“فقط انسانوں کی دنیا…”

بس تین حرف اور
قصہ تمام شد
میری امیدیں تمام شد
میرے خواب تمام شد
وہی آس جو سب کچھ گنوا کر
اس ایک سے لگائی تمام شد
اسی آس کی کرچیاں ہر سو،ہر جانب
بکهری پڑی ہیں
کہا ہی کیا تها کہ قصہ تمام کر ڈالا
میری امیدوں کو توڑ ڈالا
میرے خوابوں کو روند ڈالا
فقط یہی کہ میں عورت نہیں
انسان ہوں
یوں جانوروں کی طرح تو مت پیٹو
میرے اتنا ہی کہنے پر تین حرف کہہ ڈالے
یہ کہہ کر دہلیز سے دهتکار ڈالا
جاو! رہو انسانوں کے جنگل میں
کہ عورت صرف چار دیواری کی
قیدی ہے
بکهری کرچیوں سے جهولی کو بهر کے
انسانوں کے جنگل کے اس درندے کو کہہ آئی
کہ جس انسانوں کی دنیا میں اس چاردیواری کے باہر تم رہتے ہو
وہ انسانوں کی دنیا نہیں ہے
وہ تم جیسے سفاک لوگوں کا اک کهنڈر ہے
جہاں تم درندگی کے گهناونے کهیل کهیلتے ہو
سمجهتے ہو کہ آواز اونچی تو ہم مرد
ہاتھ اٹهائیں تو مردانگیت کی نشانی
پیٹ ڈالیں تو سر اونچا رہے تمہارا
کہ ہم پیر کی جوتی سے زیادہ نہیں
تین حرفوں کے خوف تلے ہم کو پل پل مسلو
کچلو اور روند ڈالو
اب کی بار یہ بهول ہے تمہاری کہ میں ان تین حرفوں کا بوجھ لے کر
اس سماج کی مظلوم ٹهہروں گی
یہ ریت میں نے بدل ڈالی
اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر دکهاوں گی
میں اک نئی دنیا بساوں گی
جو انسانوں کی دنیا ہو
فقط انسانوں کی دنیا!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوشین قمر

وڈیو دیکھیں: نھنے حماد کے ساتھ ایبٹ آباد کی طرف

Advertisements