دیوانے۔۔۔۔۔۔۔از صوفیہ کاشف

یہ دیوانے ہیں

کتاب کھولے دیوار پڑھتے ہیں

کھلی آنکھوں خواب بنتے ہیں

بند آنکھوں تلاشتے پھرتے ہیں

یہ دیوانے ہیں

ریت پر گھنٹوں بیٹھے

لہروں سے بات کہتے ہیں

ہواؤں سے سرگوشیاں

گھٹاؤں کے سنگ رات کرتے ہیں

یہ جنکی آنکھوں سے تعبیریں

موتی بنکر جھڑتی ہیں

یہ جنکی ہتھیلیوں سے منزل

!ریت بنکر پھسلتی ہے

یہ جنکی اذانوں پر کوی صلواۃ نہیں کہتا

یہ جنکے دعاؤں پر کوی ہاتھ نہیں دھرتا

!یہ دیوانے ہیں

اپنے ٹوٹے وجود لیے

در در بھٹکتے ہیں

اورگمنام ہستیوں کا

ہر پل ماتم کرتے ہیں

یہ امید کے شجر سے

خزاں بنکر جھڑ جاتے ہیں

یہ تعبیروں کے آسماں سے

پانی بنکر برس جاتے ہیں۔

کسی پھیلی جھولی میں حیات ساری ڈال دیں

آنکھوں کی چمک میں بس کر اپنا آپ وار دیں

انکے ہاتھ میں جادو

اور نگاہوں میں طلسم

الفاظ انکے منتر

آہیں انکی سرگم

دکھائی دے کر بھی گمشدہ سے

فنا کے تماشے ہیں

خوابوں میں بسنے والے

جینے نہ مرنے والے

ہاتھ اٹھاے اوپر

دھمال کرنے والے

یہ دیوانے ہیں۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صوفیہ کاشف

Advertisements