” پلیٹ فارم “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از نیل زہرا

ساٹھ برس ہو گئے ۔۔میں اس پلیٹ فارم پر موجود ہوں ۔۔ لیکن اکیلا نہیں ۔ ان گنت لوگ حتیٰ کہ جانور،پرندے، حشرات الارض سبھی یہاں ایک کشمکش کے ماحول میں زندگی گزارتے ہیں ۔ اولادِ آدم جن میں امرا بھی ہیں اور غربا بھی، آجر بھی ہیں اور مزدور بھی، طبیب بھی ہیں اور مریض بھی ۔ہر کوئی اپنی طبعی فطرت پر قائم ہے۔ مگر لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو شکل و صورت میں انسان جب کہ اندر سے درندوں کی خصلتیں رکھتے ہیں۔ ایک گاڑی رواں دواں ہے ۔ یہ عجیب و غریب ہے۔اس کا نہ اگلا سرا نظر آتا ہے اور نہ ہی پچھلا ۔لیکن چلتی رہتی ہے ۔کبھی نہیں رکی ۔مسافر سوار کرائے جاتے ہیں ۔جن میں عمر رسیدہ زیادہ ہوتے ہیں ۔البتہ جنگی فوجی، جوان، عورتیں اور بچے حتیٰ کہ ایسے بچے جنہوں نے ابھی تک پلیٹ فارم کو دیکھا تک نہ ہو ، ان کو کئی باتوں کے علاوہ پلیٹ فارم سے گزرتی گاڑی کا کوئی کرایہ نہیں لیا جاتا۔۔ مسافروں کو سوار کرانے کے لئے جو احباب انہیں لے آتے ہیں ۔بچھڑنے کے سوگ کی کیفیت میں ہوتے ہیں ۔جن میں ایسے بھی ہوتے ہیں ۔جو ان کی جدائی پر دل ہی دل میں خوش ہوتے ہیں ۔یہاں کوئی نہیں بتلاتا ہے کہ یہ سلسلہ کب سے جاری ہے ۔اور آئندہ کب تک جاری رہے گا ۔ گاڑی کا ایندھن کبھی ختم نہیں ہوتا ۔اور نہ مسافروں کی کمی ہوتی ہے ۔بس پلیٹ فارم پر مسافر نمودار ہوتے ہیں ۔گاڑی میں سوار ہونے تک یہیں رہتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:ارضی

گاڑی کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ہر مسافر کے لئے علیحدہ ڈبہ ہوتا ہے ۔لیکن ہر ڈبہ منفرد ، کوئی اس قدر خوب صورت روشن تمام آرائشوں اور معتدل درجہ حرارت اور بہت سے ڈبے غلاظت اور آلائشوں سے بھرے۔۔یا تو یخ بستہ یا ایسی حرارت کہ جیسے سورج کو ایک ڈبے میں بند کر دیا گیا ہو ۔مسافر کو اس کی ” حیثیت ” کے مطابق ڈبہ دیا جاتا ہے۔ اچھے ڈبوں کے مسافر خوشی خوشی سوار ہوتے ہیں اور کبھی دوبارہ پلیٹ فارم پر واپس نہ جانے پر مطمئن لیکن بُرے ڈبوں کے مسافروں کو ان کے لاکھ انکار کے باوجود زبردستی ٹھونکا جاتا ہے ۔کسی کو معلوم نہیں کہ اُ سے کب اور کیسے ڈبے میں سوار ہونا پڑے گا ۔انہی میں سے ایک میں بھی ہوں ۔پلیٹ فارم سدا آباد اور گاڑی چل رہی ہے ۔

…………………

لکھاری: نیل زہرا ینگ وومن رائٹرز فورم (اسلام آباد چیپٹر)۔۔۔

یہ بھی دیکھیں: خوبصورت پاکستان کی اک جھیل

Advertisements

4 Comments

Comments are closed.