تم کیا جانو پریت

آج جانے کیسی رات ڈھلی تھی۔۔۔گھٹن ایسی تھی کہ قبر میں ہونے کا احتمال گزرے۔ آفس سے آکے میں آنگن میں پڑی چارپائی پہ ہی اوندھا پڑ گیا تھا اندر کمرے کے تندور کو کون سہتا۔ اماں نے یوں بے سدھ پڑے دیکھا تو سردائی بنا لائیں ۔ حلاوت سے بولیں ، تھک گیا میرا چندا؟  لو یہ پی لو میرا بچہ، پھر توانائی نہ آئے تو کہنا۔ اماں کو کیسے بتاتا کہ نوکری چُھٹ گئی تھی آج، وہ ایسے ہی وظیفے کر کر کے تھک چکیں تھیں۔ مجبوراً اٹھا، گلاس منہ کو لگایا تو وہ پاس پڑا گتا اٹھا لائیں اور مجھے ہوا جھلتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔ کتنی بار کہا ہے یہ آسمانی رنگ نہ پہنا کر، تیری کنجی آنکھیں وہی رنگ دھار لیتی ہیں ۔۔۔ دیکھا لگا لایا نا نظر ۔۔۔ ! میں ہنس پڑا۔ اماں ۔۔۔بس کر دیں دنیا کو مجھے نظر لگانے کے علاوہ اور بھی کام ہیں۔۔۔اور آپ یہ چچی بیگم کی طرح سوچنا بند کردیں! جیسی وہ خود وہمی ہیں آپ کو بھی بنا رہی ہیں۔ اماں کا ہاتھ جذبات میں تیزی سے چلنا شروع ہو گیا تھا۔ بولیں وہ وہم نہیں ہے آج مُنا پھر غائب ہو گیا تھا۔۔ ان کی خوف سے پھیلتی پتلیوں کو دیکھ کے میں بھی متوجہ ہوا، ان کے ہاتھ سے گتا لے کر ان ہی کو جھلنا شروع کر دیا اور وہ غیر محسوس طریقے سے بولتی چلی گئیں۔۔۔ خاکی، تم چاہے ان باتوں کو نہ مانو مگر آج منا بند کنڈی کے دروازے سے کیسے غائب ہوا اور کیسے لوٹا یہ ایک انہونی ہی رہے گی۔۔۔ پورا محلہ چھان مارا مگر منے کو تو جیسے زمین ہی نگل گئی تھی۔ پھر آپ ہی آپ باتھ روم کے کواڑ کے پیچھے سے روتا ہوا نکل آیا۔ میں اماں کے بھولپن سے محظوظ ہو رہا تھا بولا، گھنٹوں پانی بہاتا ہے وہ بیٹھ کے وہاں ۔۔ پہلے دیکھ لیا ہوتا تو یہ سنسنی نہ پھیلتی۔ چچی کو تو بریکنگ نیوز بننے کا خوامخواہ کا شوق ہے۔۔۔ امی نے میری طرف دیکھ کے کہا، نہیں پیارے ، وہ سچ کہتی ہے، اس گھر میں کچھ ہے۔ رات کو جس طرح چھت پہ کوئی سامان گھسیٹتا ہے وہ آواز تو تم نے بھی سنی ہے۔۔۔ پھر کل جو ہوا۔۔۔ اس سے تم کیسے انکار کر سکتے ہو۔۔۔ ؟ میں ذرا سا گڑبڑایا ۔۔۔بولا ، ہر چیز کا ایک لوجیکل ریزن ہوتا ہے ایسے ہی پراسرار نہ بنائیں معاملے کو، وہ تو میٹر میں آگ لگی تھی اسی کے شعلے تھے جو بھڑک اٹھے ۔۔۔ اماں بحث پہ اترتیں تو ٹاک شوز کو مات کر دیتیں بولیں۔۔۔ دو شعلے ؟ پورے گھر میں چکراتے پھرے ہیں ساری رات اور پھر آپ ہی آپ چھت کی جانب اڑ گئے میرا تو سورۃ البقرہ پڑھ پڑھ کے حلق خشک ہو چکا ہے۔۔۔ گھر میں عجیب سی فضا ہے۔ جیسے ہر طرف مایوسی نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: اسیران سراب

میں جان چھڑانے کے لیئے اُٹھ کھڑا ہوا اور کہا ، آج کھانا نہیں کھاؤں گا اماں، میرے لیئے روٹی نہ ڈالیئے گا۔۔۔ چھت کی طرف جانے کے لیئے بڑھا تو اماں نے کہا ۔۔۔ بیٹا اس کالی رات کو چھت پہ نہ جا۔۔۔ میں دو سیڑھیاں بیک وقت ٹاپتا ہوا بولا، سگنل نہیں آرہے اماں۔۔۔ شاذی سے بات کرکے آتا ہوں۔۔۔ اماں شاید حصار باندھ رہی ہوں گی میں نے دیکھا نہیں۔۔۔ 

چھت کا دروازہ کھول کے جو قدم  دھرا ہی تھا کہ عجیب سی  ناگوار بو نتھنوں سے ٹکرائی۔۔۔ میں نے اسے اگنور کیا اور منڈیر پہ ٹک کے شاذی کو فون ملایا۔ جو اس نے نہ اٹھایا مجھ سے ناراض جو تھی۔ میں بھی مَنا مَنا کے تھک گیا تھا۔سوچا کہ ابکے نہ اُٹھایا تو جائے جہنم میں ۔۔ میں بھی فالتو نہیں۔۔۔ پھر یاد آیا کہ صرف ” جاب لیس ” ہوں۔۔ اپنے ہی اوپر ہنسا۔۔۔ ایک ہوا کا جھونکا مجھ سے ٹکرایا تو مجھے اچھا محسوس ہوا ، مگر لگا کے یہ مجھ تک ہی محدود ہے کیونکہ درخت کے پتے نہیں ہل رہے تھےاسی اثنا میں شاذی نے بلآخر فون اُٹھا لیا تھا۔۔۔ بولی فرمایئے۔۔۔ میں بھی بلا تمھید ہی شروع ہوگیا کہ، بس کر دو شاذی اور کتنا ستاؤ گی؟ کتنے فون کیئے ہیں تم کو میں نے ؟ اس نے تنک کے کہا جبتک گھر الگ نہیں کروگے میں ایک لفظ آگے نہیں سننے والی ۔۔۔میں بھی اس ٹاپک سے عاجز آ چکا تھا تنفر سے بولا، شاذی تم سے تو بہتر ہے کہ میں کسی چڑیل سے بیاہ رچالوں، جو صرف مجھ میں بسیرا کرے کسی نئے گھر کی فرمائش نہ کرے۔ اچانک ایک مترنم ہنسی فضا میں بکھر گئی تو میں اپنی بات بھول کر اطراف میں دیکھنے لگا۔۔۔ گھپ اندھیرا تھا کچھ نظر نہ آیا۔۔ میں نے کان سے پھر فون لگایا مگر شاذی رکھ چکی تھی۔۔۔ میں نے گہری سانس لے کر سگریٹ جلائی تو ایک سیاہ ہیولے کو اپنے قریب پایا۔۔۔میرے ہاتھ سے لائٹر چھوٹ گیا۔۔ میں نے چلا کے کہا ، کون ہے وہاں ؟ کوئی جواب نہیں آیا میں نے موبائل کی ٹارچ آن کرنا چاہی تو گھبراہٹ میں ہاتھ سے فون پھسل کے زمین پہ بکھر گیا۔ اب صرف ہوا کی سرسراہٹ تھی اور بے نام موجودگی کا احساس۔ میں نے بڑھتی سانسوں کو قابو کر کے پھر پکارا۔۔۔ کون ہے؟ اسبار میری آواز میں خوف غالب تھا اور لہجہ گھٹا ہوا تھا۔ کوئی لہر سی تھی جو میرے آس پاس منڈلا رہی تھی اور میں آہستہ آہستہ بے بس ہوتا جا رہا تھا۔۔ میرے پیچھے ایک پتھر آ کے گرا تو میں اس اچانک وار سے بوکھلا گیا اور زمین پہ پڑی ٹوٹی الگنی میں الجھ کر گر گیا۔۔یکدم ایک تیز دھار چیز میرے پیر کی انگوٹھے میں چبھی اور وہی لہر میرے اندر سرایت کرگئی۔۔۔ میں شاید بے ہوش ہوچکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:رکی ہوی صدی

اس واقعے کو دو مہینے  بیت چکےتھے مگر میری بے کلی برقرار تھی۔ اماں سے کہہ دیا تھا کہ نوکری جلد دھونڈوں گا تاکہ انکا اطمینان قائم رہے۔مجھے  بھی پتہ تھا کہ مجھے دوسری نوکری باسانی مل جائے گی مگر طبیعت اتنی مضمحل رہتی کہ دل چاہتا کہ یونہی تنہا پڑا رہوں کسی کا منہ نہ دیکھوں۔

صبح جب آنکھ کھلی تو گھر میں ایک فساد بپا تھا۔ چچی بیگم اچانک طلاق کا مطالبہ کر بیٹھی تھیں اور چچا جان بھی غصے میں آگ بگولہ ہوئے واہی تباہی بک رہے تھے۔۔۔ اماں بیچ بچاؤ میں لگیں تھیں ۔ میں نے اُٹھ کے دروازہ مقفل کرلیا۔ دل اس دنیا سے اُچاٹ ہو چکا تھا۔ موبائل اٹھایا تو اس میں ایک میسج تھا۔۔ سینڈر کا نام نہیں تھا۔ کھولا تو درج تھا۔۔۔
 خاکی میں تم میں بستی ہوں !
میسج کا متن دیکھ کے مجھے تعجب ہوا کہ یہ کون ہو سکتا ہے۔۔۔ شاذی میری منکوحہ کو ایسی رومانٹک باتیں کہاں کرنا آتیں تھیں۔ شادی کے آٹھ مہینوں میں وہ اتنی ہی بار ناراض ہوکے میکے گئی تھی ۔تو پھر یہ کون تھا۔۔۔ میں سوچتے سوچتے پھر غنودگی میں چلا گیا تھا۔۔۔ کوئی دھیمے سُروں میں گا رہا تھا۔۔۔🎶🎶
 بن گئی چھایا، چھل بلیا کی۔۔۔۔ بانوری پیا کی۔۔۔
مجھے اس سندری کی شکل نہیں نظر آ رہی تھی۔۔ محسوس ہوا کہ میں چھت پہ ہوں اور وہ دراز زلفوں والی حسینہ ہواؤں میں رقصاں ہے۔۔

اس کے بدن پہ کپڑے نہیں ستاروں کےتہہ در تہہ ہالے تھے۔۔ جن میں سے بدن کی جھلملاتی چمک میری آنکھوں کو خیرہ کیے دے رہی تھی۔۔۔ کبھی نظر بھر پایا تو دیکھا کہ اسکا رقص دیوتا کو پرنام کرنے جیسا ہے جہاں داسی اپنے ذات کو تلف کرکے اپنا آپ دان کرنا چاہتی ہے۔۔۔ وہ وجد میں تھی اور میں دم بخود تھا ۔۔۔ گھنگرو کی جھنکار سنائی دی تو میری نظر  پیروں پہ گئی ، دیکھتا ہوں کہ اس کے پاؤں زمین سے اونچے تھے اور وہ پیر بکرے کے کُھر سے مشابہ تھے یہ دیکھتے ہی میں خوفزدہ ہوگیا اور ہڑبڑا کے اُٹھ بیٹھا تو واقعی اپنے آپ کو چھت پہ پایا۔۔۔ جہاں اب  مکمل خاموشی کا راج تھا۔ زینہ اترتے ہوئے میں سوچتا رہا کہ مجھے آخر کچھ یاد کیوں نہیں رہتا۔۔جانے کب آیا ہوں گا ادھر۔۔۔ اماں نے دیکھتے ہی مجھے دم کیا تو ذہن کچھ واضح ہوا۔ بولیں ارے میرے شہزادے، تو کیوں دیوداس بنا پھرتا ہے؟ میری مانو تو جا کے لے آؤ اسے جس کے پیچھے روگ لگائے بیٹھے ہو۔ عین اسی وقت چھناکے سے برتن کی الماری کا شیشہ ٹوٹ گیا۔۔۔چچی اور اماں دونوں کھانے کے کمرے میں دوڑیں اور میں نے واپس اپنے خوابوں میں پناہ لی۔ 

وہی سندری نقشین (ہاتھ کے) پنکھے کی آڑھ لیئے جلوہ گر نظر آئی ۔۔۔وہ پوچھ رہی تھی۔۔۔ خاکی ، میں تمھاری ہوں نا ؟ میں نے کہا۔۔ مجھے تو اپنا پتہ نہیں۔۔ اس نے مایوسی سے سر جھکا لیا۔۔۔ وہ ٹکی رہی تو میں نے پوچھا کیا نام ہے تمھارا؟ وہ رازدارانہ انداز سے بولی  کسی کو بتاؤ گے تو نہیں ؟ میں نے نفی میں سر کو جنمبش دی تو وہ چہک کے بولی ۔۔۔ باقی  ۲۰۲ !!  میں اس عجیب سے نام پہ مسکرایا پوچھا کہاں کی ہو ؟ بولی یہاں سے ذرا ہی دور ہےنا اندلس۔۔۔ وہیں سے آئی ہوں ۔ میں نے بے یقینی سے آنکھیں پٹپٹائیں تو وہ ہنس پڑی۔۔۔۔بولی تم خاک سے ہو اور میں آگ سے ہوں ، تم دن کا نور ہو میں رات کا گھور اندھیرا ہوں ،   تم آس ہو میں یاس ہوں ، تم خرد ہو اور میں اتم جنون ہوں ۔ ہم ایک دوسرے سے یکسر جدا ہو کے بھی ایک ہیں۔۔۔ ایک  خدا کی ہستی سے جو ہوئے ۔ جانتے ہو۔۔۔ میں تم میں جیتی ہوں ، تمھاری سوچ میں شامل ، تمھاری اشتہا کا حصہ ، تمھاری رگوں میں تحلیل ہوں۔۔۔ میں۔۔ تم سے۔۔۔۔ وہ کہتے کہتے رک گئی تو مجھے لگا کہ کسی نے سُروں کی لہروں سے مجھے نکال پھینکا ہو۔ میں نے کہا ۔۔ بولو نا ۔۔۔ کیا کہہ رہی تھیں ؟ وہ قدرے توقف سے بولی مجھے تم سے عشق ہے ! ہم جنات اگر کسی سے نین ملا لیں تو جان دے دیتے ہیں۔۔ پر ساتھ نہیں چھوڑتے ۔۔۔تم۔۔۔۔ اب صرف میرے ہو! میرے بھگوان بھی اور میرے پتی بھی۔ میں اُٹھ بیٹھا تو وہ بھی پردے کی آڑھ سے نکل آئی ۔۔۔ اس کی صورت دیکھتے ہی مجھے غش آگیا۔

یہ بھی پڑھیں:بوجھ

آنکھ کھلی تو اماں تسبیح لیئے سرہانے بیٹھی تھیں مجھے جاگتا پا کے سو شکرانے ادا کرتے ہوئے بولیں 

مولا تیرا لاکھ لاکھ کرم ، تین دن کے بعد آج خدا نے میرے خاکی کو دوبارہ زندگی دی ہے۔۔ اللہ تم کو جیتا رکھے۔۔ میرا گلا سوکھ رہا تھا اماں نے جگ اٹھایا تو میں نے وہی لے کےُمنہ کو لگا لیا۔۔ اماں نے بتایا کہ شاذی روانہ ہوچکی ہے رات ڈھلتے ہی آجائے گی۔ میں نے خفیف سا اچھا کہا۔ بیٹا تمھیں کیا ہو گیا تھا؟ کیسی کیسی آوازیں آتی رہی ہیں اس کمرے میں ۔۔۔ میں نے حافظ صاحب کو بلا بھیجا ہے۔ ان کا یہ کہنا ہی تھا کہ اماں اپنی کرسی سمیت گھسٹ کے دروازے سے باہر جا گریں ۔۔۔ میں نے اماں کو آواز دینی چاہی مگر میرے کانوں کو بھی اپنی آواز سنائی نہ دی۔ میں بے سدھ تھا سو تلملا کے رہ گیا ۔ رات کے کسی پہر مجھے ہوش آیا تو باقی وہیں پائنتی پہ بیٹھی تھی اور مجھے کھانے کے لیئے کوئلے نما آلو بخارے پیش کر رہی تھی میں نے دوسری طرف منہ پھیر لیا۔۔۔ اس نے میرے ہاتھ تھام کے کہا۔۔۔سوامی ، مجھ سے منہ نہ موڑنا !!! مگر مجھ میں نقاہت ہی اتنی تھی کہ بولا نہ گیا پھر بھی ہمت جٹا کے پوچھا ، اماں کہاں ہیں ؟ اس نے ایک قہقہہ لگایا اور کہا کہ بڑھیا مرہم پٹی کرا کے پڑی ہے باہر۔۔۔پھر بھڑک اٹھی ،  جو تمھارے اور میرے بیچ میں آئے گا اس کو میں نشت کر دوں گی۔ اس کے طیش کی یہ لہر شاید میں نے بھی مستعار لی اور تقریباً چلایا کہ تم نے میری ماں کو ہاتھ بھی کیسے لگایا !!! میں بستر سے اُٹھ کے کمرے کے باہر جانے لگا تو میرے پیر من من بھر کے ہو گئے۔۔۔ دروازہ اپنے آپ ہی چرچرا کے برابر ہوگیا ۔ اب میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں پلٹ کے اس کو فیس کرتا۔ وہ مجھے کہیں نظر نہیں آئی تو میں نے کرسی کا سہارا لیا اور بیٹھتے ہوئے کہا۔۔ کیا چاہتی ہو ؟ 

آواز آئی ، تم پہ بسیرا ۔۔ تم بھی تو یہی چاہتے ہونا ؟ میں نے نفی میں سر ہلایا تو وہ کسی حسین پری کا روپ دھار کے میرے قدموں میں آ بیٹھی۔۔۔ بولی تم کو  پتہ ہے ہم دونوں ایک جیسے ہیں ۔ ایک سا دل ہے ہمارا اور ایک جیسے شوق ۔ تم صرف مجھ میں شامل رہو پھر دیکھنا کیسے میں تم کو سرور بخشوں گی ، تمھاری طاقت بنوں گی ، تم سے کبھی کچھ نہ مانگوں گی ۔۔۔بس ۔۔۔ ان انسانوں سے دور رہو صرف میرے بن کے ۔۔۔۔ اس کی وارفتگی مجھے بیزار کر رہی تھی میں نے تحمل سے اس کو سمجھانا چاہا کہ ، باقی ۔۔۔ ہم الگ الگ راہوں کے مسافر ہیں۔۔۔ اور یہ راستے کہیں نہیں ملتے ۔ میں زیادہ سے زیادہ ابھی تیس سال اور جی لوں گا اور تم۔۔۔ کیا عمر ہے تمھاری  ؟ وہ سر جھکائے بیٹھی تھی  بولی ۸۳۵ سال ۔۔۔  میں نے گہری سانس لی اس کی آنکھوں میں جھانکا تو لگا کہ اپنی ہی آنکھوں میں دیکھ رہا ہوں۔ ان کی کشش سے اپنے آپ کو کھینچنا جان جوکھوں کا کام تھا جو بہرحال قوت ارادی کو یکجا کرکے کیا اور دو ٹوک انداز میں کہا ۔۔۔ مجھے ۔۔۔ تمھارا تسلط قبول نہیں !! چلی جاؤ واپس جہاں سے آئی ہو۔۔۔ میں تم سے محبت نہیں کرتا!!!!

یہ بھی پڑھیں:دوسری موت

 وہ تڑپ کے رہ گئی ، جذباتی ہو  کے میرے ہاتھ جوڑنے لگی۔۔۔یہ نہ کہو ۔۔۔ نہ کرو ایسا ۔۔ میں جان دے دوں گی مگر تم سے جدا نہیں ہوں گی۔ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔ اس کے بدلتے جذبات کیساتھ ساتھ کمرے کی فضا بھی بدل رہی تھی میں نے محسوس کیا کہ ایک جھکڑ سا کمرے میں چلنا شروع ہوگیا ہے اور کھڑکیاں دروازے بج رہے ہیں ۔اس نے جلدی جلدی کتنے روپ تبدیل کر ڈالے  جسے دیکھ کر میں بھی خوفزدہ ہوگیا۔ وہ  نرتکی کا روپ دھار کے بولی۔۔۔تم جانتے نہیں مجھ میں کتنی شکتی ہے۔ تم میرے ذریعے اس دنیا پہ حکومت کر سکتے ہو ۔ کیا چاہتا ہے ایک انسان۔۔۔  عزت ، دولت ، شہرت ؟؟ وہ سب میں تم کو دوں گی  بس اپنے شریر پہ حکمرانی مجھے دے دو۔۔ میرے بولنے سے پہلے ہی دروازہ کھلا اور حافظ صاحب اندر آگئے۔۔ باقی نے ایسی بھیانک چیخ ماری کہ اس کی تکلیف کی شدت سے میں بھی بے جان ہوگیا۔۔ 

ہوش آیا تو کمرے میں مکمل اندھیرا تھا حافظ صاحب کی تلاوت کی آواز گونج رہی تھی ۔ پھر وہ سخت لہجے میں تحکم سے بولے، آخری بار کہہ رہا ہوں اس کو چھوڑ دو ورنہ میں تم کو بھسم کر دوں گا۔۔ وہ مجھ میں ہی گونج رہی تھی ۔۔ اعتماد سے بولی  ، خاکی ایسا ہونے نہیں دے گا ۔۔۔ تم جو چاہو کر لو!!   حافظ صاحب اس کا نام پوچھ رہے تھے جو وہ بتانے سے انکار کر رہی تھی ،پھر  حافظ صاحب اس کو مسلمان ہونے کا کہہ رہے تھے اسپر وہ خاموش ہوگئی تھی ۔ میں نے وہی لمحہ پا کے اسکا نام لے دیا جس کے بعد وہ مجھ میں مکمل ساکت ہوگئی ۔۔۔ جو آخری آواز ابھری وہ باقی ہی کی تھی۔۔۔
دھواں بنا کے فضا میں اُڑا دیا مجھ کو

میں جل رہا تھا کسی نے بجھا دیا مجھ کو

فرحین خالد

Advertisements