ارضی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی پی کے نام کا کنگن ہو!
کوئی چُوڑا ہو!
جسے بانجھ کلائیاں پہن سہاگن ہو جاویں
مرا روپا، جوبن ہار گِیَو!
سرکار سائیں!
سانول کا بچھوڑا مار گِیَو!
مرے سینے درد غموں کے تیر اتار گِیَو!
بیمار نصیبوں بیچ سَجَا منجدھار گِیَو!
منجدھار پڑے!
سرکار سائیں!
غمخوار سائیں!
اک بار سائیں!
سنو عرضی بس اک بار سائیں!
وہ پھر سے آج اُس در پر منت مانگنے پہنچ گئی تھی ایک اُجڑی ہوئی بیوہ منت اُس ایک نظر خیرات کی منت جو ایک دفعہ اُٹھ کر اُس کی جانب ایسی پلٹی کہ پھر کبھی اُس کے آنگن لوٹ کر نہ آئی مگر جاتے جاتے سُندری بائی کا سب چین سکون اور اس کا سورج کی طرح چڑھتا جوبن اپنے ساتھ لے گئی.اور ایک تاریک زرد شام اُس کی جھولی میں ڈال گئی.ابھی بھی وہ ایک پیاسے دیے میں اپنا انتظار اپنی آس امید ڈال کر اسے صاحبِ مزار کی قبر پر رکھ کر پلٹی ہی تھی کہ کجری بیگم جو ساز و رقص میں اُس کی شاگرد بھی تھی اور سُندری بائی کے بعد اجمیر والے کوٹھے کی اگلی بائی بھی آگے بڑھ آئی آج نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو لاکھ سمجھانے کے باوجود ضبط کا دامن چھوڑ بیٹھی تھی جب بولی تو لہجے میں تلخی در آئی.
سُندری بائی کچھ ہوش کے ناخن لے سکھی کب تک یوں ریاضت کرتی رہے گی یوں دیے دھاگے جلاتی باندھتی رہے گی تو آگرہ کی سب بڑی طوائف ہے آج بھی لوگ تیرے ایک اشارے پر اپنا سب لُٹا بیٹھتے ہیں بھول مت ہم طوائفیں عورت تو ہوتی ہیں مگر جذبات و احساسات عورتوں والے نہیں رکھ سکتی یہ ہمارے پیشے کی عورتوں کا شیوہ نہیں ہے کہ عشق کے در کی چاکری کرے ہم تو کاغذ کے چند ٹکرو کی غلام ہیں اور تو یہ سب کس کے لیے کر رہی ہے اُس انسان کے لیے جو بس ایک نظر تجھ پر ڈال کر ایسا گیا کہ پلٹ کر خبر نہ لی. نہ کوئی سوداہوا نہ رقص.وہ ٹھہرا سید زادہ پاک آل پاک نبی کی اور تُو تو اجمیر کی ایک تنگ و تاریک گلی کے ایک بدبودار کوٹھے کی ایک ہندو طوائف بھول جا سُندری وہ نہیں آئے گا۔ اُتار دے یہ کالا چولا ہر کسی کو یہ کالی چادر پاک نہیں کرتی بڑے نصیب والے ہوتے ہیں جو اس سیاہ چادر کی پاکی تک پہنچ !پاتے ہیں.بس کر دے چھوڑ دے..!”
” توُ نے ٹھیک کہا کجری بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اس سیاہی کی پاکی تک پہنچ پاتے ہیں اور میرا سفر اس پاکی کی طرف اُس دن شروع ہوا تھا جب وہ سیاہ پوش میرے کوٹھے پر آکر چند لمحے رُکا تھا تو نے ایک بات غلط کی کہ اس دن کوئی سوداہ نہیں ہوا. اُسی دن تو سودا ہوا تھا نظر سے نظر کا سودا سفید سے سیاہی کا سوداہم. تو اسے ایک نظر کا عشق کہتی ہے میں اسے روح سے روح کے ملن کی گھڑی کہتی ہو میری روح اُس کی روح میں کہی بہت پہلے کسی لامکاں کے سفر کے دوران تحلیل ہو چُکی ہے یہ تو ہزاروں لاکھوں نظروں کے بعد کی ایک نظر تھی اور کتنا حیران تھا وہ شاہ پیا بھی جیسے وہ بھی روح سے روح کے اس ملن کے لمحے میں قید ہو گیا ہو…..وہ آنکھیں بند کیے اُسی لمحے کی شیرینی کو محسوس کرنے لگی جیسے وہ ابھی بھی کسی مقدس یونانی دیوتا کی مانند اس کے سامنے کھڑا دنیا سے بے نیاز اسے دیکھ رہا ہو. وہ ابھی اسی احساس میں قید تھی کہ . اچانک ایک بے ہنگم شور کی وجہ سے اُس نے آنکھیں کھول دی سامنے ہی ایک اُجڑا بکھرا ہوا کوئی شخص دنیا سے بے نیاز اپنی دھن میں بولتا چیختا چلاتا آکر بیٹھ گیا.وہ بہت حیران سی اسے دیکھ رہی تھی اس کے ہاتھوں میں مختلف رنگوں کی شیشیاں تھی جو باری باری کھول کے وہ اپنے اوپر اُنڈیل رہا تھا.وہ کافی دیر اُسے دیکھتی رہی ایک عجیب اپنایت کا احساس ہو رہا تھا اسے اس سے.
یہ کون ہے کجری ؟؟؟ ارے یہ یہ فقیر سائیں ہے کہتے ہیں پہاڑوں سے اُتر کر آیا ہے یہ مجذوب ہے دیوانہ ہے…
وہ کچھ دیر تو سوچتی رہی مگر پھر اُٹھ کر اُس کے پاس جا کر بیٹھ گئی وہ اب سر جھکائے مست و مگن بیٹھا تھا اُس کا پورا چہرہ ست رنگی رنگوں سے رنگا تھا.
فقیر سائیں ایک رنگ کی شیشی مجھے بھی دان کر دیو میں بھی خود کو رنگ دو شاید اس رنگ کی رنگائی دیکھ کر وہ سیاہ پوش شاہ پیاہ آ جائے میرے آنگناں میں ایک دفعہ پھر سے.وہ مُسکرا دیا اور سر جھکائے ہی بولا …
ابھی بھی رنگوں کی متلاشی ہے تو کوئی سال پہلے آکر تو اپنے سارے رنگ تیرے آنگن میں چھوڑ آیا تھا کیا نہیں دیکھے تو نے, ہرا, نیلا, لال, پیلا سب تیرے در پر پڑے ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ کالا رنگ جو تمام رنگوں کا بادشاہ ہے حق کا رنگ ہے. ارے کرماں والیے محب تو ہوتا ہی سیاہ پوش ہے یہ تو محبوب ہوتا ہے جو ست رنگی ہوتا ہے یہ اُس کا کام ہے کہ چاہے تو اپنے رنگ میں رنگ دے چاہے تو سیاہ چھوڑ کر عشق کو امر کر دے . یہ کہتے ساتھ ہی اُس نے ایک ایک کر کے تمام رنگوں کی شیشیاں اپنے ہاتھوں میں اُنڈیل دی اور سر اُٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور تمام رنگ اُس کے چہرے پر مل دیے یہ لے محبوب نے رنگ دیا آج تجھے اپنے رنگ میں یہ کہتے ساتھ ہی وہ اُٹھ کر دیوانہ وار باہر بھاگا اور وہ ایک دفعہ پھر حیرت کا مجسمہ بنی بیٹھی رہ گئی ..
وہ آنکھیں وہ نظر وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی.
یہ سیاہ چادر جو اُس نے اوڑھ رکھی تھی یہ اُس دن اکیلے اُس کے نصیب میں نہیں آئی تھی وہ آگ جس میں وہ جل رہی تھی اُس میں کوئی اور بھی کب سے جُھلس رہا تھا..
راہِ عشق میں اگر ایک کے حصّے میں جنون آتا ہے آگ آتی ہے تو دوسرا اُس کی آنچ سے راکھ ہو نہ ہو جُھلس ضرور جاتا ہے..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

. شفاء سجاد..

Advertisements

3 Comments

Comments are closed.