” نیناں “

میرے نیناں سپنا دیکھیں
تجھ کو بس یہ اپنا دیکھیں

دیکھیں کیا کیارنگ جہاں کے
تیرا جب یہ گر کر سنبھلنا دیکھیں

خبر تیرے تبسم کی ہوتی ان کو
پھولوں کا جب یہ کھلنا دیکھیں

جھکتے ہیں خود خوف ِنظر سے
سرِآئینہ تیرا جب سنورنا دیکھیں

تڑپ تڑپ جاتے ہیں نیناں میرے
غیروں سے تیرا جب ملنا دیکھیں

مانندِ جامِ سکندر یہ بھر آتے ہیں
دل کا ترے لیے جو مچلنا دیکھیں

نور تو کچھ باقی نہیں ان میں
کس طور یہ اب تیرا اجڑنا دیکھیں

( رضوانہ نور)

فوٹو کریڈٹ:فرحین خالد

Advertisements