غزل     از رابعہ بصری

میں”تری بات بات میں کیوں ہے؟

زِندگی مشکلات میں کیوں ہے ؟

جِس کی آواز تک نہ چھو پائی

آج تک میری ذات میں کیوں ہے؟

میری آنکھوں میں کِتنا پانی ہے

اِتنا غم کائنات میں کیوں ہے؟
دِن تو چل اب گزر ہی جاتا ہے

بےسکونی سی رات میں کیوں ہے؟
جِھیل میں عکس چاندکا تھاناں

تیری تصویر ہات میں کیوں ہے؟
میری گھٹی میں تو وفا تھی خیر

تْو بهی تنہا حیات میں کیوں ہے؟
میری شہرت کو پائمال کیا!!

اور خود واقعات میں کیوں ہے؟

…………………

رابعہ بصری

Advertisements

3 Comments

Comments are closed.