غزل …….رابعہ بصری

تم جودامن ذرا بھگو لیتے
ہم بھی کچھ دیر کھل کےرولیتے

اک تیری یاد، جو ہماری تھی
اک تیرا درد، جو بِچھو لیتے

عالمِ مستی وطرب میں رہے
خاک کی تِیرگی میں سولیتے

حرف خوشبوکےرنگ میں لکهتی
پھول گجروں میں جو پِرولیتے

نارسائی تو خیر قسمت تهی
اور کیا بچ گیاجو کھو لیتے

کونج کرلارہی تھی صحرامیں
آب ودانہ وہاں بھی بولیتے

مِٹ رہی ہوں رہِ ہزیمت میں
اپنے ہاتھوں سے ہی ڈبولیتے

رات کی شال اوڑھ کر یوں ہم
ریگِ راہِ رواں ہی ہو لیتے

سانس اپنی مہک مہک جاتی
ہاتھ سے پھول تیرے جو لیتے

رابعہ بصری

۔۔۔۔

فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

Advertisements

One thought on “غزل …….رابعہ بصری

Comments are closed