وقت

وقت کو وقت ملے اگر،

میری دہلیز پرکچھ خواب دھرے ہیں ،

وہ جو موسموں کی شدت سے ،

یا تو گھبرا گئے ہیں یا مرجھا گئے ہیں،

وہ جو خواب اس آس پر روز جیے

روز مرتے ہیں ،

کہ

وقت کا کوئی مکمل لمحہ،

کسی کن فیکون کے طلسم کی طرح

انہیں مکمل کر دے گا،

وقت کو وقت ملے اگر،

میری دہلیز پر بھکاری بنے خوابوں کو،

اک نظر دیکھ لے ،

اور پھر ان کے نصیب کا فیصلہ فیصلہ کرلے،

کہ لمحوں کی گرانی میں،

یہ خواب مر جائیں گے،

یا پھر کسی معجزے کے ہاتھوں،

جیں گے اور امر ہو جائیں گے۔

ثوبیہ امبر

یہ بھی پڑھیں:ہلکی ہلکی اداس ہوا

One thought on “وقت

  1. Pingback: SofiaLOG

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s