چھت۔۔۔۔۔۔۔از نوشین قمر

وہ اک کمرے کی چهت یاد ہے اب تک
ہاں محض اک کمرے کی چھت
چهوٹا سا اک صحن تها شاید
بن دروازے چار دیواروں کا اک پردہ بهی
ہم پانچ لوگ اور اک کمرے کی وہ چهت
وہ اک چولہا بهی یاد ہے اب تک
جو لکڑی کے اک ٹکڑے پر
دن میں تین بار ہجرت کرتا تها
مصالحوں کے ڈبے، وہ توا،وہ برتن
سائے کی تلاش میں ادهر ادهر بهٹکتے پهرتے
آج جو بارش برسی ہے تو
وہ اک کمرے کی چهت بہتی آنکھوں سے گزری ہے
کہ جب بهی بارش برستی تهی
ماں اور میں بهیگتے،اڑتے برتن چنتے تهے
وہ ٹینکی کے نیچے اک کونے میں
شاپر تلے چولہا چهپاتے تهے
کہ اس اک کمرے کی چهت میں دروازے تک پانی جو بهر جاتا
ابا،بهائی ہاتھوں میں چٹائی لیے گهنٹوں کهڑے رہتے
چهوٹے کا بستہ، ابا کا یونیفارم اور ہمارا اک بچهونا
ہر بارش میں بهیگ جاتا
وہ سردی میں ٹهنڈے چولہے کو گیس کی آس میں تکتے رہنا
رب سے بارش کے رک جانے کی بهیک مانگنا
ماں جو کپڑے دهوتی ہے وہ تو کیوں دهو جاتا ہے
میرے مولا بارش کو تو کمرے میں کیوں لاتا ہے
سردی میں ٹهٹهرتے ہم پانچوں کیسے خود کو بہلاتے تهے
ابا اور اماں ہمیں پهر جهگی والوں کی کہانیاں سناتے تهے
ایسے میں کئی راتیں کٹ جاتیں
ہم ہنستے تهے کچھ روتے تهے
رب کا شکر یہ کرتے تھے
ہمارے پاس اک کمرے کی چهت تو ہے
کیا ہوا جو بارش ہے
اک دن تو وہ تهم جائے گی
آج گرم کمروں میں ہیٹر کے آگے بیٹهے سوچتی ہوں
کیا آج بھی وہ جهگی والے
سرد راتوں میں بچے لیے اونچی حویلی کی کہانیاں
بچوں کو سناتے ہیں
کیا آج بھی وہ اک کمرے کی چهت
ان کے سروں پہ قائم ہے

Advertisements