اسیرانِ    سراب  از فرحین خالد

میں اب نہیں لوٹوں گی ، لیکن میری یاد ستائے تو چاند کی چودھویں رات اس سمندر کو دیکھ لینا ، میں بل کھاتی اٹھان لیتی لہروں پہ سفر کرتی ملوں گی ، یہ اپنے ساتھ بہا لیجانے کا فن تو جانتی ہیں مگر تجاوز نہیں کرتیں .

رکی هوئی صدی. اذ سدرت المنتہی

مانتی ہوں کتاب تو میں بهی اپنی پرانی شیلف کے خانے میں بہت سی کتابوں کےدرمیان رکهہ کے بهول چکی هوں.اب اگر ڈهونڈنا چاہوں بهی تو مل نہ پائے.

ویسے بهی  اتنا وقت ہی کہاں کہ پرانی شیلف کا بند خانہ کهولوں..یہ بهی ڈر هے کے کہیں پهر سے کتابوں میں گم هوجائوں گی اور اس بار کهوئی تو خود کو بهی مل نہ پائوں …گهر والے تو ڈهونڈتے هی ره جائیں گے.