دیوانے۔۔۔۔۔۔۔از صوفیہ کاشف

یہ دیوانے ہیں کتاب کھولے دیوار پڑھتے ہیں کھلی آنکھوں خواب بنتے ہیں بند آنکھوں تلاشتے پھرتے ہیں یہ دیوانے ہیں ریت پر گھنٹوں بیٹھے لہروں سے بات کہتے ہیں ہواؤں سے سرگوشیاں گھٹاؤں کے سنگ رات کرتے ہیں یہ جنکی آنکھوں سے تعبیریں موتی بنکر جھڑتی ہیں یہ جنکی ہتھیلیوں سے منزل !ریت بنکر […]

Read More…

ہم بھی عظیم ہوتے گر……

آج ہم نے پھر سکول سے بھاگنے کا پلان بنایا تھا. “سنو اس طرف کی دیوار چھوٹی ہے ادھر سے پھلانگ لیتے ہیں”. میں نے اپنی دوست کو ایک سمت اشارہ کیا.اس نے آنکھ دبا کر تائید کی اور ہم نے دوڑ لگا دی ابھی دیوار پہ چڑھے ہی تھےکہ, “یہ کتابیں پڑھنے کے لیے […]

Read More…