شب گزیدہ آنکھیں
تخیل کیا کریں گی اب
حسین کرنوں کی رونمائی کا
جو مٹی چھو کے سونا بناتی ھیں
پرندوں کی اٹھکیلیاں
جن کے گلے سے قدرت مخاطب ھے
سنیں گے کیا وہ بند گوش
عجب مسحور محبت کے
مسرور ترانے
کسی دہقان کی کھڑکی سے دیکھو
آغازِ صبح کا
استقبال
کن لفظوں میں ھوتا ھے
تشکر کیا ھے جس نے
سکوتِ شب کو توڑا
سرگی کے ستارے کو
لپیٹا رضائی میں
سورج کی چٹائی کا
رخ زمیں کی طرف موڑا
ممنونیت کس کو کہتے ھیں
جو خواب آلودہ محل کے مکینوں کے بدن سے
نیند کی سوئیاں نکالے
کوئی تو ھے جس نے
فسونِ غضب کو توڑا
شاخے پہ کلی پھوٹی
ستاروں کی گلی روٹھی
ھواہیں پھر نئی امید کا پیام لیکر
کھٹکھٹاتی ھیں دریچوں کو
ارے کھولو
نیند کے رسیا
شب بھر جاگنے والو
انکھوں کے طاقچے کھولو
سوال پوچھو کبھی خود سے
تازگی کھو سی گئی ھے کیوں
کچھ تو تمھارے اندر کمی ھے یوں
کہ سکینڈے نیویا کے سارے عوارض
سنہری علاقوں کا
مقدر بن رھے ھیں کیوں؟
آفتاب پرستوں نے
منہ موڑ لیا مقدر سے
چندر مکھی پریشاں ھے
گرھن لگ نہ جائے
پھر کہیں نظامِ تمنا کو
اٹھاؤ پلکوں کے پردے اب
دل و دماغ سے جاگو
اس سے قبل کہ
سورج کی نوخیزی پہ
پختگی کی مہریں ثبت نہ ھو جائیں
کہیں نیند میں
تمھارے سارے ہنر
ضبط نہ ھو جائیں
کبھی تو لفظ تم بھی
انقلاب کا بولو…..
اور اپنی ذات سے
اس دریچے کی
پہلی کھڑکی کھولو….

………………..

یہ بھی پڑھیں: کٹھ بڑھئی از ثروت نجیب