یاد ہے تم کو!!!

یاد ہے تم کو
مجھے تم تتلی کہتے تھے
رانی .شہزادی کہتے
نہ حائل تھا کچھ درمیاں ہمارے
میری پکار تجھے کھینچ نہ لائی تھی
یاد ہے تم کو
اپنی تتلی اپنی رانی خود ہی گھائل کر بیٹھے
مصروفیت آڑے آئی اک دوجے کو بھلا بیٹھے
ہاں یاد ہے مجھ کو ,
میرے ہاتھوں کو جب چوما تھا
اب حالات کچھ بدل گئے ہیں
ہاں مصروف ہوں میں بھی
کچھ انا بھی ہے
کچھ ناامیدی بھی
لیکن راتیں جب کالی ہوجاتی ہیں
سڑکیں تھک کر سو جاتی ہیں
تب جلتے سپنے , دہکنے لگتے ہیں
ہاں مصروف ہوں میں
ان سپنوں کو بجھانے میں
نہ جانے کب کہیں
ان کو بجھاتے بجھاتے میں بھی بجھ جاؤں
ہاں بہت مصروف ہوں میں
اس رسوائی کو سہنے میں
دکھ کا سمندر پار کرنے میں
نہ جانے کب کیا ہو جائے
سب کچھ سہنا پڑتا ہے
کس کو فرصت ہے
دکھ سکھ سننے یا کہنے کی
ہاں ادھر مصروف ہو تم
ہاں ادھر مصروف ہوں میں

میمونہ صدف ہاشمی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.