آئینے میں ایک اور پچھتاوا…….حمیرا فضا

کبھی کبھی کسی گناہ سے آگاہی ،کسی غلطی کا ادراک،کسی خطا کا احساس ہی تب ہوتا ہے جب وہ نجاست کی طرح جسم سے چمٹ جائے ۔وہ نجاست جسے ندامت کے سینکڑوں آنسو ملکر بھی پاک صاف نہ کر پائیں۔وہ بھی ایک ایسے گناہ کی مرتکب ہو چکی تھی جسے شریف لوگ منہ سے ادا کرنا بھی معیوب سمجھتے ہیں۔وہ گناہ جس نے اُس کے سکھ کو کھا کر دکھ کو امر کر دیا تھا۔وہ گناہ جو دن کے اُجالے کا دشمن اور رات کی سیاہی کا ہمنوا تھا ۔وہ گناہ جو آئینے کی طرح گھر کے ہر کونے پر آویزاں تھا جس میں اُسے اپنی صورت مسخ شدہ دکھائی دیتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:ارضی از شفا سجاد

یہ عمر کا وہ سادہ حصہ تھا جس نے جمیل کی آنکھوں میں اُسے زندگی کے رنگین پہلو دکھائے تھے ۔بے باک جوانی نے محبت کو کمزور کردیا تھا ، بزدل بنا دیا تھا ۔ ایسی بزدل محبت جو عزت کی طاقت سے لڑ نہیں پاتی اور نفس کے دھاری وار سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے ۔ محبت کی اِس راہ میں شرافت کچلی گئی تھی جس پر چلتے چلتے جمیل بے وفائی کے راستے نکل گیا اور وہ پشیمانی کی منزل پر تنہا رہ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پریت از فرحین خالد

پہلے پہل تو یہ پچھتاوے کے کیڑے بدن پر صرف رینگتے تھے مگر شادی کے بعد پوری رفتار سے دوڑنے لگے۔جیسے سارے موسم سال بھر آگے پیچھے دوڑتے ہیں جسم میں چبھتے اضطراب کے گرم موسم __خیالات کو کپکپاتے قلق کے سرد موسم__ دل کو پل پل توڑتے خزاں کے مایوس موسم __ اور آنکھوں کو پرنم رکھتے بے خوابی کے گیلے موسم ۔ جب کبھی اقبال کی معصوم صورت میں جمیل کی مکروہ شکل نظر آتی تو زندگی کا روپ مزید بھیانک ہو جاتا۔اقبال کی محبت وہ خوبصورت خواب تھا جس میں وہ ڈر ڈر کر جی رہی تھی ۔خوف تھا کہ اقبال کی آنکھ نہ کھل جائے اور وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی دنیا سے بے دخل نہ کر دے ۔ جس کے باہر صرف حقیقت کی رسوائی بھری دنیا تھی۔
اُسے لگتا تھا یہ صرف ملال نہیں وہ جوان سوکن ہے جو اُس کے اور اقبال کے دل کے بیچ تاک لگا کر بیٹھی ہے۔ضمیر کی دن رات کی ضرب اُن طعنوں کی طرح ہے جو گھر بیٹھی ڈھلتی عمر کی لڑکیوں کو جاہل ماں باپ کستے ہیں ۔اور افسوس کی یہ تیز جلن اُس بھڑکتی آگ کا نتیجہ ہے جو صرف چمڑی ہی نہیں سکھ چین بھی جلا دیتی ہے ۔
“فریحہ ساری آوازیں میری سماعتوں سے قطع تعلق کر لیں جو تمہارے بارے میں غلظ سُن کے سہن کر جاؤں، سب تصویریں آنکھوں کو نوچ کھائیں جو تمہارے سوا کسی اور کو دیکھوں ، تمام لفظ خاموشی کے در جا بیٹھیں جو تمہاری دل آزاری کروں۔ ” اقبال کی ایسی شاعرانہ تعریف اُس کی جان پر ہمیشہ ایک ڈنگ کی طرح لگتی ۔پچھتاوے کا وہ ڈنگ جو کئی کئی روز تک اُسے تڑپاتا رہتا۔
عورتوں کو اچھے شوہر مل جائیں تو وہ اُنھیں اپنے کسی نیک فعل کا انعام سمجھتی ہیں مگر اُسے تو بھولے سے بھی کوئی چھپائی ہوئی، کمائی ہوئی نیکی یاد نہ آتی۔وہ بچپن سے ہی فلم گانوں کی شوقین تھی ،صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح کہنے والی خودسر طبیعت کی مالک ،بے شرمی کو لباس کی خوبصورتی اور بد اخلاقی کو صاف گوئی کی علامت سمجھنے والی۔وہ سمجھنے لگی تھی کہ وہ بچپن سے ہی قصور وار ہے۔ لڑکپن کی خطاؤں کے قطروں نے اُسے گناہوں کے سمندر میں دھکیلا تھا، وہ سمندر جس میں اقبال کی اچھائیاں اور اُس کی کوتاہیاں تیر رہی تھیں ۔وقت الارم بجا رہا تھا کہ ڈوبنا مقدر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

سجدہ سہو از صوفیہ کاشف

اقبال کی وفا اور جمیل کے دھوکے نے اُسے یکسر بدل ڈالا تھا ۔زندگی کے البم میں غلطیوں کی پرانی تصویریں تو تھیں لیکن کوئی نئی تصویر کا اب تصور تک نہ تھا۔ ابتداء میلی تھی اختتام سے بھی یہی اُمید تھی اُسے ، مگر بیچ کی اُجلی چادر نے گھنا سایہ عطا کیا تھا محبت اور نعمتوں کا سا یہ ، لیکن اُس سائے کو کاٹتی تاسف کی دھوپ نے اُسے کبھی مکمل خوش نہ ہونے دیا۔
صرف وقت ہی نہیں ، اقبال کی آنکھوں میں محبت بھی بڑھ رہی تھی اور اُس کی آنکھوں میں تعجب۔اکثر وہ اپنے آپ کو اُس تنگ دست شخص کی طرح لگتی جو راہ چلتے چلتے مالا مال ہو چکا ہے۔ ہنوز بے یقینی تھی کہ یہ چاہت اور عزت کی دولت قسمت کی مہربانی ہے یا آزمائش کا اِشارہ ۔ حیرانی تھی کہ اقبال اِتنا اچھا کیسے ہو سکتا ہے اور اُس پہ حیرت کہ اُس کا کیسے ہو سکتا ہے۔شاید یہ تنہائی کی معافیوں کا صلہ تھا یا گناہ کی سنگینی کا احساس ،لیکن دل مطمئن کیسے ہوتا ، اعتراف جو ابھی باقی تھا۔
زندگی کئی واقعات سے بھر چُکی تھی جو یقین دلانے کے لیے کافی تھے کہ وہ اقبال کے بلکل قابل نہیں ۔ایک بار بھری محفل میں اقبال کی ایک شوخی کزن نے اُن کا کڑا امتحان لیا تھا ۔سوال تھا کہ اُن کی لیلی مجنوں جیسی محبت کی وجہ کیا ہے ؟۔”اگر میں مصور ہوتا وفاداری ، پارسائی کی شکل بناتا تو کاغذ پر فریحہ کا وجود اُبھرتا۔اگر شاعر ہوتا حُسن اور دلکشی پر غزلیں کہتا تو فریحہ کا پری چہرہ ہی اس کا موجب بنتا۔لیکن میں ایک عام سا بندہ ہوں اور اِتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ میرے دل کی زمین ہری بھری ہے حسِین ہے کیونکہ میں ایک نیک اور خالص دل کا شریک ِ حیات ہوں۔” وہ شرم کے مارے چپ رہی تھی مگر اقبال کے جذباتی جواب نے اُس کی شرم کو شرمندگی میں بدل دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:

رکی ہوئ صدی از سدرت المنتہی
وقت آگے بڑھ کر اور کم ہوا مگر ڈنگ پوری شدت سے لگ رہے تھے ۔وہ جب بھی خود سے ملتی بے ایمانی بے وفائی کے ڈنگ، اُلجھن اور چبھن کے ڈنگ درد کے کئی نشان چھوڑ جاتے جن کو چھپاتے چھپاتے وہ تھک چکی تھی ۔کبھی کبھی اُس کا دل چاہتا اقبال کو سب کچھ بتا کر بے قراری کی دوزخ سے رہائی پالے پھر یہ سجی سجائی ، بنی بنائی جنت کو کھونے کا ڈر ایسے گھیر لیتا جیسے ویران جنگل میں تن تنہا مسافر کو بھوکا پیاسا شیر۔
“جانتی ہو فریحہ میں نے اِتنے برس نابینا گزارے ہیں ۔” اِس انوکھی بات پر اُس نے اچنبھے سے اقبال کو دیکھا۔ “دکھ اور فریب نے وہ روشنی سلب کر لی تھی جس سے چیزیں اور رشتے اچھے نظر آتے ہیں۔پھر تم میری زندگی میں آئی اور تمھارا چہرہ جو صرف درخشاں نہیں سچا بھی ہے ، اِسے دیکھ کر سب رشتے صاف اور سچے نظر آئے ، ہر شئے خوبصورت دیکھائی دی ۔” اقبال کا سر زعم سے اُٹھا ہوا تھا اور اُس کی گردن غم سے جھکی ہوئی۔ عین دل پر ڈنگ لگا تھا لاعلم اندھی محبت کا ڈنگ ۔وہ اِس شخص کو روک نہیں پا رہی تھی جو اپنے ہی خمار میں اُسے محبت کی چوٹیوں تک لے کے جا رہا تھا بغیر یہ جانے کہ وہ روز پشیمانی کی کھائی میں گِر رہی ہے۔
دیکھنے میں اُس کی زندگی مکمل تھی ۔تین پیارے پیارے بچے ، محل جیسا گھر ، محبت لٹاتا شوہر ۔وہ خوشیوں سے ایسے لدی ہوئی تھی جیسے مہارانیاں زیورات سے لدی ہوتی ہیں۔مگر اندر ایک خلا تھا جسے پُر کرنے کے لیے آسائشیں اور محبت ناکافی تھی۔یہ زندگی کی وہ خالی جگہ تھی جو اُس کے اپنے لفظوں سے ہی بھرنی تھی ،اپنے سچے لفظوں سے۔
آخر ہمت نے ہتھیار ڈال دیے۔جسم ڈنگ کے وار سے تھک چکا تھا تو روح ضمیر کی مار سے۔اُس نے یہ اندیشہ کچل دیا کہ وہ جنت سے نکالی جائے گی کیونکہ دوزخ میں رہنا اب اُسے گوارا نہ تھا۔شادی کو نو برس بیت چکے تھے ۔اُس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اِس شادی کی سالگرہ پر اقبال کو اب تک کا بہترین تحفہ دے گی ، حقیقت اور سچ بیانی کا تحفہ۔

وڈیو دیکھیں: حماد کے ساتھ ایبٹ آباد کی طرف سفر!

و ہ اظہارِ محبت میں جتنا سخی تھا وہ اُتنی ہی کنجوس تھی ۔”فریحہ بس ایک ہی شکایت رہی تمط سے کہ تم باتیں سنبھال کر رکھتی ہو۔آج شام میں جلدی آجاؤ ں گا نیا سامان ، نئے تحفے لے کر ۔دل کے بکسے سے سارا پرانا سامان نکالیں گے ،نئی چیزوں کی جگہ بنائیں گے ۔آج ہم ڈھیروں باتیں کریں گے ۔میٹھی باتیں جمع کر کے تلخ باتیں تفریق کر دیں گے ۔دل کی شیلف خالی رکھنا ،نئی باتوں اور نئی یادوں کے لیے ۔ ” اقبال کے چہرے پر بے تحاشہ محبت تھی اور لہجے میں گہری سنجیدگی ۔وہ محبت کی ادا میں ایسی کھوئی کہ لہجے پر غور نہ کر سکی۔
اُن کی شادی کی سالگرہ پر موسم خوشگوار سا ہوتا تھا شاید دل مسرور ہو تو باہر کی دنیا کو مسکرانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔لیکن آج موسم میں سوگواری تھی یقیناً باہر کی دنیا دل کی مرضی کے ماتحت تھی۔معصّیت کا لباس اُترنے والا تھا اُس کا دل کیا سفید کپڑے پہن لے ۔وہ سکون کے حصول سے پہلے سکون کی تاثیر محسوس کرنا چاہتی تھی۔
اقبال کے آنے میں کچھ ہی دیر باقی تھی مگر اُس کے آنے سے پہلے نہ آنے کی اطلاع آگئی ۔ایک حادثے نے اقبال کی جان لے لی تھی اور اِس خبر نے اُس کی ۔وہ دلوں کی عارضی جدائی مٹانے کے لیے بھاگ رہی تھی اور دائمی جدائی سے ٹکرا گئی ۔یقین اور برداشت ساتھ نہیں دے رہے تھے کہ اب اُس کا اور اقبال کا ساتھ نہیں رہا۔ “اقبال چلے گئے کیوں چلے گئے __ کیسے جا سکتے ہیں وہ میرا دل کا بوجھ ہلکا کیے بغیر __ کیسے چھوڑ سکتے ہیں میری محبت کی شدت کو جانے بغیر__ کیوں خاموش ہو گئے میرے گناہوں کا اعتراف سنے بغیر۔ “وہ بے ہوشی کی کیفیت میں تھی لیکن ضمیر کی دل شکستہ آوازیں ہر پل ستا رہی تھیں ۔
وہ روز اقبال کی کسی نہ کسی پسندیدہ چیز کو ضرور چھوتی ۔کسی کو محسوس کرنے کا شاید یہ احمقانہ طریقہ ہو مگر محبت ہمیشہ فراست اور حماقت کے بیچ ہی جھولتی رہتی ہے ۔وہ ہچکولے لیتی کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ رہی تھی ۔پتوں اور ہواؤں میں اُداس گفتگو جاری تھی۔اقبال کے ہاتھ کے لگائے پودے اُس کے منتظر کھڑے تھے ۔ ننھے سیب ، انگور کی بیلوں کو تسلی دے رہے تھے ۔سفید کلیاں ، لال گلابوں کے گلے لگ کر رو رہی تھیں ۔
اُس کے ہاتھ میں ڈائری تھی وہ ڈائری جس سے وہ چڑتی تھی جو اُس کے وقت اور محبت میں برابر کی شریک تھی ۔اقبال نے بچھڑنے سے ایک دن قبل تین صفحے لکھے تھے ۔اُس نے پہلا صفحہ کھولا آنکھیں پانی سے بھر گئیں پورا صفحہ محبت سے بھیگا ہوا تھا۔اِتنی تڑپ دیکھ کر بے چینی اور بلبلا اُٹھی، اِتنی عزت پا کر عزتِ نفس کو مذید ٹھیس لگی ، الفت کی ایسی دیوانگی پر خاموش محبت کو نہایت صدمہ ہوا ۔
اُس نے اگلا صفحہ پلٹا ۔ یوں لگا ہوا کے لب سِل گئے ، پودوں کی سانس رک گئی ، پھولوں نے آنکھیں میچ لیں اور کھڑکی کی جان نکل گئی ۔دوسرے صفحے پر وہ گناہ برہنہ پڑا تھا جو اُس کی دانست میں پردے میں تھا ۔جس کی لاش کا ٹھکانہ بس اُسے ہی معلوم تھا ۔اقبال نے ٹھکانہ ڈھونڈ لیا تھا اور لاش کو معافی کی قبر میں دفنا دیا تھا ۔اُسے لگا سارے ڈنگ مر گئے ، سارے بوجھ ہٹ گئے، سارے نشان مٹ گئے۔
وہ تیسرے صفحے پر آئی جسم کو حیرت اور غصے کے کئی جھٹکے لگے مگر جلد ہی اُسے محبت اور ظرف نے تھام لیا۔معافی کی خیرات دے کر معافی کی بھیک مانگی گئی تھی ۔آخری صفحہ نہیں ایک آئینہ تھا پچھتاوے کے ہاتھوں میں تھاما ہوا آئینہ ، جس میں صرف اُس کے گناہ کی شکل نہیں ،اقبال کے گناہ کا عکس بھی تھا۔

Advertisements

4 Comments

  1. Pingback: SofiaLog.Blog

Comments are closed.