دیس پردیس

د بئی میں رہتے بہت سال ہو گئے فاطمہ کو یہی کوئی ایک ، دو سال کے بعد ماں باپ سے ملنے فیصل آباد کے ایک چھوٹے سے قصبے جانا ہوتا.کچھ دن ماں باپ کی محبت میں وہاں گزر جاتے مگرپاؤں کے تلوے جل جاتے، چہرے کا کھلتا گلابی رنگ جھلس جاتا اور مسلسل پسینہ بہتے رہنے سے چیرے کے مسام کھلنے لگتے ، ٹائٹ سکن ڈھلکنے لگتی .د بئی کی صاف ستھری گلیوں میں اے سی کی نم زدہ ہوا میں رہنے والے اسکے گورے گورے بچے فیصل آباد کی پسماندہ گلیوں میں میلے میلے ہونے لگتے .د بئی کے مہنگے مالز سے خریدا گیا برانڈڈ سازوسامان اپنی صورت گنوانے لگتا. نازک نفیس کپڑے رگڑیں کھا کھا کر دو دن میں پھٹنے لگتے. نفیس اور مضبوط کوالٹی کے مہنگے جوتے چند دنوں میں گھس جاتے.کونے کھدرے نکالنے لگتے. اب مہنگی مہنگی برانڑز یورپ اور امریکہ نے اس لیے تو نہیں بنائی کہ آپ انہیں گوجرہ جا کر پہن لیں.اور انکو پہن کر چھوٹی سی سوز و کی میں دس لوگوں کے ساتھ گھس جائیں.گھر کے کچے پکے گیلے آنگن میں گندے سے فٹبال کے ساتھ کھیلیں.گھروں کی چھتوں پر پھینکے کاٹھ کبھاڑ کے بیچ میں پکڑن پکڑائی، لکن میٹی کھیلیں یا پرانی ٹوٹی ہوئی سائیکل چلا ئیں! چہ چہ چ

یہاں پر پہننے کے لیے تو کھدر کے موٹے کپڑے ہی ہونے چاہییے جو جتنے بھی گندے ہو جائیں انکو مشین میں ڈال کر چلا دو اور پھر سے پہن لو. فاطمہ درہموں سے خریدی چیزوں کو دیکھ دیکھ کڑھتی .ہاے! کتنے مہنگے کپڑے لیے تھے.سوچا تھا پورا سال نکل جاے گا واپس آ کر.مگر وہ کپڑے چند ہی دنوں میں اپنا رنگ روپ بگاڑ بیٹھے تھے اوپر سے دو نمبر سرف اور صابن رہی سہی کسر بھی پوری کر دیتے.اینٹوں اور مٹی کے کمالات سے جو رنگ روپ بچ جاتا وہ بلیچ سے بھرے واشنگ پاوڈر کی نظر ہو جاتا.
“اب درختوں پر تو درہم لگتے نہیں کہ تو ڑے جا ؤ اور خریدے جاؤ ”
.کیسے کیسے جان مار کر تو اتنے مہنگے کپڑے لیے تھے کہ چلو پاکستان میں شوشا بھی ہو جائے گی کہ ہم د بئی سے آئے ہیں اور پورے سال کی شاپنگ بھی. اب یہ تھوڑی سوچا تھا کہ ہزاروں درہموں کے کپڑے چند دنوں میں شکلیں بگاڑ لیں گے

دل ہی دل میں افسوس ہوتا کہ کاش واشنگ پاوڈر اور فیبرک سوفنر بھی ساتھ لےکے آتے.بچوں کا دودھ پانی اور ڈبہ بند کھانا تو پہلے ہی کارٹن بھر کر آ جاتا تھا. کہ نہ آنے کی صورت میں مہینہ بھر بچوں کا پیٹ ہی بہتا رہتا تھا. نہ جانے کیا ملاتے ہیں دودھ میں کہ بچے دودھ کو منہ بھی نہ لگائیں.خالی پانی پیتے پھر بھی مہینہ بھرپیٹ خراب رہتا. گلے بجتے رہتے غرض یہ کہ سب کی سب پینڑوانہ اور غریبانہ بیماریاں لاحق ہو جاتیں.اب اور کیا کرتی فاطمہ بھی، سامان میں جو کچھ بھی لے آتی اب اپنا گھر تو تھیلے میں ڈال کر نہں لا سکتی تھی نہ اپنی یہ لمبی پراڈو میں بیٹھ کر گوجرہ پہنچ سکتی تھی ورنہ بس چلتا تو تھوڑا سا د بئی جیب میں ڈال کر لے ہی آتی.اب گوجرہ آ کر اماں کے اور ساس کے گھر رہنا پڑتا،چارپایوں پر بیٹھنا!، پرانے پلاسٹک کے برتنوں میں کھانا، مہینہ بھر بچھی رہنے والی چادریں،سال ہا سال لٹکے رہنے والے پردے……گندے جھاڑو، گھر کے ہر کونے میں چھپی میلی پوچیاں، ۔بیماریوں کے گھر،

صحن میں چارپایوں کے گرد دن میں مکھیاں ہی مکھیاں اور رات میں مچھر ہی مچھر! دو دنوں میں بچوں اور بڑوں سب کے بازومنہ ہاتھ چھلنی ہو گیےمچھروں کے کاٹنے سے.اسکا چھوٹا بچہ مکھیوں کے پیچھے چلاتا پھرتا کہ یہ نہ جانے کونسی مخلوق ہے جو پیچھے پڑی ہوئی ہے.مکھیاں صرف اس بچے کو نظر آتیں تھیں یا اسکے ماں باپ کو.باقی سب کے لیے تو وہ گھر کے افراد کی مانند تھیں.ساتھ پلیٹ میں بیٹھی کھانا کھا رہی ہیں یا بستر پر بیٹھی سو رہی ہیں.زیادہ سے زیادہ یہ ہوا کہ منہ اور ہاتھ کو زرا سا جھٹک دیا یا لقمہ زرا سا بچا لیا ورنہ پلیٹیں برتن کپڑے ہر چیز انکی جاگیر میں تھی. نہ کسی حکومت کا وجود جو کہ سیزن ٹو سیزن سپرے کروا دے نہ محلے والوں کو شعور کہ کپڑے لتے سے کچھ پیسے بچا کر مل جل کر ہی اپنے علاقے میں کوی دوا چھڑکوا لیں اور نہیں تو دو چار بوتلیں لا کر اپنے گھر بار میں ہی چھڑکاؤ کروا لیں. گھر والوں کو صلاح دی تو پتا چلا کہ جناب سپرے سے مکھیاں اور بڑھ جاتی ہیں یعنی سپرے بھی ملاوٹ زدہ

.جہاں بڑی بڑی مصیبتیں سر پر کھڑی ہوں وہاں مکھیوں کے منہ کون لگے.گھڑی گھڑی کی لوڈ شیڈنگ، ابھی آنکھیں بند ہونے لگتیں تو بجلی جانے کاٹایم ہو جاتا. جب تک گھر میں موجود جنریٹر چلتا تب تک بچے بھی آٹھ کر بیٹھ جاتے.بڑھتی ہوی گرمی کے ساتھ لوڈشیڈنگ…ایک مہینہ تھا کہ سا سال جتنا لمبا ہوگیا تھا.پر پھر بھی دل میں ایک صبر سا تھا کہ چلو کوی نہیں ایک ماہ ہی ہے ناں پھر تو واپس اپنے گھر چلے جانا ہے.ساتھ ساتھ دل میں شکر کرتے رہنا کہ اللہ جی تیرا شکر ہے کہ ہم یہاں نہیں رہتے.بہترین ماحول، بہترین سہولتیں، نہ بجلی کا مسئلہ نہ پانی کا.نہ ملاوٹ زدہ کھانے نہ گھٹیا مال اسباب.ٹھیک ہے پیسے بہت لگتے ہیں دوبیی رہنے کے ،پر زندگیوں میں سکون تو ہے.دل کے سکوں کے ساتھ ساتھ گردن بھی تھوڑا اکڑ جاتی کہ ہم تو بہترین جگہ رہتے ہیں شکر ہے کہ یہ گندہ ماحول ہمارا نہیں.
.گزرتے سالوں نے اتنا وقار تو دے دیا تھا کہ اب ہر بات پر شکایتی فقرہ نہ نکلتا تھا پر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ فاطمہ چھوٹی سے گاڑی میں دس لوگوں کے ساتھ پھنس کر گھٹنے سینے سے لگا کر بیٹھے اور اپنے مسلے ہوے کپڑوں کو دیکھ کر پراڈو کی بڑی ساری سیٹ یاد نہ کرے کہ جس پر اسکے بچے بھی کھل کر پھیل کر اپنی اپنی چایلڈ سیٹ پر بیٹھ کر سارا رستہ ٹیب سے کھیلتے رہتے تھے.بچوں کے ہاتھ اور چہروں پر کالک پھرتی رہے اور اسکو ٹایلوں سے چمکتے ہوے فرش اور بہتے پسینے میں ہر وقت چلنے والے اے سی کی ٹھنڈک کی کمی محسوس نہ ہو.اب اس پر تو اسکا اختیار ہی نہ تھا.ایک دن فیصل آباد کے ایک بڑے سارے ہوٹل میں سب کی دعوت کی.خوب مزے لے لے کر کھانا کھایا اور خوب خوش ہوئے کہ اس کلاس کا ہوٹل د بئی میں تو اتنے لوگوں کے لیے ہزاروں درہم کا پڑتا.اگلے دن کی اخبار میں ایک آرٹیکل دیکھا جسکے مطابق سارے ملک کے بڑے ہوٹلوں میں گدھے اور کتے کا گوشت مل رہا ہے.تو الٹیاں آنے لگیں.اب کدھر کو جائیں.کھایا ہوا تو نہ جانے کہاں سے کدھر پہنچ گیا اب الٹی کا بھی کیا فایدہ ہو.آیندہ کے لیے توبہ کی کہ اس سے تو اپنے د بئی کے سستے ہوٹل ہی اچھے ہیں چلو چھوٹے ہوٹل میں کھانا کھا لیں پر حلال اور ستھرا تو ہو گا ناں.وہاں کسی کی کیا مجال کہ دو نمبری کر جائیں.واہ اللہ تیری قدرت! کیا مقدر دیا تو نے.کہاں سے نکال کر کہاں لے گیا.

کبھی کبھی احساس ہوتا کہ یار ادھر سے ہی تو گیے تھے.بھلے چنگے خوش باش گیے تھے اب کیا ہو گیا ہے.کچھ یہاں اچھا ہی نہیں لگتا.اب تو پاکستان میں ان گلی محلوں میں گزارا بہت مشکل ہے اب ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ میں فرق نظر آنے لگا ہے.سفید سفید ہی رکھتا ہے اور کالے کا رنگ اصلی کالا.اب چمکدار گھروں میں رہنے کی عادت ہو گئی ہے تو پرانے پرانے گھروں کو پسند کرنے کا حوصلہ نہیں رہا.یہ تبدیلیاں.وقت کے ساتھ ساتھ خود بخود دماغوں اور دلوں میں آتی چلے گئی تھیں.اور پھر فرق بھی کوئی چھوٹا نہ تھا کہ مبہم ہوتا.کہاں فیصل آباد کا گوجرہ اور کہاں د بئی کہ جہاں امریکہ اور برطانیہ کے لوگ بھی بھاگے آتے ہیں.نیا نکور، شیشے کی طرح چمکتا ہوا ریت کے ٹیلوں پر ایسے کھڑا کہ جیسے ریت پر پہرا بٹھا رکھا ہو.عمارتیں ہیں کہ چمچما رہی ہیں، سڑکیں ہیں کے سمندر ہیں.گرمی اتنی کہ کام کرنے والے مزدور مکھیوں کی طرح عمارتوں سے گرتے ہیں.اور گھروں کے اندر اے سی کا نم زدہ موسم سرما سارا سال ختم نہیں ہوتا.انسانوں کا بنایا ہوا صحیح معانوں میں ایک عجوبہ ہے د بئی. ساری دنیا کو بتاتا ہے کہ دیکھو انسان نہ موسموں کا محتاج ہے نہ جنگلوں کا نہ مٹی کا.لگانے کے لیے پیسہ ہو کروانے والے لوگ ہوں تو ریت پر محل ایسے پختہ کھڑے ہوتے ہیں کہ صحرا کی آندھیاں بھی انکو ہلا نہ سکیں.پیسہ تو شاید پاکستان کے پاس ان سے زیادہ ہی ہو پر کرنے اور کروانے والوں کا ایسا قحط پڑا ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا.چاہے جتنی بھی نمازیں پڑھ لو ، آرھتیاں چڑھا لو،نحوست ہے کہ ہٹتی ہی نہیں.رگڑ رگڑ کر چہرہ چھیل لو پر اعمال کی سیاہی ایسی پکی کہ اترتی ہی نہیںں.

گن گن کر دن گزارے! بڑی مشکل سے ایک مہینہ کٹا او ر فاطمہ نے سکوں کا سانس لیا.بد رنگ کپڑے لپیٹے،بچوں کو رگڑیں کھائے بوٹ پہنائے اور جو جہیز کی پیٹیوں سے نکالے تکیے ،بستر ،برتن تھے بڑے بڑے کارٹنز میں پیک کر لیے. گنتی کی ،تو پانچ لوگوں کی ٹکٹوں پر کوی بارہ تو صرف بیگ ہی تھے.بچوں کی سلانٹیز بسکٹس کے ڈبے اچار کے مرتبان، ساس اور ماں دونوں کے ہاتھ کی بنی پنجیریاں ،سالن اور کباب ،بیڈ شیٹس، توا پرات کیا نہیں تھا سامان میں.. آخر اماں ابا کا دیا جہیز کس دن کے لیے تھا.

گھر سے نکلتے ائرپورٹ پر اترتے جہاز میں سوار ہوتے اور اترتے ہر جگہ بار بار گننا پڑتا کہ کہیں کوئی رہ تو نہیں گیا. جہاز میں سوار ہوئے تو سکوں کا سانس سا آیا کہ مشکل دن کٹ گئے.اب اپنے گھر اپنے شہر پہنچیں گئیں جہاں بجلی کبھی نہیں جاتی جہاں بٹن دبانے سے گرم پانی آنے لگتا ہے جہاں کی سڑکیں صاف اور اجلی ہیں، جہاں پر نظام ہیں قواعد ہیں سیکیورٹی ہے اور جہاں کے موسموں کی ہمیں عادت ہے جو اپنا دیس نہ ہو کر بھی اب بہت اپنا اپنا سا لگتا ہے.

رات کے بارہ بجےجہاز دبئی کے رن وے پر اترا تو تینوں بچے بری طرح تھکاوٹ کا شکار تھے سب کی باری باری چیں چیں چل رہی تھی. اوپر سےبارہ ڈبے سنبھالتے نہیں سنبھل رہے  تھے. سامان اٹھا کر تین چار ٹرالیوں پر لادتے ہوے ایک بار خود کو کوسا کہ کیا ضرورت تھی اتنا سامان اٹھانے کی جو اب دو بندوں سے سنبھالا نہیں جا رہا.پورٹر بھی کوئی دکھائی نہ دیا. بڑی مشکل سے تینوں ٹرالیوں کو سنبھالتے امیگریشن آفس پہنچے تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا. کاونٹرز پر صرف دو تین آفیسر بیٹھے تھے باقی سب کاؤنٹر خالی تھے.اور زرادیر پہلے اترنے والی انڈین فلائیٹ کے لوگوں سے سب لائنیں کھچا کھچ بھری ہوی تھیں.یعنی اپنی باری کا انتظار کرتے تو دو تین گھنٹے تو کہیں نہیں گیے تھے.اس وقت فاطمہ کا دل چاہا کہ اس سامان کو آگ لگا دے.چھوٹا بیٹا گود میں اٹھا رکھا تھا جو سویا ہوا تھا. سات اور آٹھ سالہ بیٹیاں ماما جلدی کریں کا شور مچا رہیں تھیں.اور وہ میاں بیوی اب کبھی بچوں کو دیکھتے کبھی سامان کو دیکھتے اور کبھی اس لائن کو .ایسا کبھی ہوا تو نہیں تھا پہلے. نہ جانے آج سارا جنوبی ایشیا ایک ہی ٹائم پر اتر آیا تھا یا سارا عملہ ایک ہی دن چھٹی پر چلا گیا تھا یا پھر پی آی اے کی فلائیٹ لیٹ ہوتی ہوتی غلط ٹائم پر گھس آئی تھی. انڈین مرد اور عورت ایسے لائن میں پھنسے ہوے تھے کہ کھوے سے کھوا چھلتا تھا.کچھ دیر تو وہ بچوں کے ساتھ لائن میں کھڑی رہی مگر بچوں نے کھڑے ہونا حرام کیا ہوا تھا چھوٹے بیٹے کو بھی گود میں اٹھا رکھا تھا اور دونوں بچیاں بےصبری ہو رہی تھیں کہ جلدی کریں.میاں تین ٹرالیاں سنبھالے پیچھے کھڑا تھا. ایک بجنے والا تھا اور بچیاں بے حال ہو رہیں تھیں.آخر فاطمہ کو جوش آیا اور وہ بچوں کو لیے لاینوں کے اندر گھس گی.ہمیشہ تو یہی ہوتا تھا کہ کہ فیملیز کو لائن میں سے نکال کر آگے کر دیا جاتا تھا پر آج شاید سب قوانین بھول گیے تھے.اسکے تینوں بچوں نے جینا حرام کر رکھا تھا اور ابھی تک کسی نے اسکو جگہ نہ دی تھی. انڈین عورتیں اور مرد لایینوں میں مرد اور عورت کی تمیز کے بغیر پھنسے کھڑے تھے .اسنے کوشش کی کہ کسی طرف سے اسکو جگہ مل جائے جو بچے دیکھ کر اکثر آسانی سے مل بھی جاتی ہے مگر یہاں اسکو آتے دیکھ کر انڈین اور جڑتے چلے جا رہے تھے .عورتیں اور مرد ملو زبان میں چیخنے لگے تھے کہ نہیں جانے دینا اسکو ہم پہلے سے کھڑے ہیں .فاطمہ کو شاید غرور تھا کہ اسکے ساتھ بچے ہیں اور فیملی کو پروٹوکول دیا جاتا ہے.بچیاں جڑے یوے ہجوم کے اندر پھنس کر رہ گئیں. پاکستانی عورت کو مردوں کے کندھوں میں گھس کر کھڑے ہونے کی عادت بھی کہاں ہوتی ہے .

.آگے پیچھے کچھ دیر تک لڑھکنے کے بعد وہ بچیوں کو بچاتی باہر لے آئی .بد تہذ یبی کا یہ مظاہرہ فاطمہ نے یہاں پر پہلی بار دیکھا تھا. کچھ اس وقت سیکورٹی عملہ کم ہونے کی وجہ سے بھی لوگ آپے سے باہر ہو رہے تھے.فاطمہ نے باہر نکل کر بچوں کو ایک کونے میں کھڑا کیا اور خود سیکورٹی افسر کے پاس چلے گی.تھکاوٹ اور جھنجلاہٹ سر پر تیار تھی.وہ جاتے ہی سیکورٹی افسر پر چڑھ دوڑی.

“آپ لوگ دیکھ نہیں رہے کتنا ہجوم ہے فیملیز والے کتنے تنگ ہو رہے ہیں”

سیکورٹی افسر کو یقینا انگلش نہیں آتی تھی.وہ جواب میں کچھ عربی میں چنگاڑا اور اسکو واپسی کا اشارہ کرنے لگا.آدھی رات کو تھکاوٹ زدہ حال میں فاطمہ نے اسکو انگلش میں بتانےکی کوشش کی کہ اسکے ساتھ چھوٹے بچے ہیں. مگر عربی افسر کو شاید اسکے لہجے سے کچھ اور سمجھ آرہا تھا وہ عربی میں کچھ چلاتا رہا. نتیجے میں اسکے میاں صاحب لائن سے نکل کر آئے اور اسکو کھینچتے ہوے واپس لے گیے. وہ پوچھتی رہی کہ میں نے کیا کیا ہے آخر ! کوئی میری بات کیوں نہیں سمجھ رہا؟

“بس کر دو گرفتار کر لینا ہے انہوں نے!”

فاطمہ کو لگا اسےکوی غلط فہمی ہوی ہے .وہ پیچھے کھڑے سیکورٹی افسر کے پاس گیی اور اسکو ساری بات بتایی .اپنا رونا رویا کہ وہ بچوں کے ساتھ کیسے خوار ہو رہی ہے.باقی افسروں کی طرح انگلش اسکی بھی شاندار تھی.یس یس نو نو کرتا وہ اس افسر سے بات کرنے چلا گیا. اور فاطمہ وہیں کھڑی پریشانی اور اضطراب میں اسکی واپسی کا انتظار کرنے لگی.زرا دیر گزرنے کے بعد عربی آفیسر واپس آیا.

“he said she shout upon me!”

” No I don’t ! I just want a favour because I’ve small kids with me!”

“Look! This is not your country where you can do whatever you like!”

We have some rules and regulations here to follow!”
سیکورٹی افسر نے میٹھے لفظوں میں کڑوی بات کہی.اس نے اور بھی کچھ بولا مشکل سے نکلتی اٹکتی ہوی انگلش میں مگر ایک ہی فقرے نے اسکے دماغ کو آسماں سے زمیں پر دے مارا تھا

” یہ آپکا ملک نہیں ہے جہاں آپ جو چاہے کرتے پھریں یہاں کچھ قانوں ہوتے ہیں کچھ قاعدے ہوتے ہیں.”
فاطمہ اپنی رواں انگلش کا جادو ایک ایسےافسر کے سامنے نہیں چلا سکتی تھی جسکو انگلش کم کم آتی تھی.وہ دونوں افسروں کو یہ سمجھانے سے قاصر رہی تھی کہ وہی قوانین اورقاعدوں پر غرور ہی تو اسے یہ سب بولنے پر مجبور کر رہا تھا. وہ جانتی تھی کہ کہ وہ ایک مہزب ملک میں ہے جہاں چھوٹے چھوٹے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے.مگر اب اسے سب کچھ بھول گیا تھا. یاد رہا تھا تو یہ کہ یہ اسکا اپنا ملک نہیں ہے کہ وہ جسکا چاہے گریبان پکڑ کر انصاف مانگ لے گی.یہاں وہ دو نمبر شہری ہے .دوسرے لوگوں کے دھکے کھا کر ماں چاہے جتنی بھی گنوار اجڈ کمزور اور غریب ہو ضرور یاد آتی ہے..وہ اپنا سا منہ لے کر واپس آگئی تھی اور اور اپنے سامان کے ڈھیر کے پاس پڑی کرسی پر ڈھے سی گی تھی.اسکے بعد نہ اسے بچوں کے چیخنے چلانے سے گھبراہٹ ہو رہی تھی نہ انتظار کی کوفت.ایک طعنہ اسکے دل اور دماغ میں کھب کر رہ گیا تھا.ایک غرور جو ایک سیکنڈ میں مٹی میں رل گیا تھا.

“یہ ہمارا ملک نہیں تھا! یہ تو کسی اور کا دیس ہے.ہمارا ملک…..ہمارا ملک تو پیچھے رہ گیا کہیں”. 

جس شہر اور جن گلیوں کو دیکھنے کے لیے وہ پورا ایک مہینہ ترسی تھی. جس کی روشنیوں کی اب اتنی عادت ہو گیی تھی کہ اپنے ملک کے اندھیرے ڈرانے لگے تھے.وہ ایک دم سے اپنا طلسم گنوا بیٹھا تھا.

اگلے دو گھنٹے فاطمہ نے اسی کرسی پر جھکی گردن کے ساتھ گزارے تھے. کاش کہ ہمارا ملک اس قابل ہوتا کہ آج یہ لوگ ہمیں جھک کر سلام کرتے.دنیا صرف دو چیزوں کے سامنے جھکتی ہے، پیسے کے یا دماغ کے.بدقسمتی سے اسکے ملک کے پاس دونوں چیزیں نییں تھیں.اسی لیے ایک افسر نے اسکو حق پر ہوتے ہوے جھٹلا دیا تھا کہ ملک انکا تھا اصول انکے تھے. اپنی لمبی بڑی گاڑی میں بیٹھ کر گھر جاتے پہلی بار فاطمہ کا دل باہر دیکھنے سے بیزار تھا.جھلمل روشنیوں اور جگمگاتی سڑکوں سے دل اچاٹ تھا.کہ یہ پردیس تھا.جو اسکا کبھی نہیں ہو سکتا تھا جسکی زمیں پر چلنے کا اختیار تو تھا مگر سر اٹھا کر نہیں.یہ ایک سوتیلی ماں تھی جسکو اسکی محبتوں اور غرور سے غرض نہ تھی.

اور جو اپنا دیس تھا وہ کسی نشہ باز باپ کی طرح فخر نہیں ایک طعنہ جس کے ہوتے ہوے اولاد یتیم کہلاے  .وہ اپنے دیس میں بھی پردیسی تھے اور باہر بھی۔

_——————————————————————

کینوس ڈایجسٹ ڈاٹ کام میں شایع ہوا۔

http://www.canvasdigest.com/%d8%af%db%8c%d8%b3-%d9%be%d8%b1%d8%af%db%8c%d8%b3/%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c%d8%a7%d8%aa/