مگر!…………از صوفیہ کاشف

اگر جو تری ہر یاد کے بدلے

ترے آنگن میں

پھول کھلنے لگتے

تو کیسے گھر کے سب دیوارو در،

ہر ذینہ،ہر آنگن ،

پھولوں سے بھر چکا ہوتا

پاؤں تک دھرنے کو وہاں

تجھے رستہ نہیں ملتا،

اور اگر جو میری آنکھ میں اترا

تری صورت سے جڑا ہر اک خواب

قدموں کے نیچے

کہکشاں دھرتا

تو کیسی رنگ برنگی کہکشائیں

چمکتی ہوی ،رقص کرتی ،سارے شہر میں امڈ چکی ہوتیں

زمین کا منظر تک

تری نگاہوں سے اوجھل کر چکی ہوتیں!

اگر جو میری ہر آہ

ترے گھر کی تجوری میں

ایک منور سکہ دھرنے لگتی

تو کھڑکیوں اور دروازوں کو توڑتا

گھر سے درہم و دینار کا

اک سیلاب زر بہہ نکلتا!

تو چھپانا بھی چاہتا تو چھپا نہیں پاتا!

مگر یہ محبت کی ستم ظریفی تھی

یا میری کمزور ہستی کی مفلسی

کہ نہ پھول کھلے نہ کہکشائیں سجیں

نہ سکے ہی جنم لیے!

میری محبت بھی جیسے

کسی فقیر کی قبا تھی

ہر طرف سے شکستہ

ہر رخ سے گدا تھی!

سو نہ دنیا کی نظر میں جچی

نہ تجھے ہی لبھا سکی!

محض کسی مزار پر گری

کسی برباد کی آہ تھی!

خاموش اور بے زبان

خالی اور بے نشاں!

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s