“داستان نفس”

“داستان نفس” رشتوں کے دھاگوں سے بُنی کبھی ریشم کبھی کھدر سی کبھی کھردرا کھردرا پٹ سن ہے کبھی کوتاہ کبھی صدر سی کبھی نیلگوں نیلگوں سوچ میں گم کبھی میں’ ھم اور تم کبھی فکروغم میں زردی مائل کبھی خوف کا رنگ اسکے حائل کبھی خوشیوں کی لالی لے کر محبت کا منبع ‘ […]

Read More…