” بسری “_______ از نیل ذہرہ

گلگت کے مضافات میں ایک گاؤں ” داس “کے نام سے ہے ۔ یہاں بلند وبالا پہاڑوں کی جانب انتہائی غریب لوگوں کے گھر پھیلے ہوئے ہیں ۔ جو اکثر کچی جھونپڑیوں پر مشتمل ہیں ۔ جب بہار کا موسم آتا ، بلا تخصیص امیر غریب سب کے درخت کھل جاتے ، چشمے پھوٹتے ۔۔ گاؤں کے خوشحال لوگ اسے چنداں اہمیت نہ دیتے ۔ لیکن تنگی و عسُرت میں گزر بسر کرنے والے خُوش ہو جاتے کہ بہار ان کے لئےگرم موسم کا پیغام لاتی ۔ تاکہ وہ پھر خزاں جو جسم میں خون کی گردش کو یخ کرنے والی سردیوں کی خبر لے کر آتا کہ سکھ کا سانس لیں اور برفیلی ہواؤں کا مقابلہ کرنے کے لئے پھر سے تیار ہو جائیں ۔ بسری ، شٹو اور کُترو اسی بستی کے مکین تھے ۔ بسری اور شٹو میاں بیوی تھے ۔ دونوں ہی ادھیڑ عمر تھے ۔ کترو بسری کا رشتے دار تھا ۔ ان کا گزر بسر کچھ یوں تھا کہ بسری کے ذمے تمام وہ امور ہوتے جو کٹیا کے اندر اور اس کے قرب و جوار میں ہوتے ۔ مثلاً کٹیا کی مرمت، بکری کی دیکھ بال ، امورِ خانہ داری وغیرہ جب کہ اس کا شوہر شٹو گاؤں کے لوگوں کے لئے کورِ ی اور تھوٹی بناتا ۔ شٹو کا اصل نام ” فقیر ” تھا جو کم ہی لوگوں کو معلوم تھا ۔ وہ اپنے پیشے کے اعتبار سے شٹو ہی معروف تھا ۔ جس کا مطلب وہ شخص جو جانوروں کی سوکھی کھال سے لوگوں کے لئے کوری اور تھوٹی تیار کرتا تھا ۔ ( کوری اور تھوٹی پرانے وقتوں میں لوگ غربت کے باعث پاوں ڈھانپنے کے لئے استعمال کرتے تھے ) ۔ اس محنت کے عوض گاہک اسے اجناس کی صورت تھوڑا سا آٹا یا مکئ کے دانے دیتے ۔ وہ بہار کے آغاز سے ہی ہر دس پندرہ روز بعد پہاڑ پر چلا جاتا اور سوکھی جھاڑیاں کاٹ لے آتا جنہیں دونوں میاں بیوی پھیلا دیتے اور آئندہ سردیوں کے لئے کٹیا کی پچھواڑ اور چھت پر زخیرہ کر لیتے ۔ کترو ایک تن و مند شخص تھا ۔ اس نے شادی کی لیکن چند برس بعد وہ مرگئ ۔۔

یہ بھی پڑھیں:سجدہ سہو از صوفیہ کاشف

کترو کی عادتیں کچھ اچھی نہ تھیں ۔ اکھڑے مزاج کی وجہ سے لوگ اسے ناپسند کرتے مگر اپنے سخت کام اس سے لیتے ۔۔ وہ لوگوں کے لئے پتھر اور چکنی مٹی لے آتا ۔۔ اکثر پہاڑ سے لکڑیاں لا کر گاؤں میں فروخت کرتا ۔۔ یہ اپنی کٹیا میں شٹو کی نسبت آسودہ زندگی گزارتا ۔۔ بیوی کے مرنے کے بعد اس نے شٹو کی بیوی پر ڈورے ڈالنا شروع کیا ۔ بسری اس کی نیت کے فتور کو محسوس کرتی ۔۔ مگر کچھ نہ کہتی۔ صورتحال ایسی بھی نہ تھی کہ شٹو اس سے واقف ہو جاتا ۔۔ خزاں دھیرے دھیرے شدید سردی میں تبدیل ہورہا تھا ۔ ایک روز کترو کے کہنے پر شٹو اس کے ساتھ پہاڑ پر جانے کے لئے آمادہ ہوا ۔ ایسا پہلے بھی ہوتا تھا ۔ دونوں ساتھ جاتے اور جھاڑیاں کاٹ لے آتے ۔۔ کترو اکثر کو فروخت کرتا ۔ جب کہ شٹو زخیرہ کر لیتا۔۔ بسری نے رات کو چھوپٹی ( ایسی روٹی جو دو سے چار انچ موٹی ہوتی ہے ، اکثر و بیشتر خوراک کا لازمی حصہ ہوتی ہے ) گرم راکھ میں دبادی ۔۔ جونہی صبح کاذب نمودار ہوئی ، جھونپڑی کے دروازے کھٹ پٹ کی آواز نے بسری کو جگایا ۔۔ وہ اٹھی اور نیم گرم راکھ سے نکالا جو ابھی خاصی گرم تھی ۔۔ روٹی کو ایک پرانے کپڑے میں لپیٹ دیا ۔ اسی اثنا میں شٹو بھی جاگ اٹھا ۔ تینوں نے رات کے بچے ہوئے ابلے آلوکھائے ۔۔ شٹو نے روٹی کے کپڑے کو کمر سے باندھا ۔ وہ اور کترو اپنی اپنی رسیاں اٹھا کر چل دئیے ۔۔ بسری نے محسوس کیا کترو بار بار اس کی جانب عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ سورج ڈھل گیا ۔ شام سے رات ہوئی۔۔ جب شٹو گھر نہ آیا تو بسری معلوم کرنے کترو کی جھونپڑی کی طرف گئی ۔۔ جہاں اس نے لکڑیوں کا گھٹا دیکھا ۔۔ جسےابھی کھولا نہیں گیا تھا ۔۔ دھواں لئی کی روشنی میں فضا میں شکلیں بنایا اور بگاڑ رہا تھا ۔۔

یہ بھی پڑھیں: تم کیا جانو پریت از فرحین خالد

درمیان میں چولہے کی آگ کے پاس کترو لیٹا ہوا تھا ۔۔ اس کے ہاتھ میں شٹو کا روٹی والا کپڑا دبا ہوا تھا ۔۔ وہ کسی گہری سوچ میں تھا ۔۔ جبھی بسری کی آمد کا ہوش نہ رہا ۔۔۔ دفعتاً بسری کی آواز نے اسے چونکا دیا ۔۔ وہ ہڑبڑا اٹھا ۔ بسری نے شٹو کی بابت دریافت کیا تو اس نے کسی بناوٹی تعجب کا تاثر دیتے ہوئے کہا کہ شٹو پہاڑ کے دوسرے حصے کی طرف نکل گیا تھا ۔ انتظار کے بعد جب شٹو آیا تو وہ اکیلا ہی اپنی لکڑیاں لے کر آگیا ہے ۔ معاملہ تشویش ناک ہو چکا تھا ۔۔ دونوں ہی شٹو کی تلاش میں پہاڑ کی طرف چلے گئے ۔۔ انہوں نے کافی ساری لئی ساتھ اٹھائی ہوئی تھی ۔ ایک کے بعد دوسری لکڑی جلا کر روشنی کرلیتے ۔ سارے راستے میں کترو بے ربط سی باتوں میں بسری کو تسلی دیتااور خود کو اسکا انتہائی ہمدرد جتلانے کی کوشش کرتا رہا ۔۔ روٹی کا کپڑا ابھی تک اس کے ہاتھ میں موجود تھا ۔۔ کافی تلاش کے بعد بالآخر انہیں شٹو کی لاش نظر آئی جو ایک کے چوڑے پتھر پر تھی ۔ روٹی کے چھوٹے بڑے ٹکڑے ادھر اُدھر بکھرے پڑے تھے ۔ کترو نے بہت افسوس کا اظہار کیا ۔ بسری لاش کے قریب گئی ۔ اس نے لاش کو ٹٹول ٹٹول کر دیکھا ۔ اسے کوئی چوٹ لگی نظر نہ آئی ۔ نہ کہیں خون ۔۔۔ کترو بستی کی طرف دوڑا تاکہ وہ لوگوں کو خبر کر دے ۔۔۔ اس سے پہلے وہ روٹی کے کپڑے کو لاش پر ڈال چکا تھا ۔ شدید اور یخ کر دینے والی سردی پورے شباب پر آگئی تھی ۔ بسری شٹو کی محبت کو دل سے نہ نکال سکی ۔۔ ایک روز کترو نے اس سے کہا کہ وہ اس سے شادی کرلے ۔ وہ فوراً راضی ہوگئی ۔ یوں سردی کے اختتام تک وہ دونوں میاں بیوی بن چکے تھے ۔ ایک روز کترو نے پہاڑ پر جانے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ بٙسُری نے ( چُھوپٹی ) روٹی بنائی ۔ پرانےکپڑے میں لپیٹ کر اسے دے دیا ۔ دن کا سورج ڈھل گیا ، شام سے رات ہوئی ۔ جب کترو نہ آیا تو اس نے بستی میں ہمسایوں سے ذکر کیا ۔ تو دو جوان تلاش میں نکلے ۔ بسری لئی کی روشنی لیے ساتھ گئی ۔ بالآخر کترو مردہ پڑا ملا ۔۔ پاسکپڑے کے اوپر آدھی روٹی جوں کی توں تھی ۔۔ بسری کچھ نہ بولی ۔۔۔ روٹی اٹھا کر دور رکھ دی اور کپڑے کو جھاڑ کر لاش پر ڈال دیا ۔۔۔

فوٹو:عرفان فاروق

Advertisements