“رقص” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعدیہ بتول

سنو اے ہم سفر میرے
یہی کانٹوں بھرا رستہ
میری منزل کو جاتا ہے
کہ اب خوشبو کا یہ موسم
نہیں اس دل کو بھاتا ہے
تمھارے ساتھ ہو کر بھی
دلِ وحشی اکیلا ہے
میرے جیون کی وادی میں
عجب وحشت کا میلا ہے
میں اس وحشت کے میلے میں
اکیلی رقص کرتی ہوں
کبھی اٹھتی ،کبھی گرتی
کبھی سر کو پٹختی ہوں
نہ جیتی ہوں نہ مرتی ہوں
بس اک وحشت کے میلے میں
مسلسل رقص کرتی ہوں
مسلسل رقص کرتی ہوں …..

” سعدیہ بتول “

یہ بھی پڑھیں:جنت از رابعہ بصری

Advertisements