The Forty rules of love. (محبت کے چالیس اصول)By  ELIF SHAFAK                             

        
محبت زندگی کا پانی ہے ،  محبوب کی روح آگ ہے
کاینات بدل جاتی ہے جب آگ پانی سے محبت کرنے
لگے.”

                                                   ایک جادوی ،مسحورکن ،دل کی تہوں میں طوفان برپا کر دینے والی تحریر جو ایک ترکش مصنفہ ایلف شفق کے قلم سے نکلتی ہے اور قاری پر اپنی ایسی تاثیر چھوڑ تی ہے کہ آپ پہلے لفظ سے خود کو بھول کر مصنفہ کے وجود میں سرایت کر جاتے ہیں اور اسکی تحریر کی دھڑکن کے ساتھ ساتھ رھڑکنے لگتے ہیں. قاری ایک ہی وقت میں  اکسویں صدی کی یہودی عورت کی  گھریلو،خوبصورت اور مکلمل زندگی   کے ستم سہتا  اور  اسکی شناخت کے سفر میں اسکے حوصلےدیکھتا ہے تو ساتھ ہی ساتھ تیرھویں  صدی عیسوی کے درویش کے ساتھ صحراوں کی خاک چھانتا ، عشق کے عین سے قاف  تک کے سبق سکھاتا ،فلسفی کو  اسکے مرتبے سے اتار کر شاعر ،رقاص اور ملنگ   بناتا ، تڑپاتا، ِِسِسکتا  اور فنا ہو جاتا ہے.قاری   دو مختلف صدی کے دو مختلف کرداروں میں ایک روح ایک وجود کی شبیہ دیکھتا ہے.ایمان اور یقین  جو دنیاییں بدل دیتا ہے لہروں کے رخ موڑ  دیتا ہے  اور .عشق حقیقی  جو توڑ کر جوڑ دیتا ہے بگاڑ کے بعد تعمیر دیتا ہے اور فناییت کے بعد امر ہو جاتا ہے.

کہانی شروع ہوتی ہے   نارتھ ایمپٹن کی یہودی خاتون  ایلا سے ،نوجوان بچوں کی ماں اور بے وفا شوہر کی شریک حیات ، ماضی کی یادوں اور مستقبل کے خوابوں میں گم رہنے والی ،حال کی خوبصورتیوں سے نظر چرانے والی ایلا ،جسکی گھریلو زندگی اضطراب اور مسایل کا شکار ہے.ایلا کی خوبصورت اور مکمل گرہستی… جسمیں وہ ایک غیر ضروری ساماں کا حصہ ہو چکی ہے اور شوہر اور بچوں کے ساتھ بھرپور  دکھنے والی زندگی میں درحقیقت تنہاییوں اور سناٹوں  کی شکارہے.
   ”    کیونکہ محبت ہی زندگی کی روح اور مقصد   ہے.جیسا کہ رومی بتاتا ہے ،یہ سب کے دامن میں آتی ہے  بشمول انکے جو اسے جھٹک دیتے ہیں… حتی کہ وہ بھی  جو رومینٹک لفظ کو قابل اعتراض سمجھتے ہیں، ” –

    .ایلا  کی عزیز تر بیٹی  ماں کی صورت سے بیزار گھر چھوڑ جاتی ہے ، بےوفا شوہر مصروفیت کے نام پر راتیں سراوَں کی نظر کر دیتا ہے .موم بتیوں سے سجی ڈنرٹیبل اسکی گھر کی زندگی میں اجالا کرنے سے قاصر تھی.گھر اور  جگر گوشوں پر لٹای حیات اگر ایلا کو استحقاق نہ دے سکی تو بیکار جھوٹ تھا زندگی اک  گناہ بے لزت  تھی.ایلا ایک مشرق کی ستی سوتری نہ تھی کہ جل  جاے پر چولہے سے بندھی رہے.کچلی جاے مگر سرتاج کے پیروں تلے اور مر  جاے اولاد پر نچھاور ہو کر،   اسکے باوجود اس  کے نزدیک رشتون کی بے تحاشا ا ہمیت تھی.مغرب کے بے نیاز معاشرے کی وہ ایک وفا شعار اور روایت پسند  بیوی تھی .شریک حیات کی بے نیازی اور بچون کی بے اعتنای ایلا کو اسکے سجے سجاے گھر میں  تنہا کر دیتے ہیںں تو  اس پر خساروں کا انکشاف ہوتا ہے .

                                   “مجھے حیرت ہے جس طرح میں  نے زندگی گزاری۔ ہے کیا مجھے آگے بھی ایسے ہی
گزارنی ہے ؟ اور پھر ایک اور ڈرا دینے والا احساس  مجھ پر طاری ہو جاتا ہے……… ‘ ہاں’ اور ‘ناں ‘ اگر دونوں ایک ہی جیسے تباہ کن حالات کا باعث بنیں ؟؟؟؟؟؟”

ایلا  جو کسی خیال جزبے یا عادت کی موت بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی  مگر شادی شدہ زندگی میں محبت کی حیات پر یقین نہیں رکھتی.بیکار حقیقت ہو  چکی زندگی میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتی ا یلا  برسوں سے جانتی ہے کہ اسکی زندگی محروم محبت ہے. اور ان اطوار اور حالات کی عادی ہونے کےبا وجوداپنے  دل کی   خاموش کوٹھری سے یہ بازگشت سنای دیتی ہے  کہ ایک دن خاموشی سے وہ اپنا گھر، بچے،  بےوفا شوہر اور  اپنے ہمساے ہیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر دنیا  کے خطرناک راستوں پر  اکیلی نکل جاے گی.

                         ” محبت چنو محبت!!!! محبت کی شِیرینی  کے بغیر زندگی اک ازیت ہے….جیسا کہ تم دیکھ  چکے!!!”

                                 .  ایلا عادتوں اور روایات میں خود کو دفناے ہوے  ، برسوں کی مشقت اور قربانیوں کو مٹی ہوتے دیکھتی   ہے.     چند سو   گز کے گھر میں  میلوں کے فاصلے تھے قریب بیٹھے جسموں میں قیامت خیز دوری تھی.ایلا مرتے ہوے سپرٹ  کی طرح ناتواں ہڈیاں کھینچے زباں نکالے بیٹھ کر جب ایک ناآسودہ زندگی کی رنجیدگی سے تھک  جاتی  ہے تو “میٹھی گستاخی” کا مصنف کسی درویش کی طرح اسکی نبض پر ہاتھ رکھ دیتا ہے.
” باوجود  اسکے کہ کچھ لوگ
کیا کہتے ہیں، محبت محض ایک میٹھا احساس نہیں
ہے جس کو  آ کر فورا چلے جانا ہے.”

                                                 ایلا کے فقروں کی گونج عزیز کے الفاظ میں سنای دیتی ہے. ایک  دور دنیا کا باسی ،شفیق، محبت کرنے والا بےغرض شخص  ایلا کو   الجھنوں کے جالے سے  باہر نکالتا ہے اور اسکی بے رنگ بصارت کو رنگین کر دیتا ہے. راہ کے پتھر چنتا  ، ذات کا  شعور اور  جرات دیتا  ہے.جب ایلا اپنی گھر اور بچوں کو اپنے خوابوں کی طرح خوبصورت بنانے کی بے اثر  جدوجہد  کرتی ہے تو .ایسے میں کوی اسکے کان میں سرگوشی کرتا ہے.

  ” کچھ لوگ سرنگوں ہونے کو کمزوری  تصور کرتے ہیں جبکہ ایسا نہیں.یہ تو کاینات کے  ان اصولوں اور تقاضوں کو سکون اور اطمینان سے قبول کرنے کا اظہار ہے جن کو ہم بدل نہیں سکتے. “

ایلا کے لیے محبت، صرف ایک لمحاتی مٹھاس اور غیر اہم جزبہ تھا. .مگر محبت پر تنقید کرنے والے اکثر اسکے جانثار ثابت ہوتے ہیں.محبت کو وقتی جزبہ کہنے والی ایلا  جب محبت کی تاثیر چکھتی ہے تو اسکے لیے دنیا تیاگ دیتی ہے. اسکی پرسکوں ٹھری ہوی جھیل سی زندگی میں گرا محبت کا پتھر پانی کی سطح کو تلاطم میں بدل  دیتا ہے اور پھر اسکی زندگی کی ساکن جھیل کناروں تک یکسر بدل جاتی ہے. زہرا  دنیا کے دوسرے سرے سے ایلا کے  من کے خالی گھڑے کو جانچتا، پرکھتا. اور اسے محبت کے میٹھے پانی سے بھر دیتا ہے.

                    ” خدا کرے تمھیں محبت تب اور وہاں ملے جب اور جہاں تمھیں اسکی  توقع تک  نہ ہو.”

جب ایلا کے ساتھ بیٹھا ڈیوڈ    اسے دیکھ نہیں  پاتا عزیز سینکڑوں میل کی دوری سے اسکے رنگ پہچانتا ہے.اس کے دل کے ان کہے لفظ سنتا ہے اور خود  اسکی نظروں سے بھی اوجھل اسکے خوف دور کرتا ہے. ایسے میں ایلا محفوظ جگہ پر آنے والی موت سے گھاٹیوں کی موت کو ترجیح دیتی ہے ، روایت کی پابند زندگی پر محبوب کے ساتھ کو اہمیت دیتی ہے. اور اس دنیا سے چلے جاتی ہے جہاں ہر وقت خوفزدہ کرنے والی چیزیں وقوع پزیر ہوتی ہیں .ایک کم ہمت کم حوصلہ عورت میں  یہ جرات پیدا کرنے والا ،اسکے سکوت توڑنے والا اور اندھیر وں میں روشی کرنے والا عزیز تھا.

                                   ” ہر سچی محبت اوردوستی ایک غیر متوقع واقعات کی کہانی ہوتی ہے.اگر محبت سے پہلے اور بعد  میں   ہم  ایک سے رہیں  تو اسکا مطلب  ہے کہ محبت سچی  نہ تھی.”

                     دنیا کے دوردراز ،خطرناک اور مشکل راستوں پر سیاحت کا شوقین ملنگ  اور صوفی  عزیز زہرہ صرف ایک ناول لکھتا ہے.زہرہ منزل منزل دنیا کے شوا ہد دریافت کرتا کائنات کے چھُپے راز ڈھونڈنے میں  سرگرم ہے.زہرا نام کا یہ سورج ایلا کی زندگی کے ٹھہرے پانیوں میں سے طلوع ہوتا ہے .ساکن پانی کی سطح کو ہزاروں جھلمل کرتے ستاروں سے بھر تا اپنی  تمازت پانی کی تہہ تک پہنچا کر دم لیتا ہے.عشق کیا صرف مادی  جسموں کا ملاپ ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ ناول کبھی نہ لکھا جاتا.عشق وہ معراج ہے جو صرف خالص دلوں پر اپنے آسماں کھولتی ہے.یہ کشکول پکڑے فقیر لوگوں کی میراث نہیں.  ستاروں پر پاوں دھرنا ،آسماں سے پانی برسانا اور سوکھے پیڑ پر منٹوں میں گلاب اگا دینے کا ہنر   رب صرف شمس آف تبریز اور عزیز زہرہ  جیسے لوگوں کو ودیعت کرتا ہے.اتفاقات کے نام پر ہونے والے واقعات محبت کے معجزات تھے. جو ایلا کے پیروں کی بیڑھیاں کھول دیتے ہیں، اور نگاہوں سے غفلت کا پردہ ہٹا دیتے ہیں۔ دور کہیں انکی ڈوریں آسمانوں سے ہلای جاتی ہیں۔.

   “کوشش  کرو کہ اپنی راہ میں  آنے والی تبدیلیوں کیمزاحمت نہ کرو.اسکی بجاے زندگی کو انمیں سے گزرنے دو! پریشان مت ہو کہ تمھاری زندگی الٹ رخ چلنے لگی ہے.تم کیسے جان سکتے ہو کہ جس رخ کے تم عادی ہو وہی سب سے بہترین ہے؟”

اکسویں صدی کے مدمقابل چلتی دوسری کہانی ناول کے اندر موجود دوسرے ناول  sweet blasphemy کی ہے جو  عزیز  زہرا کے قلم سے نکلا ہے  اور ایلا کی  نئی نویلی نوکری میں  اس
کے ہاتھوں میں تبصرہ کے لیے پہنچا ہے. یہی وہ کتاب ہے جو ایلا کی زندگی کو نیے سرے سے تحریر کرتی ہے. یہ  ناول کہانی سناتا ہے  ہے شہرہ آفاق عالم اور عظیم فلاسفرجلال الدین  رومی  کے عروج سے زوال یا پھر زوال سے عروج کی، اسکے فلسفی سے درویش اور ہستی سے مستی تک کی..اور اس تبدیلی کا باعث بننے والے اسکے دلعزیز دوست شمس آف تبریز کی. ایلا کی زندگی کی تحلیل نفسی سے لے کر تعمیر ہستی تک  شمس کا ہی کارنامہ ہے .

.اس حصہ میں تیرھویں  صدی عیسوی   کے  عشق و مستی کے  وہ اسباق ہیں جو ایک ملنگ کو دنیا تیاگ کرنے پر پہنچا دیتے ہیں اور وہ سر پر راکھ ڈالے جنگلوں میں  اور  سر اور چہرے  کے بال منڈواے جنگلوں سے شہروں کی سمت جا نکلتا ہے. شمس آف تبریز  اور رومی کے عشق کی حدتیں  آنے والے صفحات پر طوفان برپا کر دیتی ہیں.اونچایوں پر رہنے والے فلاسفر کو زمین پر پٹخ دیتی ہیں اور رومی عشق کا عظیم سبق پڑھتا شمس کے ہاتھ سے ایک کے بعد ایک زہر کی پیالی امرت سمجھ کر پیتا جاتا ہے اور دونوں کا وجود دنیا میں امر ہو جاتا ہے.

           “    محبت کی وضاحت نہیں کی جاسکتی.اسکا محض  تجربہ کیا جا سکتا ہے، محبت کی وضاحت نہیں کی جا تی، پھر بھی یہ سب
واضح کر دیتی ہے.”

شمس آف تبریز رومی کے لیے ایک آیینہ ہے ایک ایسا آیینہ جو اسے اسکا اصل اپنی پوری سچایوں، خوبصورتیوں اور بد صورتیوں کے ساتھ   دکھاتا ہے.اپنی بدصورتیوں کو خوبصورت بنانے کے لیے رومی کیی کیی بھٹیوں میں جلتا ہے اور ہزار طرح کی آزمایشیں پار کرتا ہے. اپنے خیالات وتصورات سے تراشے سب بتوں کو گراتا اور نیی شکلوں میں ڈھالتا ہے.یہاں تک کہ بیچ چوراہے میں سیما( درویشانہ رقص ) تک جا پہنچتا ہے.اور عاشق و معشوق   “ایک ہاتھ آسمانوں کی طرف بڑھاے ہوے   اور دوسرا زمیں کی طرف جھکاے ہوے ، خدا سے ملنے والی ہر محبت اسکے  بندوں تک پہنچاتے ہوے”     ایک ایسی لے کو جنم دیتے ہیں ، ایسی مستی کی بنیاد رکھ دیتے ہیں جو آنے والی صدیوں تک درویشی کی پہچان بننے والی تھی.ایک ایسا رقص جو شمس وقمر کے متوازی چلتا فطرت اور کاینات کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے.  یہی درویشانہ رقص رومی کی زندگی میں طوفان و بادوباراں کے بعد اسکو تاریخ کے اوراق پر امر کر دیتا ہے اور  رومی کے علم کو معراج نصیب ہوتی ہے

                 “محبت کی شراب بہت نرمی سے ہمارے سروں کو  گھماتی ہے اور مجھے بہت خوشی اور شکرگزاری کے  ساتھ  محسوس  ہوا کہ ہوا نے مایوسی کی سرگوشیاں  بند کر دی ہیں. “

رومی کو ایک بے تاثیر مولانا سے ایک سچا عاشق، شاعر اور صوفی بناتے ہوے خود شمس ہزار طرح کی تکلیفوں سے گزرتا ہے.رومی کی نیک نامی کی دھجیاں اڑتی ہیں تو شمس کا دل بھی پاش پاش ہو جاتا ہے.رومی کی زات کا سفر شمس کو بھی موجود سے فنا ،بہار سے خزاں اور زندگی سے موت تک لے جاتی ہے.رومی کو نیے رنگ میں  رنگ کر شمس تبریز کا مقصد حیات پورا ہوا تو اسکو  الہام ہوتا ہے کہ اسکی روانگی کا نقارہ بج چکا.

         “ریشم کے پھلنے پھولنے کے لیے ریشم کے کیڑے کا مرنا ضروری ہے. ”

رومی نام کے ستارےکو تاباں کرنے کے لیے شمس نام کے سورج کو غروب ہونا پڑے گا.

                                        دنیا میں رہنمای کرنے والے لوگ ہی اکثر منزل چھوٹ جانے کا سبب بن جاتے ہیں. یہی لوگ جب اپنی نگاہ سے انسانوں کی شناخت کرنے لگتے ہیں اور انکو اپنے بناے پیمانوں پرجانچنے لگتے ہیں تو  کھرے اور کھوٹے کی نہ صرف  پہچان کھو بیٹھتے ہیں  بلکہ ہماری روحوں کو زخمی کرتے جاتے ہیں

      ” تمھارے اور خدا کے بیچ کسی کو نہیں آنا  چاہیے :کوی امام ، پادری نہ کوی ربی ، مزہبی اور  اخلاقی اقدارر کے ٹھیکیدار نہ کوی روحانی عالم اور نہ ہی تمھارا اپنا ایمان .اپنی اقدار اور قواعد پر یقین  رکھو لیکن انکو کسی بھی شے
پر حاوی مت ہونے دو!”

شمس آف تبریز کا یہ سبق دنیاوی مشعل برداروں کی نفی کرتا قاری کی آنکھ کو اس آینہ میں جھانکنے کی ترغیب دیتا دکھای دیتا ہے کہ جس میں رب کا عکس دکھا ی دے رہا ہو  .ہم ان کرداروں کی ازیتوں کو ایک ہمزاد کی  طرح اپنے دل میں محسوس کرتے جاتے ہیں.   شمس اور رومی کے تعلقات اور رومی کے شخصیت کا بدلاو معاشرے اور مزہب کے انہیں ٹھیکداروں کے ہاتھوں تنقید اور تحقیر کا باعث بنتا ہے.

تاریخ اور حال کا ایسا سنگم کہ جسکو الگ الگ کر کے دیکھنا مشکل ہے.تیرھویں  صدی عیسوی کو مصنفہ نے اکسویں صدی کے ساتھ اتنی مہارت سے گوندھ دیا ہے کہ قاری انکو الگ الگ کر کے نہیں دیکھ سکتا نہ وہ دیکھنا ہی چاہتا ہے.شمس کی کہانی آپکو ایلا کی طرف دھکیلتی ہے اور ایلا کو پڑھتے آپکا دھیان شمس کی طرف لپکتا رہتاہے. ہر اگلا سبق پچھلے حصے کا بے اختیار تسلسل ہے. ظاہر میں ایک دوسرے سے الگ دکھتی کہانیاں اصل میں ایک ہی دھاگے سے باندھی گیی اور ایک ہی خوشبو سے مہکای گیی ہیں. عشق اور عشق حقیقی  کی زندگی میں کیا اہمیت  ہے؟ خالق  کی محبت انسانوں سے امتحان لیتی ہے۔ محبوب صرف واحد ہو سکتا ہے اور واحد کو محبوب  بنانے کے لیے دنیاو ی شہرت اور عزت سے ماورا ہونا پڑتا ہے. کسی بشری تقاضے سے ماوارا ہونا  عشق کی معراج بھی ہے اور صوفی ازم کا بنیاد ی نکتہ بھی جسکو درجہ بدرجہ چالیس اصول واضح کرتے جاتے ہی.

                                                                      ناول کے ساتھ ساتھ چلتے ہوے  سامنے آنے والے کردار آپکی روح میں پنجے گاڑ تے جاتے ہیں. روز آف فارسٹ، شرابی، فقیر ، کیارا،  ایک ملنگ اور درویش کے عشق میں ترپتی کیمیا، باپ پر یقین رکھتا سلطان ولد، دنیا کی نظروں میں زمینی حقایق، سچ اور جھوٹ، اصل اور نقل میں فرق، ظاہر اور باطن کا دھوکہ  آنکھوں کے سامنے واضح ہوتے جاتے ہیں.  عشق وہستی کا کھیل کبھی حسد، رقابت اور آگ سے دامن بچا سکا ہے اور نہ ہی حسن  و محبت کی داستان نفرتوں کی شمولیت کے بغیر کبھی  مکمل ہوی ہے .ان صفحات پر بھی الہ دین، بیبرز اور  زیلٹ نفرت سے خون تک کا سفر طے کرتے نظر آ تے ہیں.کسطرح خبیث ترین کام مقدس سمجھ کر سرانجام دیے جاتے ہیں.رواییتی طبقات کا نکتہ نظر کتنا سچ اور جھوٹ لیے ہے سب روز روشن کی طرح واضح ہوتا جاتا ہے.تعصبات حقایق کو دھندلاے رکھتے ہیں اور کالے بادل چمکتے سورج کو نظروں سے اوجھل کر دیتے ہیں.اسی طرح روایتی سوچ اور حسد شمس اور رومی کو ملحد دکھا کر  بدصورت بنا دیتی ہے تو ایلا اور عزیز کی بے نیازی بھی برداشت نہیں  کر پاتے.دونوں سطحوں پر متعلقہ معاشرہ کبھی الہ دین اور مقامی علما کی شکل میں اور کہیں شوہر اور بچوں  کی صورت  اپنی اپنی مزاحمتوں میں سرگرم عمل  نظر آتا ہے.

شمس اور عزیز میں زمان و مکاں کا فرق ہونے کے باوجود عزیز شمس ہی کی ڈوری کا ایک سرا دکھای دیتا ہے.شمس کے برعکس عزیز دکھنے میں ایک عام انسان لگتا ہے مگر درحقیقت صوفیانہ لڑی سے جڑا شمس کا ہی ایک جنم ہے.صوفی سراے میں اپنے صوفیانہ تربیت کے دوران اسکا استاد اسکی شمس سےمماثلت کا زکر کرتا ہے تو عزیز کو اپنے پاس سے شمس کے لباس کی سرسراہٹ سنای دیتی ہےشمس کے  بارے میں جان کراسے وہ کردار بہت جانا پہچانا  اور دیکھا بھالا لگتا ہے.اور یہی بات جب ایلا پوچھتی  ہے تو وہ جواب دیتا ہے کہ شمس رومی کے بغیر ادھورا ہے چونکہ روی کی زات کی تکمیل ہی شمس کی زندگی کا اصل مقصد تھا.
“اگر کوی  شمس ہو بھی تو اسے دیکھنے والا رومی کہاں ہے.”

ایلا عزیز کی محبت اور اپنے شمس کی رومی بن جاتی ہے. عشق خدا کا ایک جزباتی ، روحانی اور پراسرار  رخ اور اعلیٰ ترین درجہ شمس کا   تو دوسرا مغربی،دنیاوی اور انسانی رخ  عزیز ہے.
  ”     ہر چور جب دنیا سے روانہ  ہوتا ہے تو ایک نیا جنم لیتا ہے.ہر مہزب انسان جب وفات  پاتا ہے تو اسکی جگہ کوئی نیا لے لیتا ہے، اسطرح سے کچھ بھی ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا اور نہ ہی  کچھ بھی ہمیشہ بدلتا ہے ۔کہیں کوئی صوفی مرتا ہے تو ااسی لمحے   دوسرا کسی دوسرے کونے ميں  پیدا ہو جاتا ہے   ” 

                                                                          صوفی ازم ،تزکیہ نفس ، عشق حقیقی اور مجازی ، دماغوں کو نیے سُروں سے روشناس کرواتے ہیں  تو تحریر کی پراسراریت،  اسکے کرداروں کی طلسمیت،  دل کو دہکا دینے والے لمحے اور  گرما دینے والی حدتیں آپکو کئی کیئ  حیران کن جزیروں کا سفر  کرواتے ہیں.
” کنویں کے اندر سے دو چمکتی کالی پتھر سی آنکھیں ”
آپ کبھی بھول نہیں پاتے، کنویں کے کنارے گرا ہوارومی زمین پر نہیں آپکے دل پر گرتا ہے اور بین کرتا ہے جسکی نوحہ کنعایاں آپکے وجود میں زلزلے برپا کر دیتی ہیں. ایلا کے سامنے بیٹھا عزیز اپنے صوفی بننے  کی کہانی سناتا ہے  ایلا کے ساتھ خوفناک رستوں پر چلنے کی بات کرتا ہے تو ایلا کے ساتھ آپکی زات بھی موم کی طرح  پگھل  کر بہہ جاتی ہے.معشوق کا وصال ہو یا جدای اپنے  پنجے قاری کے دل میں گاڑھتی ہے.ایلف شفق  اپنی تحریر سے آپکو شمس آف تبریز  اور عزیز سے عشق کرنے پر مجبور کر دیتی یے تو رومی  اور ایلا کے احترام  اور رتبوں میں اضافہ کرتی جاتی ہے.کیمیا کی غیر فطری صلاحیتیں اسکے لیے فنا کا پیغام لاتی ہیں اور ایک غیر معمولی بچی سے درویش تک اور درویش سے فناییت تک  کا سفر  اسے  عشق حقیقی کی تکمیل تک  لے کر جاتا ہےکیمیا کا کرب اور جستجو اور من مندر میں لگی آگ قاری کا دامن جلانے لگتی ہے.
آپ ہر لفظ سے اپنی انگلی چھڑا کربھاگنا چاہتے ہیں مگر لکھاری آپکا بازو پکڑے آپکو آگے سے آگے دھکیلتی جاتی ہے.یہ بلاشبہ لکھاری کی مہارت اور ہنر ہے کہ قاری نہ صرف کتاب سے چپک کر رہ جاتا ہے بلکہ اسے روح کی گہرایوں تک محسوس کر کے اگلے کیئ روز تک اسکی تاثیر محسوس کرتا رہتا ہے.ناول کے آغاز میں کنویں کی تہہ میں چمکتی ہوی آنکھوں سے شروع ہونے والا خوف  ، تہہ میں گرنے کی آواز کے منتظر قاتل جو کنویں کی خاموشی سے سہم جاتے  ہیں  ، تک آپکی ازیت کو بڑھاتا ہی نظر آتا ہے یہاں تک کے قاری آخری صفحات پر پھر انہیں آنکھوں اور نوح و کنعاں تک آ ٹھرتا ہے.
ایلا کی داستان آپکے اندر ایلا کو بیدار کر دیتی ہے تو .رومی کی تڑپ آپکو انگاروں پر جلانے لگتی ہے ،شمس آف تبریز کے ساتھ چلتے آپ درویش بن جاتے ہیں تو عزیز آپ کو منزل منزل روشنی  دیتا ہے . بابا زمان اپنی شفقت اور لیاقت سے آپکو شرابور کر دیتے  ہیں اورکیمیا  کی حسرتیں آپکا دامن جلا دیتی ہیں.الہ دین کا حسد ، روز آف فارسٹ کی جستجو سب قاری کو خود پر سہنی پڑتی یے عشق حقیقی کے اسباق پڑھتے .سمجھتے اور سیکھتے ہوئے.

                                                            صوفی ازم کو فلسفے کی کتابوں سے نکال کر  ایک کہانی کی صورت  میں مصنفہ نے اسطرح ڈھال دیا ہے کہ ایک عام سا قاری بھی سیما( درویشانہ رقص) کی دھڑکنوں میں گول گول گھومنے لگتا ہے.درویشانہ رقص ایک عام نظر کو منٹوں میں کندن کر کے حسن وعشق کے وہ اسباق پڑھا جاتا ہے جو عام حالات میں شاید فلسفے کی کتابوں میں بند رہ جاتے یا صرف فلسفہ کے شاگردوں کی ایک درسی ضرورت بن جاتے. مصنفہ کو یہ اعزاز جاتا ہے کہ  عشق حقیقی کے چالیس قوانیں وہ سیدھے ایک قاری کے دل میں اتار جاتی ہے بغیر کسی بحث و مباحثہ کسی حجت کے.اور فلاسفی کو اتنی خوبصورتی اورسادگی  سے عوام الناس کے سامنے پیش کرکے  اپنی ناول نگاری پر مکمل گرفت کا ثبوت دیتی ہے. فلسفہ کو ایک سادہ کہانی کی صورت بیان کرنے میں مصنفہ  کی پختگی بہت جلد پایلو PAULO COELHOکو ہلو کو پیچھے چھوڑتی دکھای دیتی ہے.

                       صوفی ازم کو اپنے بہتریں انداز میں پیش کرتے ہوے جہاں مصنفہ اسلام میں چالیس کی اہمیت، اور چالیس قوانین کو واضح کرتی ہے وہیں اپنے ہر سبق کا آغاز ب سے کرکے اس لفظ کی اہمیت اجاگر کرکے ناول کی درویشیت کو تقویت دیتی ہے چونکہ بسم اللہ کے ب کو سارے قرآن کا مفہوم کہا گیا ہے. اپنے کرداروں، الفاظ اپنی کہانی کی بنت اور اتار چڑھاو، رومی کے چالیس اصول ہر شے کو مصنفہ بہت احتیاط سے چھان پھٹک  کے اس موضوع کے ساتھ بہترین انصاف کرتی دکھائی دیتی ہے.

                                     ناول کے کرداروں کو  عام زندگی کی حکایتوں، فلموں اور  ڈراموں کی محبت کے زاویے   سے دیکھنا اس کے ساتھ زیادتی کرنا  ہے.عشق حقیقی کی لہروں کو دھیرے دھیرے اپنی زات میں جزب کرنے کے لئے ضروری ہے کہ زہن میں معاشرے اور روایات کے ہاتھوں پالی گیی  بصیرت کو کچھ لمحوں کے لئے بھلا کر  آپ خود کو اس کتاب کے کرداروں اور الفاظ کے سپرد کر دیں اور دیکھیں کہ آپکی استطاعت کتنے سمندروں کی حدوں تک ہے.میرا دعویٰ ہے کہ عشق کا سمندر آپکے پاوں گیلے نہیں کرے گا بلکہ اپنی لہروں میں ڈبو دے گا اک حیات جادواں  کا نظارہ دکھانے کے لیے.کچھ دنیائیں عام انسانوں کی نظر سے اوجھل رہتی ہیں جو صرف مقدر والوں کا مقدر اور بصیرت والوں کی بصارت بنتی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔      ۔۔۔۔۔۔۔۔

 2016 میں الف کتاب ڈاٹ کام میں شائع ہوا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s