” کٹھ بڑھئی”______از ثروت نجیب

نظم نگار…ثروت نجیب ” کٹھ بڑھئی” کروڑوں سال قبل زمین کو پتھر کے زمانے سے بنی آدم آباد کرنے کے جتن میں آج تک مصروف ھے کتنا مشکل تھا غاروں سے مکانوں تک کوڑیوں سے دوکانوں تک قبلِ مسیح سے زمانوں تک ارتقاء جسکا سلسلہ دھیرے دھیرے جاری ھے کہ ابھی تو نمو کی بہت […]

Read More…

“قریہ جاں میں کہاں اب وہ سخن کے موسم”________ینگ وومن رائٹرز کے زیر اہتمام ایک شعری نشست پروین شاکر کے نام

مورخہ ستائیس جنوری سن دو ہزار اٹھارہ بروز ہفتہ ینگ ویمن رائٹرز فورم، اسلام آباد چیپٹر نے سال نو کی پہلی شعری نشست کو خوشبو کی سفیر ‘پروین شاکر’ کے نام کرتے ہوئے پاکستان سویٹ ہومز اسلام آباد میں شاعری کی ایک بزم بعنوان “قریہ جاں میں کہاں اب وہ سخن کے موسم” سجائی ۔ […]

Read More…

ٹیکسٹیشنشپ Textationship

سائبر دنیا کی اپنی قباحتیں ہیں جس میں زندہ و تابندہ رہنے کے لیئے ہر وقت ڈیٹا ہونالازمی ہے اور دوسری اہم ضروت فون کا ہر وقت چارج ہونا اور یہ کام میں اپنی آتی جاتی سانسوں کے طرح کر رہی تھی گویا میں یہ دوہری زندگی ایک ایسے خواب کی مانند جی رہی تھی کہ نہ اِس میں زندہ تھی نہ اُس میں پنپ رہی تھی اس سیلی لکڑی کی مانند جو جلتی کم ہے اور دھواں زیادہ دیتی ہے۔

Read More…

Soul Wispering

Love! Somestories don’t need ink To be written, They need blood! ……. How to face dejection! I have learned To have a big laugh When all I want Is a bitter cry!!!!! ………. You left me in chaos!!!! ………… Destined to be an odd in your so even a life! Distraction!!! Can’t be an evil […]

Read More…

اے لفظ گر!

سنو اے لفظ گر میرے میں ابھی تک اس نظم کے سحر میں گرفتار ہوں وہ ایک نظم جو تم نے کبھی سنائی ہی نہ تھی مگر میں نے سنی تھی. وہی نظم جو تم نے چاند کی چودہ تاریخ کو کسی بیتے دنوں کے دوست کو یاد کر کے لکھی تھی. وہی! ہاں وہی […]

Read More…

یاد ہے تم کو!!!

یاد ہے تم کو مجھے تم تتلی کہتے تھے رانی .شہزادی کہتے نہ حائل تھا کچھ درمیاں ہمارے میری پکار تجھے کھینچ نہ لائی تھی یاد ہے تم کو اپنی تتلی اپنی رانی خود ہی گھائل کر بیٹھے مصروفیت آڑے آئی اک دوجے کو بھلا بیٹھے ہاں یاد ہے مجھ کو , میرے ہاتھوں کو […]

Read More…