراپا لیے زرمینہ گاؤں کے ہر لڑکے کا خواب بن گئی تھی ـ جب گھر کی عورتیں زرمینہ کے حسن کا چرچا کرتیں تو نوجوان لڑکوں کے دلوں میں اسے دیکھنے کا ارمان جاگتا ـ کئی خواستگار آئے اور ولور کی بھاری رقم کا سن کر مایوس پلٹ گئے ـ پچیس لاکھ کلداری کے عوض سپین گل بازی جیت چکا تھا ـ

یہ بھی پڑھیں:سودا از ثروت نجیب

بابولالہ گاتی ہوئی لڑکیاں اب لمبے لمبے فراک سمیٹتی دائرے میں رقصاں تھیں زرمینہ کا دل چاہا وہ چلا چلا کر کہے احمقو سیاہ لباس پہن کے کوئی ماتمی ٹپہ گاؤ اور اس زندہ لاش پہ گلاب کی پتیاں نچھاور کرو جو ایک گور سے دوسری گور منتقل ہونے جا رہی ہے ـ
برات آ گئ ـ ـ ـ برت آ گئ کا شور سنتے ہی زرمینہ نے باقاعدہ رونا شروع کر دیا ـ مورے نه ځمه ـ ماں مجھے نہیں جانا وہ ماں سے لپٹی ہچکیاں لے رہی تھی ـ بھائی اسے لینے آئے تو وہ کبھی دروازے کی چوکھٹ پکڑ لیتی کبھی برآمدے کا ستون ـ دف بجانے والی لڑکیاں دف کو ایک طرف رکھ کر قطار در قطار اپنے آنچلوں سے آنکھوں کے تر کنارے صاف کرتی ایک دوسرے سے اپنی کیفیات چھپاتے دوپٹے کے پلو منہ میں دبائے سسک رہی تھیں ـ زرمنیہ بوجھل دل کے ساتھ نقلی گلاب کی سرخ کلیوں سے سجی سفید کار میں بیٹھ گئی اس کے ساتھ عمر رسیدہ پھوپھی کی نند کو بھی روانہ کر دیا گیا ـ موٹر کچی پکی گلیوں سے نکل کر مرکزی سڑک پہ پہنچی اور زرمینہ گاؤں کو الوداع کرتے نظاروں کو کڑھائی والی جگری چادر سے جھانکتی اونگھتی’ جاگتی جب ان چاہی منزل پہ پہنچی تو سورج ڈھل چکا تھا شام قعلے کی بلند و بالا دیواروں کو پھلانگنے کے لیے منڈیروں تک ہاتھ بڑھا چکی تھی ـ خاموش گھر نے خاموشی سے استقبال کیا ـ وسیع و عریض کچا صحن عبور کر کے زرمینہ کو اس کے کمرے تک پہنچایا گیا تو عمر رسیدہ خاتون نے کہاـ لڑکی گھونگھٹ اٹھا لو یہاں ھم دونوں کے سوا کوئی نہیں ہے ـ کمرے کی دیواروں پہ گارے کی تازہ لپائی ہوئی تھی چھت پہ لکڑی کے پرانے کالے شہتیر اور فرش پہ بوسیدہ نسواری قالین بچھا تھا ـ ایک طرف برتنوں کی الماری میں زرمینہ کے جہیز کے برتن ساتھ جست کے ٹرنک جسمیں زرمینہ کے دس پندرہ جوڑے اور پانچ توشک بھمراہ تکیے اسکے علاوہ اسے باپ کی طرف سے اس کی خود غرضی کے سوا ملا ہی کیا تھا ـ

یہ بھی پڑھیں: اگر ہم عظیم ہوتے از رضوانہ نور
دپہر تک زرمینہ کو دیکھنے کے لیے عورتوں کا تانتا بندھا رہا ـ وہ زرمینہ کے حسن اور نصیب میں تفاوت پہ تبصرے کرتی چلی جاتیں ـ شام ہونے کو آئی تو عمر رسیدہ خاتون برآمدے میں لٹکی میلی لالٹین روشن کر کے زرمینہ کے کمرےمیں لائی تو دیکھا زرمینہ اوندھے منہ لیٹی رو رہی ہے ـ وہ دلاسا دیتے بولی کاش تیرا نصیب بھی تیری آنکھوں کی طرح روشن ہوتا ـ مگر ہم عورتوں کے نصیب خدا تھوڑی لکھتا ہے ھم عورتوں کے نصیب تو مرد لکھتے ہیں وہ بھی کالے کوئلے اور راکھ سے ـ تیرا نصیب بھی مجھے میری طرح بانجھ ہی دکھتا ہے پر رونے سے کیا ہوتا ہے اگر کچھ ہوتا تو میں اپنا نصیب رو رو کے روشن کر چکی ہوتی ـ
صبح ہوتے ہی عمر رسیدہ خاتون بھی گھر کو لوٹ گئی ـ اس کے جاتے ہی گاؤں کی عورتیں بھی آہستہ آہستہ کھسک گئیں ـ بھاری بھرکم قدموں کی چاپ سنتے ہی زرمینہ سکڑ کر بیٹھ گئی اس کا دل پتنگے کے پروں کی طرح بےقراری سے حرکت کر ریا تھا ـ سپین گل دروازے کے چوبی پٹ کھولتا اندر داخل ہوا ـ
زرمینہ نے گھونگھٹ کی اوٹ سے دیکھنے کی کوشش کی ـ درمیانہ قامت’ فربی مائل جسم بڑھی ہوئی توند ‘ مہندی سے رنگی سرخ داڑھی ‘تراشی ہوئی مونچھیں ‘ سفید تو صرف نام کا تھا رنگت دبی ہوئی سانولی سی’ ایک ٹانگ سے معذور ـ سنا تھا جوانی میں بارودی سرنگ پہ پاؤں رکھنے سے گھٹنے تک ٹانگ باورد ک ساتھ اڑ گئی تھی ـ سپین گل نے پگڑی اتار کر ایک طرف رکھی تو سر پہ پشت کی جانب کان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سرخ بالوں کی ایک جھالر تھی اور بس ـ زرمینہ روہانسی ہو گئی ـ سپین گل نے منہ سے بتیسی نکال کر سنگھار میز پہ رکھے پانی کے بھرے گلاس میں رکھی ـ سپین گل تو زرمینہ کی سوچ سے بھی ذیادہ ضعیف تھا ـ زرمینہ باپ کو کوسنے لگی ـ خدا کرے ولور کی رقم سے خریدی گی موٹر ٹوٹا ٹوٹا ہو جائے ـ خاک انداز ہو جائے ـ خدا کرے ــ خدا کرے ـ ـ ـ ـ
آنسو جیسے اسکی نیلی جھیل سی آنکھوں سے سمجھوتہ کر چکے تھے ـ
سپین گل کی بیوی کو مرے ایک سال بھی نہیں بیتا تھا کچھ عرصہ تو اس کی ساتوں بیٹیاں بال بچوں سمیت گھر کی رونق بنی رہیں مگر پھر ایک ایک کر کے اپنے گھروں کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بابل کے گھر کی ویرانی کو پس پشت ڈال کر اپنے گھروں کو چلی گئیں جاتے وقت ہر ایک نے صلاح دی کہ اکلوتے بھائی کے لیے ولور جمع کرو بابا ـ اس کی بیوی آئے گی تو گھر سنبھال لے گی ـ سپین گل نے بیٹے کا نام چن کے رکھا تھا بڑا ہو گا تو اس کا وارث اس کا یار بنے گا ـ یار گل اٹھرہ سال کا خوبرو نوجوان ماں کی طرح سفید اور دارز قد چھدری ہوئی داڑھی جو ابھی مکمل طور پہ نہیں نکلی تھی کتھئ بال ‘ پانچ جماعتیں پڑھنے کے بعد مکتب سے جی چرانے لگا ریڈیو ہاتھ میں تھامے حجرے میں گانے سنتا ‘ کرکٹ کھیلتا یا سیبوں کے باغ کی رکھوالی کرتا ـ سیبوں کے باغ ان کا واحد زریعہ آمدن تھے ـ سپین گل نے جس دن گائے بیچ کر آمدن کی جوڑی ہوئی رقم کا حساب کرنے لگا تو یار گل کے دل میں گُد گُدی سی ہوئی اسے لگا اس کے ولور کے لیے رقم اکٹھی ہو رہی ہے ـ کچھ دنوں سے وہ باپ کی ہر بات ماننے لگا اس انتظار میں کہ ایک دن چائے پیتے پیتے اس کا باپ اسے کہے گا زویا ! اس گھر کو اپ ایک عورت کی ضرورت ہے اس لیے تمھاری شادی کرنا چاہتا ہوں تمھاری کیا صلاح ہے ـ اور وہ شرماتے ہوئے کہے گا جیسے اپ کی مرضی ـ لیکن برعکس ایک شام ڈھلے کھانا کھاتے ہوئے سپن گل نے آنکھیں چراتے ہوئے کہا ـــ زویا ! اس گھر کو ایک عورت کی ضرورت ہے اس لیے میں نے سوچا تمھارے لیے نئی ماں لے کر آؤں ـ یار گل نے توڑا ہوا روٹی کا نوالہ واپس دسترخوان پہ رکھتے ہوئے کہا جیسے آپ کی مرضی ـ مگر اس کے اندر ایک طوفان برپا ہو چکا تھا نفرت کا طوفان ـ
جس دن سپین گل کی بارات تھی نہ کوئی بیٹی آئی نہ بیٹا ـ یار گل اسی دن شھر چلا گیاـ
ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ گاؤں میں کسی مرد کی دوسری شادی ہو مگر اس قدر عمر رسیدہ معذور شخص کی تازہ لڑکی سے شادی پہ کافی باتیں بن رہیں تھیں ـ

یہ بھی پڑھیں: پلیٹ فارم از نیل ذہرا
شروع شروع میں تو زرمینہ سپین گل کے جُثے کی تاثیر میں سہمی سہمی رہتی مگر اسے جلد معلوم ہو گیا سپین گل ایک سجاوٹی شیر ہے جس کی کھال میں بُھس بھرا ہوا ہے ـ
زرمینہ عصر ہوتے ہی آنکھوں میں بھر بھر کے کاجل لگاتی ـ اخروٹ کے پتوں سے دانت چمکاتی اور آئینے کے سامنے کھڑکی گنگناتے ہوئے پتلی پتلی چوٹیاں بُن کر کولہے مٹکاتی گھڑا تھامے گودر پہ چلی جاتی ـ گودر کے راستے میں کھڑے گاؤں کے بانکے اور زرمینہ کی اٹھکیلیاں سپین گل کو ایک آنکھ نہ بھاتیں ایک دن وہ گائے لے آیا اور کہا زرمینے پانی کا بندوبست میں کر لوں گا تم آج سے گائے کی دیکھ بھال کیا کرو ـ زرمینہ بڑبڑائی گائے کی کیا ضرورت تھی کام بڑھا دیا ـ سپین گل پھنکارا تو کیا تجھے کارنس پہ سجانے کے لیے لایا ہوں ـ کام بڑھا دیا ہونہہ ـ
سپین گل کا دل اب نہ سیبوں کے باغات میں لگتا نہ حجرے میں ـ
وہ بار بار گھر کے چکر لگاتا زرمینہ کو گھر پہ موجود پا کر اسے تسلی ہو جاتی ـ
ایک دن اسکے لنگوٹیا دوست نے سپین گل کو کہا ” غم نداری ‘ بز بخر” ـ سپین گل اشارہ تو سمجھ گیا مگر مسکرا کے رہ گیا ـ
وسوسوں میں گھرا دل اسے کچوکے لگاتا رہتا ـ
ادھر زرمینہ گھر کے بڑے دلانوں وسیع صحن اور برآمدوں کی صفائیاں کرتی ‘ کپڑے و برتن دھوتی لکڑیاں کاٹتی گائے کی دیکھ بھال کرتے رات تک چور ہو جاتی ـ ایک دن وہ تجسس کے مارے یار گل کے کمرے میں چلی گئی تین اطراف میں توشک بچھے تھے ایک طرف چوبی الماری جسے تالا لگا تھا ـ موتیوں سے سجا ایک شیشہ اور سرخ رنگ کی کنگھی ـ ایک نسوار کی ڈبی جسکے شیشے پہ رنگ برنگے نقطے دائرے میں سجے تھے دیواروں پہ کرکٹ کے کھلاڑیوں کے پوسٹرز اور الماری کے اوپر گرد سے اٹا ہوا ریڈیو پڑا تھا جسے دیکھتے ہی زرمینہ کی آنکھیں چمکنے لگیں اس نے پلو سے ریڈیو صاف کیا اور آنچل میں چھپائے آشپز خانے کی الماری میں چھپا دیا ـ
اب وہ روز اسی روزن سے دنیا کو سننے لگی تھی ـ ایک دن وہ آٹا گوندھ رہی تھی کہ پوری شدت سے مرکزی دروازہ کھلا تیز تیز قدنوں کی چاپ سن کر زرمینہ چونکی یہ تو سپین گل نہیں ہو سکتا ـ مردانہ عطر کی تیز خوشبو نے اسے کے دماغ کو محسور کر دیا ـ کالی شلوار قمیض میں خوبرو نوجوان پارے کی طرح لچکیلا چنار کی طرح لمبا اپنے سامنے دیکھ کر ٹھٹھک گئی ـ
یار گل زرمینہ کو دیکھ کر ششدر رہ گیا انارکلی کی طرح سکڑی سمٹی نوخیز لڑکی کیا اس کی نئی ماں ہے ؟ تین مہینے تک شھر میں آوارہ گردیاں کر کر کے جس دکھ کو مندمل کر آیا تھا زرمینہ کی نوخیزی دیکھ کر وہ پھر سے ہرا ہوگیا ـ حقارت سے زرمینہ کو گھورتے ہو سوچا شادی ہی کرنی تھی تو کسی ادھیڑ عمر عورت سے کی ہوتی لیکن اب کیا ہو سکتا تھا ـ وہ حوض میں رکھے پانی سے بھرے مٹکوں سے لوٹا بھر کے ہاتھ منہ دھونے لگا ـ دفعتاً زرمینہ کو خیال آیا یار گل کا ریڈیو ـ وہ بھاگی بھاگی گئی آشپز خانے سے ریڈیو نکال کر یار گل کے کمرے میں الماری کے اوپر رکھ کے آگئی ـ یار گل کمرے میں گیا اور ریڈیو کی آواز اونچی کر کے کمنٹری سننے لگاـ
زرمینہ یار گل کی آمد سے افسردہ ہو گئی ریڈیو کی اکلوتی عیاشی بھی چھن گئی ـ

یہ بھی پڑھیں: ٹیکسٹیشن از فرحین خالد
زرمینہ کے کمر بند کی چھنکار ہتھوڑے کی طرح یار گل کے دماغ پہ لگتی ـ
زرمینہ نے دھیرے دھیرے سب زیور اتار دیے مگر کمربند سے اُسے اپنی ماں کی خوشبو آتی تھی ـ زرمینہ سوتی تو ہر کروٹ پہ گھنگرو بھی اس کے ساتھ کروٹ لیتے صبح جاگتی تو گھنگرو بھی جاگ جاتے چھن چھن کے مدھر ساز چوبیس گھنٹے بجتے رہتے ـ
یار گل اپنے کمرے کی کھڑکی سے زرمینہ کو جھانکتا اور آگ بگولا ہو جاتا ـ ایک خار کی طرح زرمینہ کا وجود یار گل کے دل میں چبھ گیا تھا ـ
اکثر وہ سوچتا زرمینہ اس کا حق تھی جو باپ نے غصب کر لیا ـ کبھی اس کا دل کرتا دہکتے تندور میں زرمینہ کو دھکا دے کر جلا کر راکھ کر دے ـ سپین گل کو یار گل کی آنکھوں میں اترا خون صاف دیکھائی دینے لگا ـ ملامت در ملامت نے اسے اعصابی مریض بنا دیا تھا ــ ایک بار کھانا کھاتے ہوئے یار گل چِلایا زرمینے زرمینے پانی لاؤ تو سپین گل نے ٹوکا ماں ہے تمھاری مور کہو ـ تو سپین گل اور زور سے چلایا زرمینے زرمینے بہری ہو گئی ہو کیا ؟ جبکہ وہ دیکھ رہا تھا زرمینہ پانی کا چھلکتا گلاس لیے دوڑی دوڑی آ رہی تھی ـ یار گل کا ذیادہ تر وقت حجرے میں گزرتا مگر سپین گل پھر بھی مطمئن نہیں تھا ـ
سیبوں پہ پھول لگنے کا موسم آ چکا تھا ـ بھینی بھینی خوشبو لیے ایک نئی امید جاگ رہی تھی خوشحالی کی امید ـ سپین گل سیب کے درختوں کو سفید گلابی پھولوں سے لدے دیکھ کر جھومنے لگتا ـ اس بار سیب نہیں درختوں پہ قلیّ کِھلیں گے جو ملامت کا بوجھ اتار کر اسے ہلکا کر دیں ـ وہ گھر میں ایک نیا موسم لائے گا یار گل کی دلہن کی صورت میں ـ زرمینہ اور یار گل دونوں کا دل لگ جائے گا پھر وہ بے فکری سے حجرے میں بیٹھ کر سبز چائے کے گھونٹ بھرا کرے گا ـ یہ سوچ کر ہی وہ مسکرا اٹھتا اس کا دل بلبلے کی طرح ہلکا پھلکا ہو جاتا ـ
وہ سیب کے درختوں کی نازک شاخوں کے جھکنے کا منتظر تھا ـ
ایک دن سورج ڈھلتے ہی ہلکی ہلکی بوندا باندی ہونے لگی ـ سپین گل مضطرب ہو گیا وہ جانتا تھا یہ بارش اس کے خوابوں کے لیے کتنی نقصان دہ ہے ـ وہ کسی ان دیکھے طوفان کے نہ آنے دعائیں مانگتے ہوئے گھر آ کر لیٹ گیا ـ ادھر یار گل کھانے کا منتظر ابھی بابا خوان بھر کے کھانا لائے گا جبکہ طوفان کے خوف سے سہمے ہوئے سپین گل کی آنکھ لگ گئی ـ شام کا وقت اور گرجتی گھنگھور گھٹائیں ماحول کو عجیب پراسرار کر رہی تھیں ـ زرمینہ تناؤ پہ کپڑے اتارتی صحن میں چھن چھن کرتی دوڑتی بھاگتی منہ اوپر اٹھائے بارش کے قطروں کو جذب کرتے گول گول گھومتے گھومتے اچانک یار گل سے ٹکرا گئی ـ گرتی ہوئی زرمینہ کو یار گل نے اپنی مضبوط باہوں میں تھام لیا ـ زرمینہ کے سر سے دوپٹہ سرک چکا تھا نیلی نیلی کاجل سے بھرپور آنکھیں اور بھیگے ہوئے اناری ہونٹوں کے جادو نے یار گل کو اپنے حصار میں جکڑ لیا ـ زرمینہ کو چھوڑنے کے بجائے اس نے مذید قریب کرتے ہوئے بھینچ لیا زرمینہ نے مزاحمت کی تو یار گل کی گرفت اور بھی مضبوط ہو گئی ـ زرمینہ کے کمر بند کے گھنگھرو بے ترتیب ہونے لگے ـ
سپین گل کی آنکھ کھلی وہ پکارا زرمینے زرمینے ـ کام چور تیار خور سارا دن بکری کی طرح چھن چھن کرتی پھرتی ہے ـ نجانے کہاں مر گئی ـ وہ برآمدے تک آیا تو غیرمتوقع منظر نے اس کی ساری قوت دفعتاً ختم کر دی ـ وہ واپس پلٹا دیوار سے لٹکی بارہ بور بندوق اتاری اور کھڑکی سے نشانہ باندھنے کی کوشش کی کبھی یار گل کا سر سامنے آتا تو کبھی زرمینہ کا ـ وہ مسہری پہ بیٹھا بندوق کی نالی منہ میں رکھی آنکھیں بند کر کے پاؤں سے ٹریگر دبانے کی کوشش کی تو بندوق نہ چلی ـ
عین وقت پہ یہ بھی دغا دے گئی وہ بڑبڑایا زنگ لگ گیا ہے شاید ـ
وہ پھر کھڑکی کی طرف پلٹا اس کے ہاتھ بری طرح لرز رہے تھے ـ
ادھر رم جھم بارش میں یار گل سے الجھتے زمینہ کا کمربند ٹوٹ گیا ـ گھنگھرو زمین پہ رینگتے رینگتے بکھر کر خاموش ہوگئے ـ
بوندا باندی میں دو الجھے ہوئے جسموں کا سکوت بارہ بور کی بندق سے نکلی گولی نے توڑ دیا ـ

_________________

از قلم ـ ثروت نجیب

فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

Advertisements

1 Comment

Comments are closed.