“سودا”…….ثروت نجیب

چہل ستون اور اطراف میں ہو کا عالم تھاـ امریکی ساختہ مشین گنوں سے داغی جانیوالی گولیاں کنکریٹ کے ستونوں سے ٹکراتیں تو اداسی میں لپٹی ہوئی خاموشی کا سینہ چھلنی ہو جاتا ـ خوف کی لہروں میں ارتعاش اٹھتا اور ہوا کے دوش پہ گھروں کی ادھ کھلی کھڑکیوں ‘ دراوزے کی درزوں سے نکل کر کمروں میں ان دیکھی موت کا بگولہ بن کے گردش کرنے لگتا تو لحافوں میں دبکے ہوئے لوگ مذید سکڑ کر بیٹھ جاتے ـ
رقیب اللہ ان گولیوں سے بے خبر اپنی سفید قمیض کا دامن پلٹ کر اس پہ لعاب دہن لگا کے ٹیلی وژن کی سکرین صاف کرنے میں مگن تھا ـ اسے یہ روسی ساختہ بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی بہت پسند تھی ـ جنگ کے دنوں میں جب کھیل کا میدان جنگ کے شعلے سینکنے میں مصروف ہوتا تو رقیب اللہ ٹی وی کے سامنے بیٹھا بے تکے پروگرام بھی دلچسپی سے دیکھتا رہتا پنج شنبے کی رات جب ٹی وی پہ ہندی فلم پشتو ترجمے کے ساتھ نشر ہوتی تو مانو وہ رات اس کے لیے چاندنی لاتی چاہے آسمان پہ چاند ہوتا یا نہ ہوتا ـ اسی ٹی وی پہ اس نے نغمہ کے گیت سنے جس کے سیاہ گھنے لہراتے بالوں سے اسے عشق ہونے لگا تھا مگر جب اس کے دوست کہتے کہ نغمہ کی شکل ہو بہو تمھاری ماں جیسی ہے تو اسے بہت برا لگتا ـ ساگ کے پتے کھا کر طاقتور ہونے والا کارٹون اسے شاید نغمہ سے ذیادہ پسند تھا اسے بھی کوئی ملکوتی طاقت چاہیے تھی جنگ کےعفریت سے لڑنے کے لیے ـ اس کی سوچ جتنی گہری ہوتی جاتی ٹی وی کی سکرین کو اس کے ہاتھ بھی اتنی ہی طاقت سے رگڑنے لگتے ـ اسے اس دنیا میں آئے ہوئے ایک دہائی ہی تو گزری تھی اور ان دس سالوں میں اس نے جنگ کے سوا دیکھا ہی کیا تھا ـ روسی انخلاء کے بعد خانہ جنگی نے کابل کو اس قدر گھائل کر دیا تھا جیسے چڑیا کا بچہ گھونسلے سے گرنے کے بعد بے رحم دنیا کے تھپیڑوں سے آشنا ہوتا ہے ـ اندھیر نگری چوپٹ راجہ کی مثال ان دنوں شھر اقتدار پہ صادق بیٹھ رہی تھی ـ کمیونسٹ نظریے کے حامی ہجرت کرنے پہ مجبور ہو چکے تھے ـ وادی روشن خیالوں سے خالی ہونے کو تھی اکا دکا بھی اپنا سامان فروخت کر کے ہجرت کے لیے رختِ سفر جوڑ رہے تھے ـ

یہ بھی پڑھیں: آئینے میں ایک اور پچھتاوا

گل آغا نے بھی آخر طورخم پار کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا ـ رقیب اللہ جب ٹی وی صاف کر چکا تو بی بی گل اپنے ہاتھ سے کاڑھے ہوئے سرخ ‘ نارنجی اور پیلے گلابوں والے چار سوتی کے میز پوش میں رقیب اللہ کی مدد سے ٹیلی وژن کو باندھ کر ہتھ ریڑھی میں رکھنے لگی تو گل آغا نے قہوے کا خالی پیالہ پطنوس میں رکھتے ہوئے کہا قرار ‘ قرار ــــ سکرین ٹوٹ گئی تو ٹیلی وژن کی قیمت دو کوڑی بھی نہیں رہے گی ـ
باپ بیٹا ٹیلی وژن کو ہتھ ریڑھی پہ لادے گھر سے نکلے تو بی بی گل نے چابک دستی سے پانی کا بھرا لوٹا گزرنے والوں کے پیچھے سنسان گلی میں انڈیل دیا ـ
اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی کمرے میں چائے کے برتن سمیٹ کر آشپز خانے کی جانب بڑھی ـ خود کلامی تو اس کا معمول بن چکی تھی ـ وہ خود سے باتیں کر کے تھک جاتی تو رو دیتی ـ خود کو دی ہوئی تسلیاں اتنی قوی ہوتی ہیں کہ انسان کو ٹوٹنے سے بچا لیتی ہیں ـ اس نے چوبی الماری کھولی اور ململ کی تھیلی سے سوکھے گوشت کے چند ٹکڑے نکال کر گرم پانی کے جستی کاسے میں رکھ دیے ـ
بی بی گل دراز قد کی ‘ ستواں ناک چھوٹی چھوٹی آنکھیں کمان کی طرح تنی ہوئی سلیقے سے تراشی گئ آبروئیں’ مہین ہونٹ اور سپیدی مائل گلابی رنگت’ اگرچہ بتدریج تین اولادوں کے بعد اس کا جسم قدرے بھر چکا تھا مگر چہرے کی چمک جوں کی توں باقی تھی جب بیاہ کر آئی تو حسین خوابوں میں ایک سپنا یہ بھی تھا کہ روسی انخلاء کے بعد وہ شوہر کے ساتھ ایک خوشحال زندگی گزارے گی ـ آشپز خانے کے کروشیے والے پردے کو سرکاتے ہوئے آبدیدہ ہو گئی کتنے شوق سے اس نے گھر کی سجاوٹی اشیاء بنائی تھیں وہ آشپز خانے سے نکل کرگھر کے در و دیوار کو حسرت دیکھتے دیکھتے صالون کے کارنس تک جا پہنچی جو اب خالی ہو چکا تھا اس پہ صرف کڑھائی والا پوش پڑا تھا اس پہ کبھی لاجورد کے آبخورے رکھے ہوتے تھے اور درمیان میں دو مر مر کے سفید گلدان بائیں کنج میں ہاتھی دانت کا قلم دان کارنس کے نیچے انگھیٹی میں جب کوئلے دہکتے اور محفلیں جمتیں تو چوبی صوفے کی مخملی گدوں پہ بیٹھے مہمان شیشے کے فرانسوی جاموں سے مے سرخ پیتے ان کے قدموں میں افغانی سرخ لہو کی طرح چمچماتا قالین بچھا ہوتا صالون کی شمالی دیوار پہ فیروزے کی جڑاو دستے والی تین تلواریں ‘ مصوری کے فن پارے اس نے چھت کو تکتے ہوئے ٹھنڈی آہ بھری سوائے سنہری فانوس کے سب کچھ بک چکا تھا اونے پونے داموں ـ دہلیز میں سجے موتیوں والے آیئنے دھوپ کی روشنی پڑتے ہی دیواروں پہ رنگ برنگی قوسیں کھینچ دیتے ان کے بدلےتو پیسے بھی نہیں ملے تھے صرف چند کلو اناج ملا جو بمشکل دو ہفتے ہی چل سکا ـ کیا یہ گھر یہ در و دیوار سب یہاں رہ جائے گا یہ سوچتے ہی ایک پھانس کا گولہ اس کے گلے میں اٹکا یا خدا یا خدا ہم کسی جانی نقصان کے بغیر یہاں سے کوچ کر جائیں طورخم کے آہنی گیٹ کے پار اسے خبر بھی نہ تھی کہ کہاں کس جگہ نجانے کب اور کون سی زمین ان کی پناہ گاہ بنے ـ یا خدا چھت کو گھورتے ہی اس کے آنسو ٹپ ٹپ کر کے گرنے لگے ـ

یہ بھی پڑھیں: سناٹے

گل آغا نے چہل ستون سے نکل کر ریڑھی کو ایک طرف روکا ـ یہاں کچھ گاہک ایک عورت کو گھیرے نظر آئے لیکن عورت کی گود میں شیر خوار بچے کے علاوہ کچھ بھی تو نہیں تھا ـ گاہک اسے ٹتولنے لگے تو اس نے نیلے برقعے کی اوٹ سے کہا وائے مجبوری ‘ وائے مجبوری ــــ بخدا مجبور ہستم بخدا ـ ـ ـگاہک ہنس پڑے ـ
گل آغا نے یہاں رکنا مناسب نہ سمجھا وہ مرکزی سڑک پہ جانےکے لیے مڑے تو دیوار پہ تازہ خون کے دھبے نظر آئےنیچے دیکھا تو اوندھے منہ کالے کپڑوں میں لت پت لاش پڑی تھی ـ کون تھا اللہ جانے یقیناً کوئی راہ گیر ہوگا اس کا مطلب مجاہدین آس پاس ہیں ـ یہ خیال آتے ہی گل آغا نے ہتھ ریڑھی کی رفتار بڑھا دی ـ
جب وہ دارلا امان کی چوڑی سڑک تک پہنچے تو رقیب اللہ چلتے چلتے تھک چکا تھا تقرہباً دو ہفتوں سے یہ ٹیلی وژن لادے گاہک کی تلاش میں نکلتے اور مایوس ہی لوٹتے ـ سڑک کے اطراف میں لہلاتے درختوں کو خزان سینے سے لگانے کے لیے بےتاب ہو رہی تھی ـ تیز ہوا کا جھونکا سرسراتا ہوا آتا اور مرجھائے ہوئے قرمزی پتوں کا ہاتھ تھامےانھیں خشک شاخوں سے اتار کر دور دور اڑاتا کہیں دور کسی کنج میں سست ہو کر چھوڑ دیتا اور وہ تیرتے ہوئے زمین بوس ہو جاتے ـ حبِ معمول سڑک سنسان تھی ـ ہتھ رہڑھی کے پرانے پہیوں کی آواز اور ہوا کی سنسناہٹ کے علاوہ خاموشی کی چادر بچھی تھی ـ جس پہ ہوا تہہ در تہہ پتوں کو اس طرح قرینے سے سجا رہی تھی جیسے ماحول کو خزان کی سہاگ رات کے لیے تیار کر رہی ہو ـ

یہ بھی پڑھیں: پچاس لفظوں کی کہانیاں

گل آغا ریڑھی گھسٹتے ہوئے ہانپنے لگا تو اسے اپنے بھائی کی یاد آگی جسے وہ ہر وقت نصیحت کرتا کہ اگر پڑھ نہ سکا تو مزوری کرنی پڑے گی دیکھ مجھے میں ڈاکٹر ہوں ـ اور کتنے آرام سے کلینک میں بیٹھ کر مریضوں کی نبض دیکھتا ہوں ـ اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ایک دن انھی سڑکوں پہ جہاں کبھی وہ ٹھاٹھ سے سرکاری گاڑی پہ گھومتا تھا کبھی ہتھ ریڑھی لیے خوار ہو رہا ہوگا ـ
گل آغا سستانے کو ایک درخت کے پاس بیٹھنے لگا تو رقیب اللہ پکارا
آغا جان ـ ــ ـ گاہک اور خوشی میں ریڑھی دوڑاتے ہوئے آگے بڑھنے لگا ـ گل آغا نے آوازیں دیں رقیبہ رقیبہ رک جاؤ رقیبہ
مگر رقیب اللہ سنی ان سنی کرتا آگے بڑھتا رہا ـ
دور سے کتھی شلوار قمیض میں کالی واسکٹ پہنے گھنی داڑھی اور مونچھوں والا فربہ مائل آدمی قریب آتا دیکھائی دیا ـ جب وہ تھوڑا قریب ہوا تو رقیب اللہ اس آدمی کے کندھوں سے جھانکتی کلاشنکوف دیکھ کر ٹھٹھک گیا ـ ہتھ رہڑھی روک دی مگر وہ شخص بہت قریب آ چکا تھاـ
گل آغا بھی تب تک رقیب اللہ کے قریب آچکے تھے اور ان کے نتھنے تازہ تازہ بارود کی بو کو محسوس کر چکے تھے ـ راہ گیر نے گھنی کالی آبرؤں کی جھالروں کے نیچے دبی ہوئی بادامی آنکھوں سے گل آغا کو گھورتے ہوئے کہا ـ
تم خلقی ہو نا ــــ
کمیونسٹ ــــ
معنی چی ــــ کافر
ایک جھٹکے سے اپنی کلاشنکوف اتاری اور ہری آنکھوں والے رقیب اللہ کے سر سے گزار کر پوش میی بندھے ہوئی ٹیلی وژن کو ٹھوکا
اس میں کیا ہے ؟؟؟
ٹیلی وژن رقیب اللہ نے بنا خوفزدہ ہوئے جواب دیا ـ
بے کار ـــ
میں کیا کروں گا اسے لے کر ـ
راہ گیر داڑھی کھجاتے ہوئے گل آغا کا جا ئزہ لینے لگا
اور جائزہ لیتے ہوئے کلاشنکوف کی نال سے گل آغا کی کلائی کو جھنھوڑا ــ
ہممم سنہری ساعت ـ
میری پسندیدہ ـــ
پھر منہ بسور کر ناکام اداکاری کی کوشش کرتے ہوئے کہا تمھیں تو معلوم ہے نا ملک تفریطِ زر کا شکار یو چکا ہے ـ پیسہ تو دیکھنے کو نہیں ملتا ـ گھر کا سازو سامان بیچنا پڑتا ہے ملک سے بھاگنے کے لیے ـ خدا غارت کرے خانہ جنگی کو ــ ہا ہا ہا ہا ایک زور دار قہقہہ لگا یا جس سے آس پاس کے درختوں پہ بیٹھے سہمے پرندے اڑ گئے ـ
سنو خلقی یہ سنہری گھڑی کتنے کی لو گے ـ
رقیب اللہ بول پڑا یہ گھڑی تو آغا جان کی ہے ـ
ا چھا ـــ راہ گیر کلاشنکوف رقیب اللہ کے سر پہ تان کے گرجتی آواز میں بولا میں کہتا ہوں کتنے کی خریدو گے یہ گھڑی
گل آغا بے بسی سے بولے ـــ نقدی نہیں ہے میرے پاس
ہممم تو اتارو پھر میری گھڑی ـ کس خوشی میں کلائی پہ باندھ کے پھر رہے ہو ـ گل آغا گھڑی اتارنے لگے ـــ
آفرین آفرین ـــ جلدی اتارو ـ گھڑی چپکی ہوئی ہے کیا ؟
وہ ہاتھ پھیلائے بے قراری سے گھڑی کا منتظر تھا گھڑی ملتے ہی جیب میں اڑس کر پوش میں بندھے ٹیلی وژن کو کلاشنکوف کی نالی سے ٹھوکا ـ چلو چلو سودا ہو گیا چلو ـ
رقیب اللہ جلدی سے ہتھ ریڑھی پیچھے دھکیلنے لگا ـ
اب چلو بھی ایک زوردار ضرب لگتے ہی چھناکے کی آواز آئی
پوش میں بندھی ٹیلی وژن کی سکرین ٹؤٹ چکی تھی ـ اور دو اداس آبگینے بھی ـ
کچھ دیر پہلے اڑے ہوئے پرندے واپس انھی شاخوں پہ دوبارہ بیٹھنے لگے ـ

________________

ثروت نجیب

فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

Advertisements