اے لفظ گر!

سنو اے لفظ گر میرے
میں ابھی تک اس نظم کے سحر میں گرفتار ہوں
وہ ایک نظم جو تم نے کبھی سنائی ہی نہ تھی
مگر میں نے سنی تھی.
وہی نظم جو تم نے چاند کی چودہ تاریخ کو کسی بیتے دنوں کے دوست کو یاد کر کے لکھی تھی.
وہی! ہاں وہی جو میرے لیے نہیں تھی.
مگر یقین کرو وہ میں نے سُنی تھی.
حیران ہوئے نہ کہ وہ الجھے بالوں والی اُجڑی بکھری نظم میں نے کیسے سن لی.
کیوں کے وہ تو قید تھی تمہارے دل کے نہاں خانوں میں.
میرے شاعر ……
میرے مہرباں دوست.
جن سے عشق روح کے تار جُڑے ہو.
اُن کے اندر کی بھی سب بولیاں سب لفظ سنائی دیتے ہیں.
بس ایسے ہی ایک لمحے جب میری روح کا تار تمہاری بے چین روح سے جُڑا تھا..
تو میں نے وہ نظم سُنی تھی.
جو در حقیقت تم نے کبھی سُنائی ہی نہ تھی.
ہاں مگر میں نے سُنی تھی….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شفاء سجاد

Advertisements