” کٹھ بڑھئی”______از ثروت نجیب

نظم نگار…ثروت نجیب

” کٹھ بڑھئی”

کروڑوں سال قبل
زمین کو
پتھر کے زمانے سے
بنی آدم
آباد کرنے کے جتن میں
آج تک مصروف ھے
کتنا مشکل تھا
غاروں سے مکانوں تک
کوڑیوں سے دوکانوں تک
قبلِ مسیح سے زمانوں تک
ارتقاء
جسکا سلسلہ
دھیرے دھیرے جاری ھے
کہ ابھی تو نمو کی
بہت سی پرتیں باقی ھیں
تہذیب و تمدن کے
رمز سیکھنے ھیں ابھی
شرق و غرب کے
اسرار کھلنے دو ذرا
ابھی تو زندگی بذاتِ خود معمہ ھے
روح کے بھید کو
تحقیق سے دُھلنے دو ذرا
ابھی تو کہکشاؤں میں
بہت سے سیاروں کی
دریافت میں گم ھے علم
ابھی تو دھرتی پہ
دونوں پاؤں رکھے ہی نہیں آبادی نے
بہت سے جزیرے مسخر ھونےکی چاہ میں
جنگلوں سے مانگتے ھیں پناہ
اور جنگوں میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے
سمندروں کی سمت بھی تبدیل کرنی ھے
ابھی تو زیرِ آب و گِل کھنڈروں کو کھرچ کر
عبرت کے نئےشھر دریافت کرنے ھیں
ابھی تو کئ منتظر زمانے مُلاقی ھیں
ابھی سے سیکھ گئے کچھ لوگ
نابودی کا مدعا
بس اک لفظ تباہ
جو ایک دوسرے سے شاکی ھیں
آلاتِ حرب پہ اِترانے والو
عسکریت کے تناؤ پہ ٹنگے
خشک ذہن اتارو
امن کے بُلبلوں کو
نہ پتھر مارو……
چھینٹے اڑیں گے
کِشت و خو ن کے
اندھے جنون کے
بکھیرنا بھی کوئی
مشکل عمل ھے بھلا
اے ابنِ قابیل
کیوں تخریب پہ غرور ھے؟
ٹوٹ گئے وینس کے دونوں بازو
وگرنہ
ہاتھ جوڑ کے تم سے
آج وہ التجا کرتی
دھرتی کا حسن
جنگ نوچ لیتی ھے
دنیا کے اس سُندر بن میں
گِدھ بننے سے اچھا ھے
ہُد ہُد بن جاؤ
بےسائباں پرندوں کو
کٹھ بڑھی کی ضرورت ھےـــــ

2 thoughts on “” کٹھ بڑھئی”______از ثروت نجیب

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s