میں بلبل ہزار داستان

میں بلبلِ ہزار داستاں

میرے پَر

مجبوری کے دھاگے سے بندھے ھیں

اور سوچیں

گھرہستی کے قفس کی قیدی

میں دانہ پانی کرتے کرتے

اکثر

روح کی سیرابی بھول جاتی ھوں

کتابیں

الماری کے چوبی خانے سے

 مجھ کو جھانکتی ھیں

میں ان پہ جمی گرد جھاڑنے

ان کے پاس جاؤں تو

ننھے بچے کی طرح

باھیں پھیلاتی ھیں

کہ شاید انکو گود میں اٹھانے کی باری آ ہی گئی

 لیکن

میں انھیں وقت کی کمی کا عذر کر کے

وعدے کی چوسنی تھماتے ہوئے

دلاسا دے کر

گزر تو جاتی ھوں

 پر ایک ہوک

 میرے دل سے بھی اٹھتی ھے

اوپری خانے میں

سرخ غلاف سے لپٹا

ضابطہِ حیات ہی

میرا منتظر ھے کب سے

سوچتا ھوگا

نجانے میں اسے پڑھے بنا

جسم و جاں کی جھنجھٹیں

کیسے سلجھاتی ھوں

یہ جو ہر دن خود سے بلا وجہ

الجھ سی جاتی ھوں

معّمہ ہی معّمہ

 ہر قدم درپیش ھوتا ھے

انتشاری ذات کی

پرانی خصلت کی طرح

چِپک  سی گئی ھے مجھ سے

میں سرگرداں

طمأنت

گمشدہ انگوٹھی کی طرح

دماغ سے اوجھل

سکون لپٹا ھے مصلےمیں

گر کھولوں تو قرار پاؤں

میں مصروفیت کے کھنڈر کو

کریدوں تو

ذات کے آثار پاؤں

 شب کے پچھلے پہر

نیند کو ڈائری پہ ترجیح دے کر

سو جاتی ھوں بے فکری سے

مگر

خوابوں میں قلم فریاد کرتا ھے

نئی کتابوں کا ہر صفحہ

مجھ کو یاد کرتا ھے

تہیہ کر کے اٹھتی ھوں

میں زندگی کو

بے مصرف

 کاموں کے جھنجھٹ سے نکالوں گی

مگر جب دن نکلتا ھے

 نسیان ذدہ بوڑھی عورت کی مانند

 میں خود کو بھول جاتی ھوں

صافی ہاتھ میں لے کر

جھاڑتی ھوں نویلی گرد

ہانڈی کے مصالحوں میں

رچ جاتا ھے شوق میرا

کفگیر کو مانجھتے مانجھتے

میرے ذِھن میں بس یہی چلتا ھے

 مہینے بھر کا راشن کیوں

بیس دنوں تک چلتا ھے

میرا بچہ

کہیں کمزور نہ ھو جائے

چلو

حلوہ بناتی ھوں

کچھ اچھا پکاتی ھوں

پشیمانی تو یہ ھے کہ

فراموش کر کے خود کو بھی

کوئی بھی خوش نہیں ھوتا

  میں

 نہ میرے مہرباں

 پیاسی روح

 نہ سیر حاصل جاں

 البیلی کتابیں

نہ قرنوں قدیم قرآں

سناؤں کس کو

 کون سا دکھڑا

میں بلبلِ ہزار داستاں
از ثروت نجیب

Advertisements