” کٹھ بڑھئی”______از ثروت نجیب

نظم نگار…ثروت نجیب ” کٹھ بڑھئی” کروڑوں سال قبل زمین کو پتھر کے زمانے سے بنی آدم آباد کرنے کے … More

ٹیکسٹیشنشپ Textationship

سائبر دنیا کی اپنی قباحتیں ہیں جس میں زندہ و تابندہ رہنے کے لیئے ہر وقت ڈیٹا ہونالازمی ہے اور دوسری اہم ضروت فون کا ہر وقت چارج ہونا اور یہ کام میں اپنی آتی جاتی سانسوں کے طرح کر رہی تھی گویا میں یہ دوہری زندگی ایک ایسے خواب کی مانند جی رہی تھی کہ نہ اِس میں زندہ تھی نہ اُس میں پنپ رہی تھی اس سیلی لکڑی کی مانند جو جلتی کم ہے اور دھواں زیادہ دیتی ہے۔

یاد ہے تم کو!!!

یاد ہے تم کو مجھے تم تتلی کہتے تھے رانی .شہزادی کہتے نہ حائل تھا کچھ درمیاں ہمارے میری پکار … More

“داستان نفس”

“داستان نفس” رشتوں کے دھاگوں سے بُنی کبھی ریشم کبھی کھدر سی کبھی کھردرا کھردرا پٹ سن ہے کبھی کوتاہ … More