“شب گزیدہ آنکھیں”_____از ثروت نجیب

شب گزیدہ آنکھیں تخیل کیا کریں گی اب حسین کرنوں کی رونمائی کا جو مٹی چھو کے سونا بناتی ھیں پرندوں کی اٹھکیلیاں جن کے گلے سے قدرت مخاطب ھے سنیں گے کیا وہ بند گوش عجب مسحور محبت کے مسرور ترانے کسی دہقان کی کھڑکی سے دیکھو آغازِ صبح کا استقبال کن لفظوں میں […]

Read More…