Romano’s Macaroni grill, Dalma Mall, Abu dhabi

Taste:🤔🤔🤔

  • Presentation is very tempting & beautiful.
  • Lemonades and iced teas are amazing.
  • Disappointing taste of main course( as per we tasted)
  • Kids meals are batter.

Services:🍽🍽🍽

  • Poor
  • No reception  on arrival
  • No  see off


Good points:📍📍📍

  • kids friendly white art table cover for a full scale sketching.
  • Kids menu is good

Charges:,💸💸💸

220 aed for two persons for a two course meal.

Locations:

  • Dalma Mall.Abu Dhabi
  • World trade center mall,Abu Dhabi
  • Alshahama,Abu Dhabi



Website:

/https://www.macaronigrill.com/

The Forty rules of love. (محبت کے چالیس اصول)By  ELIF SHAFAK                             

        
محبت زندگی کا پانی ہے ،  محبوب کی روح آگ ہے
کاینات بدل جاتی ہے جب آگ پانی سے محبت کرنے
لگے.”

                                                   ایک جادوی ،مسحورکن ،دل کی تہوں میں طوفان برپا کر دینے والی تحریر جو ایک ترکش مصنفہ ایلف شفق کے قلم سے نکلتی ہے اور قاری پر اپنی ایسی تاثیر چھوڑ تی ہے کہ آپ پہلے لفظ سے خود کو بھول کر مصنفہ کے وجود میں سرایت کر جاتے ہیں اور اسکی تحریر کی دھڑکن کے ساتھ ساتھ رھڑکنے لگتے ہیں. قاری ایک ہی وقت میں  اکسویں صدی کی یہودی عورت کی  گھریلو،خوبصورت اور مکلمل زندگی   کے ستم سہتا  اور  اسکی شناخت کے سفر میں اسکے حوصلےدیکھتا ہے تو ساتھ ہی ساتھ تیرھویں  صدی عیسوی کے درویش کے ساتھ صحراوں کی خاک چھانتا ، عشق کے عین سے قاف  تک کے سبق سکھاتا ،فلسفی کو  اسکے مرتبے سے اتار کر شاعر ،رقاص اور ملنگ   بناتا ، تڑپاتا، ِِسِسکتا  اور فنا ہو جاتا ہے.قاری   دو مختلف صدی کے دو مختلف کرداروں میں ایک روح ایک وجود کی شبیہ دیکھتا ہے.ایمان اور یقین  جو دنیاییں بدل دیتا ہے لہروں کے رخ موڑ  دیتا ہے  اور .عشق حقیقی  جو توڑ کر جوڑ دیتا ہے بگاڑ کے بعد تعمیر دیتا ہے اور فناییت کے بعد امر ہو جاتا ہے.

پائلو کائلو/ شاہکار سے پہلے

کہانی شروع ہوتی ہے   نارتھ ایمپٹن کی یہودی خاتون  ایلا سے ،نوجوان بچوں کی ماں اور بے وفا شوہر کی شریک حیات ، ماضی کی یادوں اور مستقبل کے خوابوں میں گم رہنے والی ،حال کی خوبصورتیوں سے نظر چرانے والی ایلا ،جسکی گھریلو زندگی اضطراب اور مسایل کا شکار ہے.ایلا کی خوبصورت اور مکمل گرہستی… جسمیں وہ ایک غیر ضروری ساماں کا حصہ ہو چکی ہے اور شوہر اور بچوں کے ساتھ بھرپور  دکھنے والی زندگی میں درحقیقت تنہاییوں اور سناٹوں  کی شکارہے.
   ”    کیونکہ محبت ہی زندگی کی روح اور مقصد   ہے.جیسا کہ رومی بتاتا ہے ،یہ سب کے دامن میں آتی ہے  بشمول انکے جو اسے جھٹک دیتے ہیں… حتی کہ وہ بھی  جو رومینٹک لفظ کو قابل اعتراض سمجھتے ہیں، ” –

    .ایلا  کی عزیز تر بیٹی  ماں کی صورت سے بیزار گھر چھوڑ جاتی ہے ، بےوفا شوہر مصروفیت کے نام پر راتیں سراوَں کی نظر کر دیتا ہے .موم بتیوں سے سجی ڈنرٹیبل اسکی گھر کی زندگی میں اجالا کرنے سے قاصر تھی.گھر اور  جگر گوشوں پر لٹای حیات اگر ایلا کو استحقاق نہ دے سکی تو بیکار جھوٹ تھا زندگی اک  گناہ بے لزت  تھی.ایلا ایک مشرق کی ستی سوتری نہ تھی کہ جل  جاے پر چولہے سے بندھی رہے.کچلی جاے مگر سرتاج کے پیروں تلے اور مر  جاے اولاد پر نچھاور ہو کر،   اسکے باوجود اس  کے نزدیک رشتون کی بے تحاشا ا ہمیت تھی.مغرب کے بے نیاز معاشرے کی وہ ایک وفا شعار اور روایت پسند  بیوی تھی .شریک حیات کی بے نیازی اور بچون کی بے اعتنای ایلا کو اسکے سجے سجاے گھر میں  تنہا کر دیتے ہیںں تو  اس پر خساروں کا انکشاف ہوتا ہے .

                                   “مجھے حیرت ہے جس طرح میں  نے زندگی گزاری۔ ہے کیا مجھے آگے بھی ایسے ہی
گزارنی ہے ؟ اور پھر ایک اور ڈرا دینے والا احساس  مجھ پر طاری ہو جاتا ہے……… ‘ ہاں’ اور ‘ناں ‘ اگر دونوں ایک ہی جیسے تباہ کن حالات کا باعث بنیں ؟؟؟؟؟؟”

ایلا  جو کسی خیال جزبے یا عادت کی موت بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی  مگر شادی شدہ زندگی میں محبت کی حیات پر یقین نہیں رکھتی.بیکار حقیقت ہو  چکی زندگی میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتی ا یلا  برسوں سے جانتی ہے کہ اسکی زندگی محروم محبت ہے. اور ان اطوار اور حالات کی عادی ہونے کےبا وجوداپنے  دل کی   خاموش کوٹھری سے یہ بازگشت سنای دیتی ہے  کہ ایک دن خاموشی سے وہ اپنا گھر، بچے،  بےوفا شوہر اور  اپنے ہمساے ہیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر دنیا  کے خطرناک راستوں پر  اکیلی نکل جاے گی.

                         ” محبت چنو محبت!!!! محبت کی شِیرینی  کے بغیر زندگی اک ازیت ہے….جیسا کہ تم دیکھ  چکے!!!”

                                 .  ایلا عادتوں اور روایات میں خود کو دفناے ہوے  ، برسوں کی مشقت اور قربانیوں کو مٹی ہوتے دیکھتی   ہے.     چند سو   گز کے گھر میں  میلوں کے فاصلے تھے قریب بیٹھے جسموں میں قیامت خیز دوری تھی.ایلا مرتے ہوے سپرٹ  کی طرح ناتواں ہڈیاں کھینچے زباں نکالے بیٹھ کر جب ایک ناآسودہ زندگی کی رنجیدگی سے تھک  جاتی  ہے تو “میٹھی گستاخی” کا مصنف کسی درویش کی طرح اسکی نبض پر ہاتھ رکھ دیتا ہے.
” باوجود  اسکے کہ کچھ لوگ
کیا کہتے ہیں، محبت محض ایک میٹھا احساس نہیں
ہے جس کو  آ کر فورا چلے جانا ہے.”

                                                 ایلا کے فقروں کی گونج عزیز کے الفاظ میں سنای دیتی ہے. ایک  دور دنیا کا باسی ،شفیق، محبت کرنے والا بےغرض شخص  ایلا کو   الجھنوں کے جالے سے  باہر نکالتا ہے اور اسکی بے رنگ بصارت کو رنگین کر دیتا ہے. راہ کے پتھر چنتا  ، ذات کا  شعور اور  جرات دیتا  ہے.جب ایلا اپنی گھر اور بچوں کو اپنے خوابوں کی طرح خوبصورت بنانے کی بے اثر  جدوجہد  کرتی ہے تو .ایسے میں کوی اسکے کان میں سرگوشی کرتا ہے.

  ” کچھ لوگ سرنگوں ہونے کو کمزوری  تصور کرتے ہیں جبکہ ایسا نہیں.یہ تو کاینات کے  ان اصولوں اور تقاضوں کو سکون اور اطمینان سے قبول کرنے کا اظہار ہے جن کو ہم بدل نہیں سکتے. “

ایلا کے لیے محبت، صرف ایک لمحاتی مٹھاس اور غیر اہم جزبہ تھا. .مگر محبت پر تنقید کرنے والے اکثر اسکے جانثار ثابت ہوتے ہیں.محبت کو وقتی جزبہ کہنے والی ایلا  جب محبت کی تاثیر چکھتی ہے تو اسکے لیے دنیا تیاگ دیتی ہے. اسکی پرسکوں ٹھری ہوی جھیل سی زندگی میں گرا محبت کا پتھر پانی کی سطح کو تلاطم میں بدل  دیتا ہے اور پھر اسکی زندگی کی ساکن جھیل کناروں تک یکسر بدل جاتی ہے. زہرا  دنیا کے دوسرے سرے سے ایلا کے  من کے خالی گھڑے کو جانچتا، پرکھتا. اور اسے محبت کے میٹھے پانی سے بھر دیتا ہے.

                    ” خدا کرے تمھیں محبت تب اور وہاں ملے جب اور جہاں تمھیں اسکی  توقع تک  نہ ہو.”

جب ایلا کے ساتھ بیٹھا ڈیوڈ    اسے دیکھ نہیں  پاتا عزیز سینکڑوں میل کی دوری سے اسکے رنگ پہچانتا ہے.اس کے دل کے ان کہے لفظ سنتا ہے اور خود  اسکی نظروں سے بھی اوجھل اسکے خوف دور کرتا ہے. ایسے میں ایلا محفوظ جگہ پر آنے والی موت سے گھاٹیوں کی موت کو ترجیح دیتی ہے ، روایت کی پابند زندگی پر محبوب کے ساتھ کو اہمیت دیتی ہے. اور اس دنیا سے چلے جاتی ہے جہاں ہر وقت خوفزدہ کرنے والی چیزیں وقوع پزیر ہوتی ہیں .ایک کم ہمت کم حوصلہ عورت میں  یہ جرات پیدا کرنے والا ،اسکے سکوت توڑنے والا اور اندھیر وں میں روشی کرنے والا عزیز تھا.

                                   ” ہر سچی محبت اوردوستی ایک غیر متوقع واقعات کی کہانی ہوتی ہے.اگر محبت سے پہلے اور بعد  میں   ہم  ایک سے رہیں  تو اسکا مطلب  ہے کہ محبت سچی  نہ تھی.”

                     دنیا کے دوردراز ،خطرناک اور مشکل راستوں پر سیاحت کا شوقین ملنگ  اور صوفی  عزیز زہرہ صرف ایک ناول لکھتا ہے.زہرہ منزل منزل دنیا کے شوا ہد دریافت کرتا کائنات کے چھُپے راز ڈھونڈنے میں  سرگرم ہے.زہرا نام کا یہ سورج ایلا کی زندگی کے ٹھہرے پانیوں میں سے طلوع ہوتا ہے .ساکن پانی کی سطح کو ہزاروں جھلمل کرتے ستاروں سے بھر تا اپنی  تمازت پانی کی تہہ تک پہنچا کر دم لیتا ہے.عشق کیا صرف مادی  جسموں کا ملاپ ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ ناول کبھی نہ لکھا جاتا.عشق وہ معراج ہے جو صرف خالص دلوں پر اپنے آسماں کھولتی ہے.یہ کشکول پکڑے فقیر لوگوں کی میراث نہیں.  ستاروں پر پاوں دھرنا ،آسماں سے پانی برسانا اور سوکھے پیڑ پر منٹوں میں گلاب اگا دینے کا ہنر   رب صرف شمس آف تبریز اور عزیز زہرہ  جیسے لوگوں کو ودیعت کرتا ہے.اتفاقات کے نام پر ہونے والے واقعات محبت کے معجزات تھے. جو ایلا کے پیروں کی بیڑھیاں کھول دیتے ہیں، اور نگاہوں سے غفلت کا پردہ ہٹا دیتے ہیں۔ دور کہیں انکی ڈوریں آسمانوں سے ہلای جاتی ہیں۔.

   “کوشش  کرو کہ اپنی راہ میں  آنے والی تبدیلیوں کیمزاحمت نہ کرو.اسکی بجاے زندگی کو انمیں سے گزرنے دو! پریشان مت ہو کہ تمھاری زندگی الٹ رخ چلنے لگی ہے.تم کیسے جان سکتے ہو کہ جس رخ کے تم عادی ہو وہی سب سے بہترین ہے؟”

اکسویں صدی کے مدمقابل چلتی دوسری کہانی ناول کے اندر موجود دوسرے ناول  sweet blasphemy کی ہے جو  عزیز  زہرا کے قلم سے نکلا ہے  اور ایلا کی  نئی نویلی نوکری میں  اس
کے ہاتھوں میں تبصرہ کے لیے پہنچا ہے. یہی وہ کتاب ہے جو ایلا کی زندگی کو نیے سرے سے تحریر کرتی ہے. یہ  ناول کہانی سناتا ہے  ہے شہرہ آفاق عالم اور عظیم فلاسفرجلال الدین  رومی  کے عروج سے زوال یا پھر زوال سے عروج کی، اسکے فلسفی سے درویش اور ہستی سے مستی تک کی..اور اس تبدیلی کا باعث بننے والے اسکے دلعزیز دوست شمس آف تبریز کی. ایلا کی زندگی کی تحلیل نفسی سے لے کر تعمیر ہستی تک  شمس کا ہی کارنامہ ہے .

.اس حصہ میں تیرھویں  صدی عیسوی   کے  عشق و مستی کے  وہ اسباق ہیں جو ایک ملنگ کو دنیا تیاگ کرنے پر پہنچا دیتے ہیں اور وہ سر پر راکھ ڈالے جنگلوں میں  اور  سر اور چہرے  کے بال منڈواے جنگلوں سے شہروں کی سمت جا نکلتا ہے. شمس آف تبریز  اور رومی کے عشق کی حدتیں  آنے والے صفحات پر طوفان برپا کر دیتی ہیں.اونچایوں پر رہنے والے فلاسفر کو زمین پر پٹخ دیتی ہیں اور رومی عشق کا عظیم سبق پڑھتا شمس کے ہاتھ سے ایک کے بعد ایک زہر کی پیالی امرت سمجھ کر پیتا جاتا ہے اور دونوں کا وجود دنیا میں امر ہو جاتا ہے.

           “    محبت کی وضاحت نہیں کی جاسکتی.اسکا محض  تجربہ کیا جا سکتا ہے، محبت کی وضاحت نہیں کی جا تی، پھر بھی یہ سب
واضح کر دیتی ہے.”

شمس آف تبریز رومی کے لیے ایک آیینہ ہے ایک ایسا آیینہ جو اسے اسکا اصل اپنی پوری سچایوں، خوبصورتیوں اور بد صورتیوں کے ساتھ   دکھاتا ہے.اپنی بدصورتیوں کو خوبصورت بنانے کے لیے رومی کیی کیی بھٹیوں میں جلتا ہے اور ہزار طرح کی آزمایشیں پار کرتا ہے. اپنے خیالات وتصورات سے تراشے سب بتوں کو گراتا اور نیی شکلوں میں ڈھالتا ہے.یہاں تک کہ بیچ چوراہے میں سیما( درویشانہ رقص ) تک جا پہنچتا ہے.اور عاشق و معشوق   “ایک ہاتھ آسمانوں کی طرف بڑھاے ہوے   اور دوسرا زمیں کی طرف جھکاے ہوے ، خدا سے ملنے والی ہر محبت اسکے  بندوں تک پہنچاتے ہوے”     ایک ایسی لے کو جنم دیتے ہیں ، ایسی مستی کی بنیاد رکھ دیتے ہیں جو آنے والی صدیوں تک درویشی کی پہچان بننے والی تھی.ایک ایسا رقص جو شمس وقمر کے متوازی چلتا فطرت اور کاینات کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے.  یہی درویشانہ رقص رومی کی زندگی میں طوفان و بادوباراں کے بعد اسکو تاریخ کے اوراق پر امر کر دیتا ہے اور  رومی کے علم کو معراج نصیب ہوتی ہے

                 “محبت کی شراب بہت نرمی سے ہمارے سروں کو  گھماتی ہے اور مجھے بہت خوشی اور شکرگزاری کے  ساتھ  محسوس  ہوا کہ ہوا نے مایوسی کی سرگوشیاں  بند کر دی ہیں. “

رومی کو ایک بے تاثیر مولانا سے ایک سچا عاشق، شاعر اور صوفی بناتے ہوے خود شمس ہزار طرح کی تکلیفوں سے گزرتا ہے.رومی کی نیک نامی کی دھجیاں اڑتی ہیں تو شمس کا دل بھی پاش پاش ہو جاتا ہے.رومی کی زات کا سفر شمس کو بھی موجود سے فنا ،بہار سے خزاں اور زندگی سے موت تک لے جاتی ہے.رومی کو نیے رنگ میں  رنگ کر شمس تبریز کا مقصد حیات پورا ہوا تو اسکو  الہام ہوتا ہے کہ اسکی روانگی کا نقارہ بج چکا.

         “ریشم کے پھلنے پھولنے کے لیے ریشم کے کیڑے کا مرنا ضروری ہے. ”

رومی نام کے ستارےکو تاباں کرنے کے لیے شمس نام کے سورج کو غروب ہونا پڑے گا.

                                        دنیا میں رہنمای کرنے والے لوگ ہی اکثر منزل چھوٹ جانے کا سبب بن جاتے ہیں. یہی لوگ جب اپنی نگاہ سے انسانوں کی شناخت کرنے لگتے ہیں اور انکو اپنے بناے پیمانوں پرجانچنے لگتے ہیں تو  کھرے اور کھوٹے کی نہ صرف  پہچان کھو بیٹھتے ہیں  بلکہ ہماری روحوں کو زخمی کرتے جاتے ہیں

      ” تمھارے اور خدا کے بیچ کسی کو نہیں آنا  چاہیے :کوی امام ، پادری نہ کوی ربی ، مزہبی اور  اخلاقی اقدارر کے ٹھیکیدار نہ کوی روحانی عالم اور نہ ہی تمھارا اپنا ایمان .اپنی اقدار اور قواعد پر یقین  رکھو لیکن انکو کسی بھی شے
پر حاوی مت ہونے دو!”

شمس آف تبریز کا یہ سبق دنیاوی مشعل برداروں کی نفی کرتا قاری کی آنکھ کو اس آینہ میں جھانکنے کی ترغیب دیتا دکھای دیتا ہے کہ جس میں رب کا عکس دکھا ی دے رہا ہو  .ہم ان کرداروں کی ازیتوں کو ایک ہمزاد کی  طرح اپنے دل میں محسوس کرتے جاتے ہیں.   شمس اور رومی کے تعلقات اور رومی کے شخصیت کا بدلاو معاشرے اور مزہب کے انہیں ٹھیکداروں کے ہاتھوں تنقید اور تحقیر کا باعث بنتا ہے.

تاریخ اور حال کا ایسا سنگم کہ جسکو الگ الگ کر کے دیکھنا مشکل ہے.تیرھویں  صدی عیسوی کو مصنفہ نے اکسویں صدی کے ساتھ اتنی مہارت سے گوندھ دیا ہے کہ قاری انکو الگ الگ کر کے نہیں دیکھ سکتا نہ وہ دیکھنا ہی چاہتا ہے.شمس کی کہانی آپکو ایلا کی طرف دھکیلتی ہے اور ایلا کو پڑھتے آپکا دھیان شمس کی طرف لپکتا رہتاہے. ہر اگلا سبق پچھلے حصے کا بے اختیار تسلسل ہے. ظاہر میں ایک دوسرے سے الگ دکھتی کہانیاں اصل میں ایک ہی دھاگے سے باندھی گیی اور ایک ہی خوشبو سے مہکای گیی ہیں. عشق اور عشق حقیقی  کی زندگی میں کیا اہمیت  ہے؟ خالق  کی محبت انسانوں سے امتحان لیتی ہے۔ محبوب صرف واحد ہو سکتا ہے اور واحد کو محبوب  بنانے کے لیے دنیاو ی شہرت اور عزت سے ماورا ہونا پڑتا ہے. کسی بشری تقاضے سے ماوارا ہونا  عشق کی معراج بھی ہے اور صوفی ازم کا بنیاد ی نکتہ بھی جسکو درجہ بدرجہ چالیس اصول واضح کرتے جاتے ہی.

                                                                      ناول کے ساتھ ساتھ چلتے ہوے  سامنے آنے والے کردار آپکی روح میں پنجے گاڑ تے جاتے ہیں. روز آف فارسٹ، شرابی، فقیر ، کیارا،  ایک ملنگ اور درویش کے عشق میں ترپتی کیمیا، باپ پر یقین رکھتا سلطان ولد، دنیا کی نظروں میں زمینی حقایق، سچ اور جھوٹ، اصل اور نقل میں فرق، ظاہر اور باطن کا دھوکہ  آنکھوں کے سامنے واضح ہوتے جاتے ہیں.  عشق وہستی کا کھیل کبھی حسد، رقابت اور آگ سے دامن بچا سکا ہے اور نہ ہی حسن  و محبت کی داستان نفرتوں کی شمولیت کے بغیر کبھی  مکمل ہوی ہے .ان صفحات پر بھی الہ دین، بیبرز اور  زیلٹ نفرت سے خون تک کا سفر طے کرتے نظر آ تے ہیں.کسطرح خبیث ترین کام مقدس سمجھ کر سرانجام دیے جاتے ہیں.رواییتی طبقات کا نکتہ نظر کتنا سچ اور جھوٹ لیے ہے سب روز روشن کی طرح واضح ہوتا جاتا ہے.تعصبات حقایق کو دھندلاے رکھتے ہیں اور کالے بادل چمکتے سورج کو نظروں سے اوجھل کر دیتے ہیں.اسی طرح روایتی سوچ اور حسد شمس اور رومی کو ملحد دکھا کر  بدصورت بنا دیتی ہے تو ایلا اور عزیز کی بے نیازی بھی برداشت نہیں  کر پاتے.دونوں سطحوں پر متعلقہ معاشرہ کبھی الہ دین اور مقامی علما کی شکل میں اور کہیں شوہر اور بچوں  کی صورت  اپنی اپنی مزاحمتوں میں سرگرم عمل  نظر آتا ہے.

شمس اور عزیز میں زمان و مکاں کا فرق ہونے کے باوجود عزیز شمس ہی کی ڈوری کا ایک سرا دکھای دیتا ہے.شمس کے برعکس عزیز دکھنے میں ایک عام انسان لگتا ہے مگر درحقیقت صوفیانہ لڑی سے جڑا شمس کا ہی ایک جنم ہے.صوفی سراے میں اپنے صوفیانہ تربیت کے دوران اسکا استاد اسکی شمس سےمماثلت کا زکر کرتا ہے تو عزیز کو اپنے پاس سے شمس کے لباس کی سرسراہٹ سنای دیتی ہےشمس کے  بارے میں جان کراسے وہ کردار بہت جانا پہچانا  اور دیکھا بھالا لگتا ہے.اور یہی بات جب ایلا پوچھتی  ہے تو وہ جواب دیتا ہے کہ شمس رومی کے بغیر ادھورا ہے چونکہ روی کی زات کی تکمیل ہی شمس کی زندگی کا اصل مقصد تھا.
“اگر کوی  شمس ہو بھی تو اسے دیکھنے والا رومی کہاں ہے.”

ایلا عزیز کی محبت اور اپنے شمس کی رومی بن جاتی ہے. عشق خدا کا ایک جزباتی ، روحانی اور پراسرار  رخ اور اعلیٰ ترین درجہ شمس کا   تو دوسرا مغربی،دنیاوی اور انسانی رخ  عزیز ہے.
  ”     ہر چور جب دنیا سے روانہ  ہوتا ہے تو ایک نیا جنم لیتا ہے.ہر مہزب انسان جب وفات  پاتا ہے تو اسکی جگہ کوئی نیا لے لیتا ہے، اسطرح سے کچھ بھی ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا اور نہ ہی  کچھ بھی ہمیشہ بدلتا ہے ۔کہیں کوئی صوفی مرتا ہے تو ااسی لمحے   دوسرا کسی دوسرے کونے ميں  پیدا ہو جاتا ہے   ” 

                                                                          صوفی ازم ،تزکیہ نفس ، عشق حقیقی اور مجازی ، دماغوں کو نیے سُروں سے روشناس کرواتے ہیں  تو تحریر کی پراسراریت،  اسکے کرداروں کی طلسمیت،  دل کو دہکا دینے والے لمحے اور  گرما دینے والی حدتیں آپکو کئی کیئ  حیران کن جزیروں کا سفر  کرواتے ہیں.
” کنویں کے اندر سے دو چمکتی کالی پتھر سی آنکھیں ”
آپ کبھی بھول نہیں پاتے، کنویں کے کنارے گرا ہوارومی زمین پر نہیں آپکے دل پر گرتا ہے اور بین کرتا ہے جسکی نوحہ کنعایاں آپکے وجود میں زلزلے برپا کر دیتی ہیں. ایلا کے سامنے بیٹھا عزیز اپنے صوفی بننے  کی کہانی سناتا ہے  ایلا کے ساتھ خوفناک رستوں پر چلنے کی بات کرتا ہے تو ایلا کے ساتھ آپکی زات بھی موم کی طرح  پگھل  کر بہہ جاتی ہے.معشوق کا وصال ہو یا جدای اپنے  پنجے قاری کے دل میں گاڑھتی ہے.ایلف شفق  اپنی تحریر سے آپکو شمس آف تبریز  اور عزیز سے عشق کرنے پر مجبور کر دیتی یے تو رومی  اور ایلا کے احترام  اور رتبوں میں اضافہ کرتی جاتی ہے.کیمیا کی غیر فطری صلاحیتیں اسکے لیے فنا کا پیغام لاتی ہیں اور ایک غیر معمولی بچی سے درویش تک اور درویش سے فناییت تک  کا سفر  اسے  عشق حقیقی کی تکمیل تک  لے کر جاتا ہےکیمیا کا کرب اور جستجو اور من مندر میں لگی آگ قاری کا دامن جلانے لگتی ہے.
آپ ہر لفظ سے اپنی انگلی چھڑا کربھاگنا چاہتے ہیں مگر لکھاری آپکا بازو پکڑے آپکو آگے سے آگے دھکیلتی جاتی ہے.یہ بلاشبہ لکھاری کی مہارت اور ہنر ہے کہ قاری نہ صرف کتاب سے چپک کر رہ جاتا ہے بلکہ اسے روح کی گہرایوں تک محسوس کر کے اگلے کیئ روز تک اسکی تاثیر محسوس کرتا رہتا ہے.ناول کے آغاز میں کنویں کی تہہ میں چمکتی ہوی آنکھوں سے شروع ہونے والا خوف  ، تہہ میں گرنے کی آواز کے منتظر قاتل جو کنویں کی خاموشی سے سہم جاتے  ہیں  ، تک آپکی ازیت کو بڑھاتا ہی نظر آتا ہے یہاں تک کے قاری آخری صفحات پر پھر انہیں آنکھوں اور نوح و کنعاں تک آ ٹھرتا ہے.
ایلا کی داستان آپکے اندر ایلا کو بیدار کر دیتی ہے تو .رومی کی تڑپ آپکو انگاروں پر جلانے لگتی ہے ،شمس آف تبریز کے ساتھ چلتے آپ درویش بن جاتے ہیں تو عزیز آپ کو منزل منزل روشنی  دیتا ہے . بابا زمان اپنی شفقت اور لیاقت سے آپکو شرابور کر دیتے  ہیں اورکیمیا  کی حسرتیں آپکا دامن جلا دیتی ہیں.الہ دین کا حسد ، روز آف فارسٹ کی جستجو سب قاری کو خود پر سہنی پڑتی یے عشق حقیقی کے اسباق پڑھتے .سمجھتے اور سیکھتے ہوئے.

                                                            صوفی ازم کو فلسفے کی کتابوں سے نکال کر  ایک کہانی کی صورت  میں مصنفہ نے اسطرح ڈھال دیا ہے کہ ایک عام سا قاری بھی سیما( درویشانہ رقص) کی دھڑکنوں میں گول گول گھومنے لگتا ہے.درویشانہ رقص ایک عام نظر کو منٹوں میں کندن کر کے حسن وعشق کے وہ اسباق پڑھا جاتا ہے جو عام حالات میں شاید فلسفے کی کتابوں میں بند رہ جاتے یا صرف فلسفہ کے شاگردوں کی ایک درسی ضرورت بن جاتے. مصنفہ کو یہ اعزاز جاتا ہے کہ  عشق حقیقی کے چالیس قوانیں وہ سیدھے ایک قاری کے دل میں اتار جاتی ہے بغیر کسی بحث و مباحثہ کسی حجت کے.اور فلاسفی کو اتنی خوبصورتی اورسادگی  سے عوام الناس کے سامنے پیش کرکے  اپنی ناول نگاری پر مکمل گرفت کا ثبوت دیتی ہے. فلسفہ کو ایک سادہ کہانی کی صورت بیان کرنے میں مصنفہ  کی پختگی بہت جلد پایلو PAULO COELHOکو ہلو کو پیچھے چھوڑتی دکھای دیتی ہے.

                       صوفی ازم کو اپنے بہتریں انداز میں پیش کرتے ہوے جہاں مصنفہ اسلام میں چالیس کی اہمیت، اور چالیس قوانین کو واضح کرتی ہے وہیں اپنے ہر سبق کا آغاز ب سے کرکے اس لفظ کی اہمیت اجاگر کرکے ناول کی درویشیت کو تقویت دیتی ہے چونکہ بسم اللہ کے ب کو سارے قرآن کا مفہوم کہا گیا ہے. اپنے کرداروں، الفاظ اپنی کہانی کی بنت اور اتار چڑھاو، رومی کے چالیس اصول ہر شے کو مصنفہ بہت احتیاط سے چھان پھٹک  کے اس موضوع کے ساتھ بہترین انصاف کرتی دکھائی دیتی ہے.

                                     ناول کے کرداروں کو  عام زندگی کی حکایتوں، فلموں اور  ڈراموں کی محبت کے زاویے   سے دیکھنا اس کے ساتھ زیادتی کرنا  ہے.عشق حقیقی کی لہروں کو دھیرے دھیرے اپنی زات میں جزب کرنے کے لئے ضروری ہے کہ زہن میں معاشرے اور روایات کے ہاتھوں پالی گیی  بصیرت کو کچھ لمحوں کے لئے بھلا کر  آپ خود کو اس کتاب کے کرداروں اور الفاظ کے سپرد کر دیں اور دیکھیں کہ آپکی استطاعت کتنے سمندروں کی حدوں تک ہے.میرا دعویٰ ہے کہ عشق کا سمندر آپکے پاوں گیلے نہیں کرے گا بلکہ اپنی لہروں میں ڈبو دے گا اک حیات جادواں  کا نظارہ دکھانے کے لیے.کچھ دنیائیں عام انسانوں کی نظر سے اوجھل رہتی ہیں جو صرف مقدر والوں کا مقدر اور بصیرت والوں کی بصارت بنتی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔      ۔۔۔۔۔۔۔۔

 2016 میں الف کتاب ڈاٹ کام میں شائع ہوا۔

Paulo Coelo ( شاہکار سے پہلے)

…..اس سے پہلے کہ کیمروں کی فلیش لایٹس اور ریفلیکٹرز کی نیلی ڈسکو سٹایل چمک کے بغیر پایلو کایلو کے  قدم اٹھنے سے بیزار ہو جائیں ،رپورٹرز اور پاپا رازیوں کے  ہجوم کے بغیر اسکا سانس دوبھر ہونے لگے، انٹرویوز، سیلفیاں اور آٹوگراف اسکے لیے زندگی کی اہم ترین  خوشیاں بن جائیں اور وہ  ایک عام انسان کی طرح عام بےنیاز  لوگوں  میں ا ک بے اثر بے نیازی کے ساتھ چل نہ سکے، ا س مشہور زمانہ لکھاری کی زندگی میں وہ وقت بھی  آتا ہے جب وہ اندھیرے کمروں مں تنہایوں کو دکھرے سناتا ہے  تاریک راتوں میں  موم بتیوں کے سرہانے انکے ساتھ سلگتا ہے.گیلے کاغز پر کالے حروف اور غمزدہ لمحے اتارتا ہے اور پلکیں سوکھ جانے کے بعد سورج کی پہلی شعاوں کے ساتھ نیے عزم اور نیے حوصلوں کے وعدے کرتا ہے اور ہر آنے والے دن اپنی محنت اپنی جنگ کا صفر سے دوبارہ آغاز کرتا ہے.

اوپرا ونفری/شاہکار سے پہلے

پایلو کایلو کی زندگی بھی کوپاکبانا(Copacabana beach) کے ساحل کی سمت کھلنے والی کھڑکیوں والےمہنگے اور پرتعیش  فلیٹ سے پہلے Rio de Janeiro  کے ایک مڈل کلاس علاقے کے مڈل کلاس گھرانے کے ناکام سپوت کی کہانی تھی.ایک ایسا ناکام بیٹا، بیکار انسان جو نہ تو اپنے اساتزہ سے توصیف سمیٹ سکا نہ والدیں کی پلکوں پر اترنے والے خوابوں  کا بوجھ اپنی پوروں سے اٹھا سکا. ایسا عام انسان جو اپنے اندر ایک مظطرب روح ،ایک بےچین وجود کی شناخت کے سفر میں تھا اور سفر بھی ایسا  جو لمبا بھی تھا کٹھن بھی اور پرآسیب بھی.لیکن سالوں کی دھوپ سر پر کاٹنے، صدیوں کا بوجھ کندھوں پر اٹھا لینے کے بعد جب یہی مظطرب روح منظرعام پر آی تو نہ صرف کہ شہرت کی تمام حدیں پار کر گیی بلکہ ہزاروں لوگوں کو خواب دینے ، نیی دنیاییں دریافت کرنے کی تحریک دینے اور  تعمیر کے اسباق سکھانے  لگی. دنیا بھر میں دوسو ملین سے زیادہ بکنے والے کتابوں  اور اسی (80) زبانوں میں ترجمعہ ہونے والے ناول الکیمسٹthe Alchemist  کا  مصنف جسکے الفاظ سے  ہزاروں لاکھوں لوگ روزانہ سونے سے پہلے  زندگی اور معاشرے کے ہاتھوں  اپنی کچلی روحوں کو تسلی دیتے ییں، اپنے ماضی کو دفن کرنے اور نیی صبح کو روشن کرنے کا عزم کرتے ہیں  اسی کا نام پایلو کایلو  ہے.

اپنی پیدایش سے ہی بدقسمتیوں کے شکار پایلہو کاولو نے زندگی کے پہلے سانس سے  اسکی سختیوں اور مصایب سے لڑنے کی ہمت پکڑ لی تھی.اسی لیے جب غمزدہ باپ  اور آنسو بہاتی  ماں  اس نوزایدہ بچے کے کفن دفن کی تیاری کر رہے تھے  وہ انگڑایاں لیتا اٹھ بیٹھا.اور اپنے نصیب میں  لکھی گیی  نایاب  زندگی کے  ایک طویل عرصے تک  پست قد کے ساتھ   بلندیوں کے لیے لڑنے والا پایلو آخر اپنے ریگزاروں، پتھریلی مسافتوں  اور نم راتوں سے گزر کر اپنے ہنر کی معراج پر پہنچ جاتا ہے.

                             پتلی ٹانگوں اور بڑے سر والا بدصورت لگنے والا بچہ پاولو  ابتدای عمر سے ہی غیر مقبول ثابت ہوا سہیلیوں کو متوجہ کرنے کی خوبصورتی نہ تھی دوستوں میں دھاک بٹھانے کو  ہمت تھی نہ بہادری ، والدین کا لاڈلا بننے کو روایت پسندی  نہ تھی. ا یسے میں خود کو خوش رکھنے اور دوستو ں کو متاثر کرنے کا ایک ہی زریعہ تھا اسکے پاس اسکی کتابیں اور مطالعہ..بچپن سے ہی مطالعہ کے شوقین   پاولو کایلو نے سکول کے دور  سے ہی آنکھوں کی پتلیوں پر لکھاری بننے کا ایک خواب ،ایک جزبہ بن لیا  تھا . سکول کی نصابی قابلیت  اپنے والدین کی تمام تر کوشش کے باوجود وہ آسانی سے حاصل نہ کر سکا.سکول کے ریکارڈ میں ہمیشہ آخری نمبر پر رہنے والا اور ہر وقت سکول سے نکالے جانے کے خوف میں پروان پانے والا نوجوان جب ایک دن ایک تخلیقی شاعری کے مقابلے میں اپنے سکول سے نمبر ون  آتا ہے تو  اسکی آنکھوں کو ایک خواب ملتا ہے ایک ایسا راستہ جس پر اسکے لیے تالیاں بج  سکتی ہیں وہ انعامات جیت سکتا ہے اور ناکامیوں سے نکل کر کامیابی کا مزا چکھ  سکتا ہے اور اس پر آشکار ہوتا ہے کہ اسی سمت اسکی طبعیت کا دریا بہتا اور اسکے جزبوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے.. جلد از جلد والدین کو یہ خوشخبری دینے ، خوابوں کی  اونچی  اڑان اور لکھاری بننے کا خواب  سنانے کی چاہ لیے وہ سکول سےنکلنے والے پہلے طلبا میں سے تھا.اسکے ہاتھ جیسے قارون کا خزانہ لگا تھا کہ جسے دیکھ کر اسکے والدین خوشی سے اچھل پڑتے، اسکے بوسے لیتے اور اس پر فخر کرتے! کم سے کم اسکا  نوجوان دل ایسے ہی سوچ رہا تھا.گھر پہنچتے ہی دروازے پر باپ کو  کھڑے گھڑی دیکھتے پایا.  پاولو کے دیر سے گھر آنے پر باپ  کا غصہ اور لہجے کی سختی نہ اسکی ٹرافی ختم کر سکی نہ انعام کی رقم.

“مجھے اچھا لگتا اگر تم یہ ٹرافی اپنی سکول
کی پڑھای میں لیتے اور وقت پر گھر آتے.”

کیا آپکو بھی یہ جملہ  اپنی زندگی میں کیی  بار کا سنا لگتا ہے؟ وہ ٹوٹے دل کے ساتھ ماں کی سمت بڑھتا ہے کہ شاید اسکے جزبات اسکی ماں کے دل میں کوی سر جگا سکیں ، اسکی کامیابی ماں کے چہرے پر رونق اور آنکھوں میں چمک لا سکے. مگر وہاں بھی روایتی ماں کا عکس ایک غیر روایتی جنون کو کچلنے کے لیے  موجود تھا.

                       “برازیل میں چالیس ملین لوگ ہیں جن میں ہزاروں
لکھاری ہیں لیکن اپنے اس  فن سے کمانے والا صرف  جارج
آماڈو ہے ____صرف ایک!

                                                                    یہ یقینا پاولو کایلو کی زندگی میں آنے والی پہلی روتی سلگتی ہوی کالی رات تھی جو اس نے گزاری.اپنی  جیت جسکو تھامتے اسکی ٹانگیں کانپی  اور دل  کی دھڑکنوں میں طوفان بپا رہا،  اسکے والدین ،جو اس وقت اسکی زندگی کا واحد محور تھے، کے چہرے پرایک مسکراہٹ تک نہ لا سکی تھی. تاریک رات کے سناٹوں میں وہ اپنے بستر پر بہتے  آنسووں، ٹوٹے ارمانوں اور زخمی جزبات کو سنبھالتا رہااور اگلی صبح کی پہلی کرن کے ساتھ اس عزم کے ساتھ جاگا کہ اگر اسے لڑنا ہی ہے تو وہ اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے لڑے گا. چاہے اسکے مدمقابل اسکے اپنے والدین ہی ہوں.

                                                                     پایلو کا دل مکتب کی کتابوں اور اسباق میں نہ لگتا ایک روایتی اطاعت گزار  بیٹے اور  رایج طریقوں کے مطابق چلنے والے نوجوان کا کردار نبھانا اسکے لیے کٹھن  تھا.

                                       “اگر سب لوگ زمانے کے طریقوں کو
اسی طرح سیکھ لیں گے تومعاشرے میں  تبدیلی کہاں
سےآ ے گی؟”

                                       ایک انٹرویو میں پاؤلو نے کہا .دوسری طرف   والدین کے لیے اسکے لکھاری بننے کا خواب ناقابل قبول تھا.انہیں   پایلو کو ایک عام  زہین انسان بنانا، دو جمع دو چار کر کے پیسہ کمانے والا مرد اور روزگار کی درجہ بندیوں میں انجینیر کی صفوں میں دیکھنا تھا.دنیا کے بانٹے ہوے درجوں میں صف اول پہ لانے   کی  انکی کوشش  نے پاولو کی روح پر خوب کچوکے لگاے.

             “کیا تم کو پتا بھی ہے کہ رایٹر ہونے کا کیا مطلب ہے.! “

                                                                یقینا برازیل میں اسکا مطلب  بھوک، افلاس ،غربت اور ناکامی ہی تھا اور پایلو نے اپنی اس لگن میں ان سب کا جی بھر کے مزا لوٹا. سالوں تک لکھاری بننے کی دھن اسکے لیے ایک روزگار پیدا نہ کر سکی ، والدین پر منحصر ہونا اسکے لیے پاگل خانے کی راتوں کا باعث بنتا رہا اور اسکی قید  سے فرار کی کوشش اسکے لیے فاقے اور بیماری کا باعث بنتے رہے. یہ ممکن تھا کہ پایلو والدین کے مشوروں پر چل کر کوی فنی تعلیم حاصل کرنی کی اور باروزگار بننے کی کوشش کرتا مگر اس کوشش میں اسکا دل دماغ اسکا ساتھ دینے سے انکار کر دیتے.چناچہ سالوں تک ایک اصل لکھاری کی طرح غربت افلاس اور مسکینی اسکا لباس بنا رہا پھر بھی  عجیب ہٹ دھرم اور ڈھیٹ دل تھا پاولو کا کہ کاغز قلم اور لفظوں کے علاوہ کہیں لگتا نہ تھا مگر کتابوں میں گم رہنے والے پایلو کے لیے نصابی کتابیں ایک سزا تھیں کہ جن پر اسکا دل ٹھر ہی نہ پاتا.

                           “مجھے (نصابی پڑھای سے )چھوٹی سے
چھوٹی چیز بھی بھٹکا دیتی  تھی چاہے وہ خود کتنی
ہی بیکار  کیوں نہ ہو.”

                                                               پیڈرو Pedro( باپ ) اور لیگیاLygia ( ماں) اسے کتابوں سکول اور پڑھای کی طرف دھکیلتے تاکہ اپنے باپ کے نقش قدم پر چلے اور پایلو کا دل اسے کھینچ کھینچ کر کاغز قلم تک لاتا.سزاییں ، گھر میں محدود ہونا ،جیب خرچی کی بندش اسکے لیے عام سزاییں تھیں جو اکثر وبیشتر اسکے ڈوبتے ابھرتے گریڈز کی وجہ سے اسکا مقدر بنی رہتیں.

  شہرت اور عزت جب گھر کی باندی ہو گیی  تو یہ کہنا اسکے لیے خاصا آسان تھا کہ

                          ” یہ سب انہوں نے مجھے نقصان پہنچانے
کے لیے نہیں کیا……اصل میں وہ میرا بھلا ہی
چاہتے تھے.”

     لیکن ان سزاوں اور سختیوں کو خود ہر جھیلتے پایلو ہزارہا طرح کی ازیتوں سے گزرا.اسکے اندرکتاب لکھنے اور  لکھاری بننے کی آرزو تڑپ رہے تھی.اسکے خواب الفاظوں کی صورت صفحات پر اترتے رہے  اورکاپیاں پُر ہوی جاتی تھیں . وہ اپنے دل کی موسیقی کی لے پر سر دھننے کے لیے  بے چین تھا.اور راستہ تھا کہ سامنے کوی کھلتا نہ تھا اور اگر کھل جاتا تو پیڈرو اور لیگیا اسکو بند کرنے میں پوری طرح مستعد تھے.اسکی لگامیں پکڑنے اور اس کے قبلے کو درست کرنے کی کوشش کرنے والے اسکے لیے  کسقدر تکلیف کا باعث ہونگے اسکا اندازہ  ان رستوں اور ان پتھروں سے گزرنے والا  باآسانی کر سکتا ہے.اپنی بصیرت پر یقین رکھنے والا پیڈرو  بیٹے کو ایک کامیاب اور نارمل فرد بنانے کی جدوجہد میں دراصل اسکے فطری میلان کو بدلنے اور اپنی مرضی کے رنگ میں ڈھالنے کی  کی کوشش کرتا رہا.  اور پاولو کا حوصلہ ہر قدم، ہر مشکل اور ہر بندش پر اسکی پیٹھ تھپکتا، اسے حوصلے دیتا رہا .سب کچھ ہار کر وہ جو چیز بچا لیتا تھا وہ اسکا عزم اور خواب کی تکمیل کا جنون تھا.

“زندگی میں صرف ایک چیز ہے جو
آپکو ہرا سکتی  ہے ______اور وہ ہے ہار کا خوف!”

اور یہ خوف پاولو کی کسی جیب میں نہ تھا
سترہویں سال میں سکول سے جان چھڑاتے پایلو کو ایک مقامی اخبار میں  رپورٹر کی عارضی نوکری مل گیی. لکھنے لکھانے کے شوقین کے لیے ایکیہ  پرلطف نوکری تھی  اور جرنلسٹ کہلانے کے شوق میں پاولو سکول  بھلا کر دل و  جان سے اپنی نوکری میں مگن ہو گیا. عارضی نوکری سے جہاں پاولو خود بے تحاشا مطہین اور خوش تھا وییں پڑھای کی دن بدن بگڑتی حالت اور کچھ چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے والدین کے لیے سردرد بن کر رہ گیاتھا .چناچہ ایک دن جب پاولو  کی عارضی نوکری  باقاعدہ صحافت میں بدلنے والی اور اسکی تنخواہ اور جرنلسٹ کارڈ کا اجرا ء ہونے والا تھا. پیڈرو کوہلو اور لیگیا اسے بہلا پھسلا کر نفسیاتی ہسپتال میں لے پہنچے ہیں جسکی نویں منزل کی قید تنہائی میں ایک  کمرہ اسکے لیے اگلے  بیس دن  تک کے لیے وقف ہو چکا تھا. ماں اور باپ  اسکی اخبار میں  ملنے والی کامیابی سے مکمل لاتعلق ، بے خبر اور اسکی پڑھای میں ناکامی اور دن بدن بگڑتے ہوے روییے  اور مصنف بننے کے شوق سے شدید پریشانی  کا شکار  تھے.اور ایک بے نیاز لاعلمی سے  پایلو کے  خوابوں کی تکمیل کی راہ میں حایل ہو  گیے.تھے.  باپ کے خیال میں ایک روایتی خاندان میں اسکے غیر روایتی رویے اسکی بیماری کی دلیل تھے..اور لیگیا ،اسکی ماں کو شک تھا کہ بیٹے کو کچھ جنسی امراض لاحق ہیں…شاید!

” میں نے وہاں بیس دن بتاے.
میری کلاسز چھوٹیں، نوکری گیی اور مجھے ایسے  رہا
کیا گیا جیسے میں صحتمند ہو گیا.”

حالات سے لڑنے ، اور خود کو حوصلہ دییے رکھنے  کے لیے پایلو کے پاس ” ایک خاص راستہ “تھا  جو اسکے کالے پانیوں میں روشنی کر دیتا،  اسکی اندھیری مظطرب راتوں کو پرسکون کر دیتا  .وہ خاص راستہ اسکا قلم اور ڈایری کے اوراق پر مشتمل  تھا.اپنی ڈایری کے اوراق پر اپنے من مندر کھول کر بیاں کر دینا پایلو کی عادت ثانیہ تھی..اسکی تنہای کی تلخیوں کی اکیلی رازدار، اسکے وجود کی تہوں میں پنپتے جزبوں کو راستہ دینے والی دوست اور تکلیف دہ لمحوں کی سختی کم کرنے والی واحد غمگسار!   یہی وہ سہولت تھی  جس سے وہ  سورج کی تمازتوں کو سہنا اور زہریلے روییے پینا سیکھ گیا تھا.نفسیاتی ہسپتال  میں نفسیاتی  ڈاکٹر کی   راے کے مطابق:

”    پایلو  زیادہ تکلیف اس حقیقت کی
وجہ سے  برداشت کرگیا  کیونکہ اسکے پاس الفاظ
تھے.”

                                                         پاولو کے پاس لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے نہ ہیرو سا چہرہ تھا نہ باکسر سی باڈی اور نہ ڈسکو سی پھرتی! اسکی کتابیں اور مطالعہ اسکا اثاثہ تھے جو  اسے ایک خاص مقام دلاے رکھتے  .سترہ سال کی  عمر میں پایلو نے اپنی کچھ نظموں کا مجموعہ ایک لوکل اخبار کے ایڈیٹر کو اسکی راے لینے کے لیے  بھیجا. اخبار میں چھپنے والا ایڈیٹر کی طرف سے تزلیل کی حد تک  حوصلہ شکن اور سنگدل  جواب   ایک بار پھر پاولو کو آسمان سے گرانے کے لیے کافی تھا.مگر پاولو کے چٹان حوصلے بھی کمال تھے.

“اگر تم اپنے دوستوں اور دشمنوں سے ایک اور موقع کی درخواست کر سکو
اگر تم ‘ نہیں ‘  سنو اور سمجھو  کہ ‘شاید ‘
اگر تم  میں ہمت ہے کہ تہہ سے شروع کرو  اور اپنے تھوڑے کو زیادہ سمجھو
اور خود کو ہر لمحہ نکھارو اور مغرور ہوے بغیر بلندیوں تک پہنچو
تو تم ایک لکھاری ہو گے.”

پاؤلو نے اپنی ڈایری کے اوراق پر خود کو تسلی دی.

ہسپتال سے رہای کے بعد صحافی بننے کے مواقع ختم ہو چکے تھے.اور جو وقتی کام ملا وہ اسکی ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی کی نظر ہو گیا اور پاولو خالی ہاتھ ہو کر سڑک پر آ گیا.ایسے وقت میں اسے ایک مقامی تھیٹر میں بچوں کے کلاسک ڈرامے پنچیوpinocchio میں  ایک انتہای معمولی کردار کی آفر ہوتی ہے  جسکا کام صرف وقفہ کے دوران بچوں کو متوجہ رکھنا تھا.  نظریہ ضرورت کے پیش نظر ہنسی خوشی اس موقع کو قبول کرنے کے سوا اسکے پاس کوئی چارہ نہ تھا. پاولو نے  اس  ڈرامے میں “آلو” کے روپ میں   ایک  جوکر سے اپنے  تھیٹر کے سفر کا آغاز کیا اور اپنی دلچسپی اور لگن سے  کچھ ہی دنوں میں خود کو اس  ڈرامہ کا لازمی حصہ بنا لیا اور پوسٹرز پرفنکاروں کے ساتھ اسکا نام لکھا جانے لگا ..پایلو بڑے بڑے خواب ضرور دیکھتا ہے پر اسکی تکمیل کے لیے   چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے سے نہ جھجکتا ہے نہ تھکتا ہے.آغاز چاہے کتنا ہی حقیر اور گھٹیا  ہو.اگر یہی منزل تک لے کر جاتا ہے تو   پایلو اسے اسی شوق اور لگن سے سرانجام دیتا ہے کہ قدم خودبخود اگلی منزل کی طرف اٹھنے لگے.

                             یہ ڈرامہ پایلو کے تھیٹر کے سفر میں اسکی کامیابی کے در وا کرتا ہے اسکے بعد پایلو کے لیے مختلف ڈراموں میں مواقع حاصل ہونے لگتے ہیں. اگر معاشی پسماندگی کو نظر انداز کیا  جاے تو اگلےکچھ عرصے میں وہ بھرپور تالیوں کی گونج میں، لڑکیوں میں مقبولیت ، رات بھرکی ریہرسلز اور  اخباروں اور رسالوں میں شہرت کے ساتھ  اپنے خوابوں کی زندگی جیتا  دکھای دیتا ہے  اس دوران اسکا  لکھا پہلا ڈرامہ سٹیج ہوتا ہے جو اگرچہ بری طرح ناکام ہوتا ہے مگر اسکے فخر کے لیے یہ بات کافی تھی کہ” کم از کم میں نے کوشش ضرور کی”. سٹیج پر  فنکار کے طور پر ملنے والی اس کامیابی کے ساتھ سکول کی نا کامی خوب وفا کرتی ہے جس کے نتیجے میں پایلو. کو ناکامی سے بچنے کے لیے  شہر کا دوسرا بہترین سکول اینڈریو کالج چھوڑ کر ایک نچلے درجہ کے کالج میں داخلہ لینا پڑتا ہے، شہر کا پہلا بہترین سکول وہ بہت پہلے ہی انہی وجویات  کی بنا پر چھوڑنے پر مجبور ہو چکا تھا.  باپ کے ٹوٹے ہوے ارمان  کافی حد تک اپنی موت مر چکے . پیڈرو کی  توجہ اب صرف اس بات پر ہے کہ وہ اپنے لیے کسی مناسب روزگار کا بندوبست کر کے اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے.چناچہ  پایلو گھر میں کچھ آسانیاں حاصل کرنے  کی خاطر پیڑرو کی شرط  اور سفارش پر کچھ چھوٹی چھوٹی  نوکریاں کرتا ہے. حتی کہ ایک فیکٹری میں نچلےدرجے کے مددگار  تک کی نوکری وہ پورے حوصلے سے نبھاتا ہے تا کہ  ایک مخصوص تنخواہ حاصل کر کے اپنا خرچہ اٹھا سکے جبکہ دن بھر کی اس مزدوری کے بعد  رات دیر تک  اپنے شوق کی تسکین کے خاطر  تھیٹرکی رہیرسل میں حصہ لیتا ہے

                                       ”  یہ ایک دھیمی  رفتار کی خودکشی تھی
.میں یہ   کر ہی نہ پا  رہا  تھا کہ ہر صبح چھ بجے اٹھوں
سات تیس پرجھاڑو لگانے سے کام شروع کروں اور سارا
دن کھانے کے لیے رکے بغیر سامان ادھر سے ادھر لے جاتا
رہوں اور پھر آدھی رات تک مجھے ریہرسلز کے لیے  جانا
پڑے.”

اس حقیر نوکری کی بدولت ہی اسے   گھر میں رات گیارا بجے کے بعد  داخلے کی اجازت ملتی ہے. .اب وہ پوری توجہ سے تھیٹر کی صورت میں  اپنی من چاہی زندگی اور کام میں غرق یو جاتا ہے.دوسری طرف سخت طبیعت پیڈرو بہت زیادہ د یر تک پایلو کی رات دیر تلک ریہرسلز برداشت نہ کر سکا اور ایک بار پھر رات گیارہ  بجے واپسی تک کا سخت قانون نافذ ہو گیا . ایک رات  گھر پہنچنے پر اسکو ہمیشہ کی طرح گھر کا دروازہ بند ملتا ہے تو طیش میں آکر  لوگوں اور باپ کے غصے کی پرواہ کیے بغیر  وہ گھر کی کھڑکیاں  اور دروازے تؤڑنےپر تل گیا  .اس سے پہلے کہ آس پڑوس کے لوگ جھانکیں کہ باہرکیا تماشا برپا ہے پایلو کے  گھر کا دروازہ اس پر کھل جاتا  ہے اور پایلو بغیر کسی بحث میں پڑے سیدھا  اپنے کمرے میں جا کر دھت سو جاتا ہے.اگلی صبح اسکی  آنکھ دوبارہ اسی نفسیاتی ہسپتال  کے عملے کے درمیان کھلتی ہے جو اسے لیجانے آے تھے.وہ نفسیاتی ہسپتال  جو اسکی زندگی کو آسیب بنکر چمٹ کر رہ گیا تھا.

” کچھ ہمسایوں نے فاصلے سے
وہ کمزور سا لمبے بالوں والا  نوجوان  سر جھکاے
کار میں بیٹھتا دیکھا. جی ہاں    ! اپنا سر جھکاے!
وہ ہار چکا تھا.”

اسکے خوابوں کی آڑان اور اسکی رسای کے بیچ ایکبار پھر والدین کا خودغرض پیار  اور غصہ آ کر اسکو پھر سے زنداں میں لے آیا تھا. نفسیاتی ہسپتال میں گزارے اعصاب شکن دن پاہیلو نےسینے پرکھای جانے والی گولی کی طرح سہے.اک زی شعور فردکے اپنے خوابوں اور مستقبل کی جستجو میں مصروف دن جب ایک دم سے نفسیاتی مریضوں کے بیچ نویں منزل پر  سلاخوں کے پیچھے  بند ہوجائیں.اور وہ مہینوں سورج کی صورت دیکھنے   اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کو چھونے کو ترس جاے ،دوست احباب کو ایک گم گشتہ  خواب کی طرح  پکارنے اور بجلی کے جھٹکوں اور غنودگیوں کے بیچ  گمشدہ ہو جاے تو ایک کم حوصلہ شخص کی ہمت ٹوٹتے ،امید چھوٹتے دیر کتنی لگتی ہے. مگر ایک عام سا  بدقسمت نوجوان  جسکی زندگی ناکامیوں سے اٹی پڑی ہے اور جو اپنے ماحول اور لوگوں کے لیے ایک بیکار بدصورت حقیقت سے بڑھ کر کچھ نہیں پہاڑ سا حوصلہ دکھاتا ہے.

“آپ ان  تجربات  کو دیکھ  کر
کہہ سکتے ہیں ‘ پاولو کی زندگی دکھی ہے’ لیکن  میں
ایسے نہیں دیکھتا! میں خود میں کسی ایسے شخص
کو دیکھتا ہوں جس نے خود کے ساتھ بے تحاشا سچا
رہنے کی کوشش کی .جی ہاں !  اسکی ایک قیمت ہے
لیکن مجھے یقین ہے  یہ زندگی ان لوگوں کے  لیے  بہت
فیاض ہوتی ہے جو مشکلوں سے گھبراتے نہیں.”

                                               .اس قید کے دوران لکھنے کا شوقین پایلو اپنے محبوب ٹایپ  رایٹر کے ساتھ جو اسکی فرمایش پر پیڈرو نے اسے تحفتا دیا تھا  اپنی روزانہ کی روداد. BALLAD OF CLINICal  GOAL. لکھتا رہا جو  ایک پر کترے پنچھی  کی پنجرے میں بند آپ بیتی سے کم نہیں.آسکر وایلڈ کی THE BALLAD OF READING GOAL  کی طرز پر لکھی اس روداد کے الفاظ ، انکی جلن اور تلخی  پایلو کے  اندر کی ازیت کا پتا دیتی ہے.اپنی سالگرہ  پر لکھا اسکا نوحہ اور فادڑز ڈے پر اپنے باپ کو لکھے خط اسکی بے چارگی اوربےبسی کی زندہ داستان ہیں.

صبح بخیر ڈیڈ! میرے ہاتھ خالی ہیں
میں آپکو دیتا ہوں یہ ابھرتا سورج، سرخ اور طاقتور
تاکہ آپ کم افسردہ ہوں اور زیادہ مطمین
یہ سوچ کر کہ آپ ٹھیک ہیں اور میں خوش!

                    محبتیں اپنی جگہ موجود رہتی ہیں انکی اہمیت سے کون انکار کر سکتا ہے  مگر بعض اوقات تکلیف دہ  روییے محبت کرنے والوں کی محبت دھندلا کر  خسارے کا باعث بن جاتے ہیں اور یہ خسارہ صرف پایلو کے حصے میں نہیں تھا اسکے والدین بھی اسی تکلیف سے گزر رہے تھے جس سے وہ خود برسرپیکار تھا
” میں اپنے والدین کے لیے ایک ڈراونا خواب تھا۔ ”

                                .فرنانڈو مورسFERNANDO MORALS.  نے پایلو کے ان تکلیف دہ لمحوں کو اسکی ڈایری سے لے کر  پایلو کی داستان حیات “ایک جنگجو کی زندگی “(WARRIOR’S LIFE )میں واضح جگہ دی ہے.

                              یہی پر یہ نغمہ ختم ہوا اور میں بھی
کوی  پیغام بھیجنے کو نہیں، کچھ نہں،
نہ جیتنے کی کوی خواہش
ایک خواہش جسے انسانی نفرت نے چیر پھاڑ دیا
ایسا محسوس کرنا اچھا لگا! مکمل شکست!
چلو اب پھر دوبارہ شروع کریں.!
.

                                                                 پایلو   خود کو حوصلہ دیتا، اپنے ہی کاندھے پر سر رکھتا  اور اپنی ہی ہتھیلیوں سے آنسو پونچھتا ہے.اچھے دنوں کی امید سے زہنی بیماری کے خوف اور نفسیاتی تشدد کو برداشت کرتا ہے اور اپنے تجربے کو مفید اور کارآمد بنانے کی جدوجہد کرتا ہے.وہ جانتا ہے کہ آگ برساتاسورج آخر ڈوب جاے گا ، موسم بدل جائیں گے وقت گزر جاے گا..قیامت سا کٹھن سفر پوری شدت اور طاقت سے دیکھنے اور محسوس کرنے کا عزم لیےپایلو  اپنے حوصلے تھامے بیٹھا رہا  اور لکھتا رہا اس  امید پر کہ یہ تجربات اور مشاہدات کسی دن کسی دوسرے شخص کے کام آ سکیں.جیسے بہت سارے پرانے لوگوں کی باتیں اسکے کام آتی رہی تھیں.

“_____ اب مجھے
سب پھر سےشروع کرنا ہے یہ تسلیم کرتے ہوےکہ جو
ہوا ،مزاق تھا یا ایک جان بوجھ کر کی گیی غلطی!
اس سےمجھے ایک موقع ملا ہے باشعور ہونے کا اور
خوداعتمادی حاصل کرنے کا اور اپنے دوستوں کو اچھی
طرح سمجھنے کا اور ان چیزوں کو جاننے کا جن پر میں
نے پہلے کبھی نہیں سوچا.”

                                              ایک بڑے کامیاب شخص  کی عظیم الشان کامیابی کے پیچھے قسمت کا چھکا کم ہی ہوتا ہے.عام طور پر اسکے پیچھے عمر بھر کے گرم راستوں کی سختیاں ، لہولہان کرنے والے پتھر اور پتھروں کو توڑ دینے والی ناکامیاں ہوتی ہیں جنکو بہت حوصلے اور ظرف کے ساتھ اس نے قطرہ قطرہ پی رکھا ہوتا ہے.نفسیاتی ہسپتال میں جہاں چیختے چلاتے یا ہواوں میں گھورتے، آسمانوں کو سر پر اٹھاے  اور کاینات کو بغل میں دباے  نفسیاتی مریضوں کے بیچ اپنا شعور قایم رکھنے کی ایک کٹھن جنگ تھی وہیں اس قیام نے پایلو کو زندگی کی  تلخ صورتیں  دکھا  کر اسکے اندر مثبت تحریک پیدا کی اور ادراک دیا کہ وہ زندگی کی مشکلوں سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ رکھنے میں بہت لوگوں سے بہتر صورت حال میں ہے.

                                  ” اپنے کہیں بہت  اندر  میں جانتا ہوں
کہ میں دنیا کا بدقسمت ترین انسان نہیں  ہوں! میری
رگوں میں جوانی بہتی ہے ا ور میں ہزاروں دفعہ سب
کچھ دوبارہ سے شروع کر سکتا ہوں!”

                                                   دوسری بارتین ماہ سے زیادہ دنوں پر محیط یہ قید بالاآخر اسکے ہسپتال سے بھاگ جانے پر اختیتام پزیر ہوتی ہے. کچھ دن ادھر ادھر کی دھول اور فاقے  چاٹ کر جب پایلو گھر لوٹتا ہے  تو پیڈرو اور لیگیا کو سرنگوں پاتا ہے.بیٹے کی گمگشدگی کی ازیت انکی بوڑھی ہڈیوں سے ضد کو نچوڑ چکی ہے.اس جدای نے انکو مجبور کر دیا کہ وہ بیٹے کی کامیابی کو اسکی زندگی پر قربان کریں. پایلو کی  مرضی کو تسلیم کر کے وہ .گھریلو زندگی کے سخت پیمانے نرم رویوں میں بدل دیتے  ہیں.اور کچھ عرصے کے لیے پایلو کی زندگی کی ایک مشکل آسان ہو کر اسے   پرسکون اور مطمئن دن نصیب ہو نے لگتے ہیں. اور وہ پھر سے پوری توجہ سے لکھنے لکھانے  کی کوشش اور تھیٹرکی طرف متوجہ ہوتا ہے.

                                                                                        لکھاری بن جانے کاخواب ابھی اپنی مٹی  نرم نہیں  کر پایا مگر تھیٹر کی دنیا  اپنے در پایلو پر وا کر چکی  ہے. پایلو بچوں کے ڈراموں سے مقبول ہو کر باقاعدہ تھیٹر کا رایٹر ، ایکٹر، ڈایریکٹر اور پروڈیوسر ہونے کا سفر اکیس سال کی عمر تک مکمل کرتا ہے اور کچھ عرصے میں  (SBAT( BRAZILIAN SOCIETY OF THEATRE WRITERS  کا ایک معزز رکن بن جاتا ہے.

                                                         پایلو کا اترتا چڑھتا کیریر دھکے کھاتے کھاتےنشیب و فراز کو پار کرتے جاتا ہے.پاولو کی 69 سال کی زندگی کا مختصر جایزہ لیا جاے تو بیس سال کی عمر ان گھمبیر مشکلوں اور بہترین کامیابیوں کے لیے خاصی کمسن ہے اور ان کامیابیو ں کی دستک اسکی زندگی کے دروازے پر سنای دینے لگی تھی..مگر بیس سال کی عمر میں جب جزبات اور خواب اپنے عروج پر ہوں، آس پاس کے ہم عمر لوگ ڈاکٹر انجینیر بن کر خود کفیل ہو چکے ہوں وہ اپنی  زاتی ضرورتوں کا بوجھ بھی  بہت مشکل سے پورا کر پاتا تھا..ایسی تیز رفتاری سے  چلنے کی جنونی عمر میں   زندگی کی نھنھی  کامیابیاں اسے ناکامیوں کی یی اک صورت دکھتی تھیں اور وہ اپنی حالت بہتر سے بہتر بنانے   کے خواب دیکھتا تھا. اسکے خوابوں کی اڑان زندگی کے حقایق سے بہت اونچی تھی  اور یہ بھی سچ تھاکہ کامیابی کے پلڑے میں شوق اور جنون جتنا بھی انمول ہو کمای کےبغیر بےمول ہی رہتا ہے.

                                                        پایلو کی زندگی میں صرف کیریر کی ناکامیاں ہی نہ تھی. لڑکیوں میں مقبول رہنے کی خواہش اسکی بچپن کی بدصورتیوں کی وجہ سے خود کو منوانے  کی ایک  لاشعوری کوشش تھی یا ماں کے اندیشوں کو صحیح یا غلط ثابت کرنے کی ایک شعوری کوشش  لیکن اسکے مطالعہ کا دیا ہوا اعتماد اسے لڑکیوں میں مقبول رکھنے لگا تھا اگرچہ انکے  سمجھدار والدین اکثر  اس بدصورت اور ناکام ایکٹر کو پسند نہ کرتے تھے..نوجوانی کے معاملات اور گرل فرینڈز کے دییے ہوے دکھ بھی اسکی زندگی کی بڑی اداسیوں اور غم کی ایک وجہ تھے.

                                      ایسے ہی ناکامی کے ایک جزباتی  اور کمزور لمحے میں  پایلو افسردگی اورمایوسی سے  الجھ کر  اپنے کمرے میں توڑ پھوڑ کربیٹھتا ہے اور  زبردستی پکڑ کر تیسری بار نفسیاتی مریضوں کے ہسپتال پہنچا دیا جاتا ہے. ڈاکٹر کے پاس کیے گیے اسکے پہلے معاینے سے  اسکی فایل میں لکھی گیی یہ رپورٹ    ” شیزوفرینیا کی گنجایش ہے”    اسکی ہر حرکت پر بار بار گھیر کر اسایلم کے دروازے پر لے آتی ہے.  جہاں سے پاولو کو ایک بار پھر فرار ہو کر ہی واپس اپنی دنیا میں آنا پڑتا ہے.بلاخر قسمت کی ایک مہربانی  سے  چوتھی بار اسکے  خراب روییے  اور غصے  کا پالا ایک نیے شفیق  ڈاکٹر سےپڑتا ہے جو پایلو کو ہسپتال داخل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا . اور یوں آخرکار   نفسیاتی ہسپتال کی راہداریوں سے مستقل  رہای اسکا مقدر  بنتی  ہے اگرچہ نوجوانی کے فوبیاز کی وجہ سے نفسیاتی ڈاکٹرز سے اسکا تعلق  ساری عمر چلتا رہا

                                                       1969 میں اپنی گرل فرینڈ ویراVera کے ساتھ مل کے کر  پایلو نے اپنا پہلا بالغوں کے لیے ڈرامہ. O APOCALYPSE. ایک ڈرامہ نگار اور ڈایریکٹر کے طور پر پیش کیا جو نہ صرف انکا سب خرچہ ڈبو بیٹھا  بلکہ   اگلے دن کی اخباروں پر  یہ ڈرامہ سیاہی بنکر اترا.ہر جگہ تنقید کا  نشانہ بننے والا یہ ڈرامہ کچھ ہی دنوں میں سٹیج سے اتر کر پایلو اور ویرا  کونہ صرف  خاصے مالی نقصان میں چھوڑ گیا   بلکہ ایک ایسی نیاز بھی دے گیا جو آنے والی کامیاب زندگی میں بھی وفا نبھانے والی تھی .  یہ تھی نقاد کی سنگدل اور ظالمانہ تنقید جس نے اسکا پیچھا کامیابی کی انتہاوں پر بھی نہ چھوڑا.ویرا کے مجبور کرنے پر پاؤلو لاء کے لیے داخلہ لیتا ہے مگر اپنی متزلزل عادت کی بنا پر یہ سفر بھی رستے میں ہی چھوڑ جاتا ہے.

             غیر مناسب حالات، والدین کی  حوصلہ شکنی اور مدوجزر کا  شکار زندگی کسی بھی شخص کو گھیر کرمنشیات کے دروازے پر لا سکتی ہے.ناکامی قسمت سے لڑتا بھڑتا پایلو بھی  اس زہر تک جا پہنچتا ہے . منشیات کے دھویں میں غم دوراں اور غم جاناں بھلانے کی خواہش بھی اس سے اسکے  لکھاری بننے کے خواب جدا نہ کر سکی اور مشہور مصنف بننے  کا شوقین پاولو نشہ  کے کرشمے تک درج کیے جاتا ہے.منشیات اسکے الجھے دماغ کے لیے تریاق ثابت ہوتی ہے اور وہ عام حالات سے بڑھ کر لکھنے لکھانے پر توجہ دیتا ہے.1970 میں  سٹیج کے لیے کچھ ڈرامے لکھتا اور پروڈیوس کرتا ہے.تھیٹر ورکشاپس میں حصہ لیتا ہے ، شاعری اور لٹریچر کے مقابلوں میں طبع آزمائی کرتا ہے.ایک ڈرامہ .A Revolta da chibata.. نے خاصی کامیابی بھی حاصل کی.اخباروں اور رسالوں میں پایلو کا اچھے الفاظ میں  تزکرہ آیا  اور برازیل کے بڑے بڑے نقادوں نے اس ڈرامے کو سراہا .

.1973 کے آخر میں اسکی زندگی میں ایک اور بڑی اہم اور نمایا ں تبدیلی آی جب اسکی پہلی کتاب منظر عام پر آی.نغمہ نگاری سے ملنے والی بے تحاشا دولت اور اسکی پہلی کتاب کی ناکامی جسکی تین ہزار میں سے صرف پانچ سو کاپیاں بک سکیں. بھی اسکے سالوں سے پلکوں پہ رکے خواب کو مدھم نہ کر سکے.اسکی ڈایری میں اوپر نیچے لکھے چھوٹے بڑے فقرے اسکے نہ ٹوٹنے والے خواب کی گواہی دیتے تھےکہ  ایک دن اسے کچھ ایسا لکھنا ہے جو اسے  ” شہرہ آفاق” بنا دے.

                                              ”  میں ایک ایسا جنگجو ہوں
جو میداں میں اپنے داخلے کا منتظر ہے.اور میرا
مقدر کامیابی ہے اور میری بہترین صلاحیت میرا
اسکے لیے لڑنا ہے.”

یہ وہ زمانہ تھا جب ہپی کلچر کے لمبے  بالوں ملگجے کپڑوں، راک اور منشیات نے عالمی پیمانے پر  ماحول کو کافی حد تک جکڑ لیا تھا تو پایلو کیسے اس ماڈرن تحریک سے پیچھے رہتا.ہپی کلچر میں لت پت ہو کر منشیات کے نشے میں ڈوب کر بھی مشہور مصنف بننے کی ضدی خواہش نے پایلو کو زندگی سے جوڑے رکھا تھا.وہ اکثر خواب دیکھتا کہ  خود کو انکل جوزےjose  کے دوردراز کے اپارٹمنٹ کے  کسی تنہا خاموش کمرے میں بند کرلے اور خود کو
” لکھنے کے لیے،بہت سارا
لکھنے   کے لیے اور ہر شے لکھنے کے لیے!”
وقف کر دے.مگر اسکی مضطرب طبیعت لکھنا ٹال کر دوستوں کےساتھ سیاحت پر لے گیی.
سیاحت سے فراغت کے بعد کچھ عرصہ مختلف چھوٹے اور گھٹیا پیمانے کی اخباروں کے لیے بھی کا م کیا .انہی دنوں میں پراسرار علوم اور  جادو میں اسکی دلچسپی بڑھی. معاشی حالات اور مصنف بننے کی خواہش تو اس دور  میں ہزار طرح کی چھوٹی چھوٹی  اخبار رسالوں کی نوکریاں، شیطانی کمالات اور پراسرار علوم  پر ڈھیروں اپنے اور جعلی ناموں سے لکھنے کے باوجود پوری نہ ہو سکی. مگر اس  دور میں انہی پراسرار علوم کی وجہ سے  پایلو کو Raul.  کی صورت میں  ایک ایسا ہمراہی ضرور ملا جسکا ساتھ اسکی زندگی کو پوری طرح بدلنے والا تھا.رال ،ایک میوزیشن، سنگر بننے کی خواہش کے ساتھ اپنی ملازمت چھوڑ کر نکلتا ہے اور پایلو کو ساتھ ملنے کی دعوت دیتا ہے. پایلو کے لکھے گیت کے بولوں کے ساتھ جلد ہی ان  کے گیت برازیل کی گلیوں میں مقبول عام ہونے لگتے ہیں  اور اسکے بعد پاولو کے معاشی حالات یکسر بدل جاتے ہیں، قسمت کی دیوی انکے بینک  اکاونٹ کو نوٹوں سے لبالب بھر دیتی ہے.

“چھبیس سال کی عمر میں، میں،
پایلو کایلو،اپنے جرایم کی قیمت ادا کرنا بند کرتا ہوں.
صرف چھبیس سال کی عمر میں میں اس بات سے مکمل
آگاہ ہو چکا ہوں. اب مجھے میرا انعام دو!
مجھے اپنا ادھار چاہیے
اور میرا ادھار وہی ہو گا جو میں چاہتا ہوں
اور مجھے دولت  چاہیے
مجھے طاقت چاہیے
مجھے شہرت ابدیت اور   محبت چاہیے۔. ”

                          جواں عمری کی ناکامیوں اور مایوسیوں نے نہ صرف پاؤلو کو منشیات کی طرف راغب کیا بلکہ .چرچ اور عیسایت سے متنفر کرنے میں بھی کوی کسر  نہ چھوڑی .اگر کوی رب ہوتا تو اسکے جنوں کو سراہتا اسکی کوششوں کو نوازتا! . رب کے وجود سے انکار نے شیطانی علوم اور ایجنسیوں کی طرف راغب کیا جن میں ایک عالمی تنظیم. OTO.  کے ساتھ اپنی  روح شیطان کو کامیابی کے بدلے میں بیچنے کا باقاعدہ ماہعدہ کیا.یہی مصنف بننے کی ایک آخری امید تھی جو اسکو دکھای دی تھی، اپنے خوابوں کے شجر کو سینچنے کے لیے اسنے اپنی روح ہمیشہ ہمیشہ کے لیے شیطانی قوتوں اور جہنم کی آگ کے نام کر دی.مگر بدی کے سنگ چلنے کی یہ جرات زیادہ دن نہ چل سکی اور جب ایک صبح اسکے کمرے میں جنازہ گاہ کی ہزاروں موم بتیوں کی خوشبو اور دھواں پھیلنے لگا کمرے کا فرش اچھل کر اسکی طرف لپکنے لگا اور کمرے کی دیواریں لرزنے لگیں ، ہر طرف ٹوٹ پھوٹ کا شور اور کہرام بپا ہو گیا پایلو کے لیے قیامت کی رونمائی ثابت ہوی.طویل دن اس طوفانی اور شیطانی آمد کی ہولناک میزبانی کرنے کے بعد پاؤلو کو آخر بایبل میں پناہ ملی اور باتھ روم میں پانی کے فوارے کے نیچے بیٹھ کر پاؤلو اور گسا بائبل کی لائنیں تب تک ورد   کرتے رہے جب تک یہ شیطانی رقص تھم نہ گیا.ایک لمحہ تھا، دن تھا،  سال یا صدیاں!  اسکی تمیز کی صلاحیت کھو گیی. جب سب طوفان تھم جانے کے بعد وہ شاور سے نکلے تو انکی انگلی کی پوریں تک نیلی ہو چکی تھیں۔. کمرہ صیح سلامت اپنی جگہ موجود تھا.یہ جہنم صرف انکے وجود پر کھلی تھی.پاولو اور گسا نے وہ شیطانی معایدہ پھاڑا اور اپنی اپارٹمنٹ سے بھاگ کر پیڈرو اور لیگیا کے پاس پناہ لی.مگر اسکے چند دن بعد ایک اور عزاب انکا منتظر تھا جسکی کڑیاں پاؤلو کے خیال میں اس واقعی سے جڑی تھیں.

دوسرا واقعہ برازیل میں فوجی حکومت کے ہاتھوں پاولو کے  گانوں میں کچھ باغی مواد استعمال کرنے کے شبہ میں اسکی گرفتاری  خوف اور وحشت میں اس سے کی گنا زیادہ نکلا  .جیل میں گزارے چند دن اور وہاں سے رہای کے وقت   کانپتی ٹانگوں اور ہاتھوں کے ساتھ  اغوا ہوتے ہوے،   لاپتہ  افراد میں شمولیت کے وقت وہ جانتا نہ تھا کہ اسکے آگے اندھیری کوٹھریوں میں عمر قید ہو گی یا سیدھا پھانسی کے  گھاٹ پر لے جایا جاے گا  .پاولو   اور  اسکی گرل فرینڈ  گیسا.Gisa. کی یہ قید چند دن میں ختم تو ہو گیی مگر پایلو کے لے بہت برا اور زوردارجھٹکا ثابت ہوی جسکے نفسیاتی اثرات  بہت لمبے عرصے تک رہے .یہی آزمایش اسکے گسا سے تعلق ختم ہونے کا باعث بنی.گسا کے  زندگی سے نکل جانے کے بعدخوف و ہراس کا شکار  پاؤلو  اپنے اپارٹمنٹ میں اکیلا نہ رہ سکا بلکہ والدین کے گھر بھی کیی دن تک دستک سے ڈر کر کمروں میں چھپتا رہا. اسقدر خوف و ہراس کے باوجود .آفرین ہے پایلو کے حوصلے پر کہ پاگل خانے اور منشیات کے تجربات رقم کرنے والے میں اگرچہ  اتنا دم خم نہ بچا تھا کہ اسکی روداد ہی لکھ سکتا مگر ٹوٹ کر بھی اسکا حوصلہ چٹان کا ہی تھا.

                                 “یہ زندگی کے بدترین واقعات ميں سے
ایک تھا.ایک بار پھر ناانصافی سے قید…لیکن جلد میرا
یقین میرے خوف پر حاوی ہو جاے گا اور میری محبت
میری نفرت سے جیت جاے گی.”

                                                 فوجی  چنگل سے نکلتے یی پال اور رال نے
خودساختہ ملک بدری اختیارکی  جو زیادہ دیر نہ چل سکی .اس  عرصے میں پاولو  نے  اپنے  شیطانی معاہدے توڑ کر دوبارہ سے عیسایت کی طرف واپس رجوع کیا.

                                                       برازیل واپسی کے ساتھ ہی اسکے سارے خوف اور اندیشے دوبارہ سے جاگنے لگے. اپنے اپارٹمنٹ میں اکیلا رہنا  اسکے لیے عزاب ہو کر رہ گیا. خوفناک تنہایوں سے ڈر کر   اس نے فورا شادی کا فیصلہ کیا.پاؤلو کے  کمزور دل کو ایک فوری سہارے اور جزباتی مدد کی ضرورت تھی.مگر اسکی رنگین مزاج طبعیت اسکی ایک منگنی کی ناکامی کا باعث بننی. کیسا Cissa سے پورے رسم و رواج اور اہتمام کے ساتھ آخر اسکی شادی ہو گیی.اسی عرصے میں رال اور کیی  دوسرے گلوکاروں کے لیے لکھے اسکے گا نے مقبول عام ہوے  اور کیی چھوٹے بڑے پراجیکٹس پر کام کے ساتھ ایک مقبول ریکارڈنگ کمپنی میں افسرانہ عہدہ بھی حاصل کیا جس سے   اسکی دولت میں روز افزوں اضافہ ہوتا رہا.پیسے اور پراپرٹی کی اس ریل پیل کے درمیان کچھ تھا جو ادھورا تھا!  ایک سپنا جو ابھی تک سفر میں تھا ایک شہرہ آفاق لکھار ی بننے کا.اور اب پایلو یہ بات سمجھنے لگا تھا کہ صرف تین ہزار کاپیاں چھاپنے والے ملک برازیل میں لکھ کر اور  چَھپ کر کبھی بھی وہ شہرت اور مقبولیت نہیں پا سکتا جو اسکا خواب تھا.

“یہاں کوی مستقبل نہیں ہے
اگر مجھے لکھاری بننا ہے تو مجھے یہاں سے نکلنا
ہی ہو گا.”

                                         جلد ہی پایلو اور کیسیا لندن منتقل ہو گئے. روپے پیسے کی بہتات نے  لندن جانا اور  رہناآسان کر دیا تھا.لندن  گزارے ایک سال نے  پاؤلو کے   لکھنے لکھانے کے باب  میں صرف مایوسیوں اور ناکامیوں کا  اضافہ  ہوا.  کچھ چھوٹے چھوٹی کوشیش ناکام ٹھریں اور بڑا کام کرنے کے لیے وہ خود کو راضی نہ کر سکا..بچپن سے دیکھا خواب لیے وہ لندن میں بیٹھا تھا اور سال گزر جانے کے بعد بھی کچھ ایسا نہ لکھ سکا تھا نہ چھپانے میں کامیاب ہو سکا تھا  جو اسکے لیے ایک مصنف کے طور پر بلندیوں کے در وا کر دے.

                           سال بھرلندن  کی خاک چھاننے کے بعد پاؤلو اور کِسا برازیل واپس آ گیے.اور اسی ناکام جگہ پر  انکی سمجھوتوں سے بندھی شادی بھی آخرکار ناکامی سے دوچار ہوی. برازیل واپسی کے بعد پاؤلو پھر سےاپنے ادھورے سپنے کے لیے  افسردگی اور مایوسی کے عزاب سے دوچار ہوتا ہے اور  دولت اور شہرت بھی اسکے اس خواب کا نعم البدل ثابت نہیں ہو پاتی.ایسے وقت میں ایک راستہ اسکے سامنے کھلا ہے اور وہ تھا جنس اور محبت کی سستے انداز کی تحریر جسکی مقبولیت کے امکان خاصے روشن تھے.لیکن وہ ایسا کیوں کرتا؟ کیا صرف شہرت اور پیسے کے لیے جو اسکے پاس نغمہ نگاری کی وجہ سے  خاصا موجود تھا.تو پھر اس طرح کا ادب اسکے کسی کام کا  نہ تھا.

.                                                       کِسا سے علیدگی بھی پاؤلو کے لیے زہنی دباو کا باعث بنی. جلد ہی پاولو کو کرس.Chris  کی شکل میں متبادل مل گیا. آزاد خیال گھرانے سے تعلق رکھنے والی کرسٹیناChristina  مستقبل میں  ایک بہترین ہمسفر  اور مددگار ثابت ہوی.اگرچہ چینی انداز میں سکے پھینک کر  فیصلے کرنے والا اچھے اور برے شگون پر ایمان رکھنے والا پاؤلو  ایک زندگی کے بارے میں بڑی سیدھی اور پریکٹکل سوچ رکھنے والی کرس کے لیے اتنا آسان ہمسفر ثابت نہ ہو رہا تھا.  مگر آہستہ آہستہ انکے اتفاقات  اختالافات پر قابو پانے لگے اور انکا درمیانی تعلق مضبوطی سے بندھتا چلا گیا. اور اسکی وجہ دونوں کی  مشترکہ کوشش اور محبت تھی.

.. 1981 میں کرس کے مشورے پر ” زندگی کے صحیح معانی ” ڈھونڈنے کے لیے وہ 17900 $ US  لیے بغیر کسی پیشگی منصوبہ بندی کے وسطی یورپ کی سیاحت کو نکلتے ہیں۔
پاؤلو کی پہلی شہرت پانے والی کتاب 1987 میں لکھی گیی مگر  23 فروری 1982 کو چھتیس سال کی عمر میں مصنف پاؤلو کاہلو کا جنم اسی.سفر کے دوران جرمنی میں ڈاچو کنسنٹریشن کیمپ.Dachau concentration camp   کے دورے کے دورا ن ہوا.برازیل.کی ڈکٹیٹرشپ کے چنگل سے بچ جانے والا  کنسنٹریشن کیمپ کے دروازے پر پاولو  کھڑا ہو کر رو پڑا.نازی حکومت  کے ہاتھوں30،000  لوگوں کی قید ،موت اور جلاے جانے کی زندہ گواہی نے اسکا  انسان اور دنیا  پر سے ایمان  اٹھا دیا.  لاشوں کے ڈھیر وں کو تصور کی آنکھ سے دیکھتے   اسے اندازہ ہوا کہ  طاقت کی لڑای اور نشے میں مارے اور جلاے جانے والے ہزاروں لوگ بے نام و نشان زرے  نہ تھے بلکہ انسانیت کی زندہ شکلیں تھے جنکو جلا دیا گیا..یہیں اسے اپنا پیشوا  جے ملا  جس سے اسکو روحانی رہنمائی ملی.یہ سفر پاو لو کی زندگی کو بدل دینے کا باعث بنا.

                                        برازیل واپسی پر  1982 میں پاؤلو اور کرس نے اپنا  پبلشنگ  ہاوس شوگن. Shogun  قایم کیا جس نے  نے خاصی تر قی کی.1986 میں اپنے روحانی پیشوا جے کی صلاح اور کرس کے مجبور کرنے پر پاولواور کرس سینٹیاگو کے رستہ  پر نکلےجو  ایک روحانی  زیارت مانا جاتا ہے. یہی سفر اسکی پہلی کتاب  the pilgrimage کا موضوع بنا.پاؤلو نے جانا کہ  ہمیشہ کل پر ٹالتے رہنے سے وہ کبھی بھی لکھاری نہیں بن سکے گا.
” اگر مصنف بننا ہے تو کتاب لکھو!”

               3 مارچ 1987 کو پاولو اپناٹایپ رایٹر لے کرلکھ دینے کے  عہد کے ساتھ کمرے میں خود کو بند کرتا ہے..اکیس دن کی انتھک محنت کے دوران پاولو نے بغیر کسی بنیادی ضرورت کے اپنی جگہ نہ چھوڑی اور اکیسویں دن اسکے ہاتھ میں دو سو الفاظ کا. Pilgrimage  کا مسودہ  تیار تھا. Ernest Mandarino.. نامی پبلشر نے اسے  چھاپا .عام لکھاریوں سے ہٹ کر پاولو نے خود اس  کتاب کی بے تحاشا پبلسٹی کی ،چرچ،  پارک اور  تھیٹرز میں اسکے پمفلٹ بانٹے گیے.پاولو کے پاس پیسے کی کمی نہ تھی اس نے کمیشن پر کچھ نوجوان بھی پبلسٹی کے لیے مقرر  کیے. جلد ہی اسکے راستے کی رکاوٹیں ہٹنے لگیں اور صحافیوں اور لکھاریوں کی فون بکس میں اسکا نمبر محفوظ ہونے  لگا. ایک مصنف کے طور پر  خبریں لگنے سے پاولو کو وہ سکون ملا جو راک سٹار کے ساتھ ملنے والی شہرت اور پیسہ بھی نہ دے سکا تھا. دو سال کے عرصے میں دوسرا ناول  Alchamist   کے دو سو صفحات پاؤلو نے دو ہفتوں میں لکھے.
یہی وہ وقت تھا جب پاؤلو کی زندگی کے سب خواب پورے ہو چکے تھے وہ خوشی جس سے محرومی، اسکے چین آڑاے رکھتی تھی اسکے دامن میں آ گیی. اندھیری راتوں کا اختیتام اور چمکتے سورج طلوع ہو چکے تھے. اسکے باوجود کہ نقادوں نے پاؤلو کا ناطقہ بند کیے رکھا مگر کالے ترین دن بھی پاؤلو کا رستہ نہ روک سکے تھے تو یہ تو پھر بھی دن  کے اجالے تھے.

1988 میں الکیمسٹ کی پبلشنگ کے وقت برازیل جیسے تین ہزار کاپیاں چھاپنے والے ملک میں . .The Pilgrimage . کی اشاعت 40،000 کاپیوں سے بڑھ چکی تھی.ا ور برازیل کی اخباروں میں مسلسل انیس ہفتوں تک بیسٹ سیلر پر رہ چکی تھی الکیمسٹ جب ابھری تو ایسی کہ فروخت کے سب ریکارڈ توڑ گیی.ایک ہی وقت میں پاولو کی دونوں کتابیں بیسٹ سیلر میں پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے لگیں.اسکے بعد پاولو کی شہرت کا سورج پوری دنیا میں   ہر نیی کتاب  کے ساتھ پہلے سے زیادہ چمکا ، کبھی مدہم نہیں ہوا.یہی وہ  طویل اور کٹھن سفر تھا جس نے پاؤلو کو  یہ وجدان دیا.

                                          “. کوی بھی خواب سچ تب بنتا ہے جب
اسکی طرف قدم اٹھایا جاے سو جب بھی تم کوی  خواب
دیکھو پوری کاینات اس میں تمھاری کامیابی کےلیے سازش
کرنے لگتی ہے لیکن اس کے لیے تمھیں  قدم اٹھانا پڑے گا.اور
پھر تمھاری رہنمائی کی جاتی ہے..”

— photo courtesy:alifkitab.com

Published in 2017,alifkitab.com

Mama Fu’S,Asian House,Dalma Mall,Abudhabi

Review. 🔖🔖📌

an Asian house!

🕴🍽🕴 Foods and Services:

  • A yummy Asian cuisine( https://en.m.wikipedia.org/wiki/Asian_cuisine) with superb taste of  the best of Chinese, Japanese, Thai, Korean and Vietnamese flavors
  • The vegetable rolls are light and crunchywith a delish sauce.
  • One of best Asian tastes in town
  • Thai cashews stir fry chicken noodles were amazing.
  •  🍲🍲“Broccoli fried rice“was very good.
  • 🍝 If you are a spice lover,”singapore noddles” are for you, for me it was. 😢😢😢.
  • Honey glazed chicken rice are amazing,A must try!
  • Iced mint ginger green tea was  refreshing and mouthwatering.

Review of Leopold’s of London, Makani  Mall

Services:🍽🍽🍽

  • Good

Location:📍📍📍

  • Dalma mall, AbuDhabi
  • Festival city,Dubai

Price:💸💸💸

200 aed for two

Website & menu ( order online)

http://mamafus.ae/

دیس پردیس

د بئی میں رہتے بہت سال ہو گئے فاطمہ کو یہی کوئی ایک ، دو سال کے بعد ماں باپ سے ملنے فیصل آباد کے ایک چھوٹے سے قصبے جانا ہوتا.کچھ دن ماں باپ کی محبت میں وہاں گزر جاتے مگرپاؤں کے تلوے جل جاتے، چہرے کا کھلتا گلابی رنگ جھلس جاتا اور مسلسل پسینہ بہتے رہنے سے چیرے کے مسام کھلنے لگتے ، ٹائٹ سکن ڈھلکنے لگتی .د بئی کی صاف ستھری گلیوں میں اے سی کی نم زدہ ہوا میں رہنے والے اسکے گورے گورے بچے فیصل آباد کی پسماندہ گلیوں میں میلے میلے ہونے لگتے .د بئی کے مہنگے مالز سے خریدا گیا برانڈڈ سازوسامان اپنی صورت گنوانے لگتا. نازک نفیس کپڑے رگڑیں کھا کھا کر دو دن میں پھٹنے لگتے. نفیس اور مضبوط کوالٹی کے مہنگے جوتے چند دنوں میں گھس جاتے.کونے کھدرے نکالنے لگتے. اب مہنگی مہنگی برانڑز یورپ اور امریکہ نے اس لیے تو نہیں بنائی کہ آپ انہیں گوجرہ جا کر پہن لیں.اور انکو پہن کر چھوٹی سی سوز و کی میں دس لوگوں کے ساتھ گھس جائیں.گھر کے کچے پکے گیلے آنگن میں گندے سے فٹبال کے ساتھ کھیلیں.گھروں کی چھتوں پر پھینکے کاٹھ کبھاڑ کے بیچ میں پکڑن پکڑائی، لکن میٹی کھیلیں یا پرانی ٹوٹی ہوئی سائیکل چلا ئیں! چہ چہ چ

یہاں پر پہننے کے لیے تو کھدر کے موٹے کپڑے ہی ہونے چاہییے جو جتنے بھی گندے ہو جائیں انکو مشین میں ڈال کر چلا دو اور پھر سے پہن لو. فاطمہ درہموں سے خریدی چیزوں کو دیکھ دیکھ کڑھتی .ہاے! کتنے مہنگے کپڑے لیے تھے.سوچا تھا پورا سال نکل جاے گا واپس آ کر.مگر وہ کپڑے چند ہی دنوں میں اپنا رنگ روپ بگاڑ بیٹھے تھے اوپر سے دو نمبر سرف اور صابن رہی سہی کسر بھی پوری کر دیتے.اینٹوں اور مٹی کے کمالات سے جو رنگ روپ بچ جاتا وہ بلیچ سے بھرے واشنگ پاوڈر کی نظر ہو جاتا.
“اب درختوں پر تو درہم لگتے نہیں کہ تو ڑے جا ؤ اور خریدے جاؤ ”
.کیسے کیسے جان مار کر تو اتنے مہنگے کپڑے لیے تھے کہ چلو پاکستان میں شوشا بھی ہو جائے گی کہ ہم د بئی سے آئے ہیں اور پورے سال کی شاپنگ بھی. اب یہ تھوڑی سوچا تھا کہ ہزاروں درہموں کے کپڑے چند دنوں میں شکلیں بگاڑ لیں گے

دل ہی دل میں افسوس ہوتا کہ کاش واشنگ پاوڈر اور فیبرک سوفنر بھی ساتھ لےکے آتے.بچوں کا دودھ پانی اور ڈبہ بند کھانا تو پہلے ہی کارٹن بھر کر آ جاتا تھا. کہ نہ آنے کی صورت میں مہینہ بھر بچوں کا پیٹ ہی بہتا رہتا تھا. نہ جانے کیا ملاتے ہیں دودھ میں کہ بچے دودھ کو منہ بھی نہ لگائیں.خالی پانی پیتے پھر بھی مہینہ بھرپیٹ خراب رہتا. گلے بجتے رہتے غرض یہ کہ سب کی سب پینڑوانہ اور غریبانہ بیماریاں لاحق ہو جاتیں.اب اور کیا کرتی فاطمہ بھی، سامان میں جو کچھ بھی لے آتی اب اپنا گھر تو تھیلے میں ڈال کر نہں لا سکتی تھی نہ اپنی یہ لمبی پراڈو میں بیٹھ کر گوجرہ پہنچ سکتی تھی ورنہ بس چلتا تو تھوڑا سا د بئی جیب میں ڈال کر لے ہی آتی.اب گوجرہ آ کر اماں کے اور ساس کے گھر رہنا پڑتا،چارپایوں پر بیٹھنا!، پرانے پلاسٹک کے برتنوں میں کھانا، مہینہ بھر بچھی رہنے والی چادریں،سال ہا سال لٹکے رہنے والے پردے……گندے جھاڑو، گھر کے ہر کونے میں چھپی میلی پوچیاں، ۔بیماریوں کے گھر،

صحن میں چارپایوں کے گرد دن میں مکھیاں ہی مکھیاں اور رات میں مچھر ہی مچھر! دو دنوں میں بچوں اور بڑوں سب کے بازومنہ ہاتھ چھلنی ہو گیےمچھروں کے کاٹنے سے.اسکا چھوٹا بچہ مکھیوں کے پیچھے چلاتا پھرتا کہ یہ نہ جانے کونسی مخلوق ہے جو پیچھے پڑی ہوئی ہے.مکھیاں صرف اس بچے کو نظر آتیں تھیں یا اسکے ماں باپ کو.باقی سب کے لیے تو وہ گھر کے افراد کی مانند تھیں.ساتھ پلیٹ میں بیٹھی کھانا کھا رہی ہیں یا بستر پر بیٹھی سو رہی ہیں.زیادہ سے زیادہ یہ ہوا کہ منہ اور ہاتھ کو زرا سا جھٹک دیا یا لقمہ زرا سا بچا لیا ورنہ پلیٹیں برتن کپڑے ہر چیز انکی جاگیر میں تھی. نہ کسی حکومت کا وجود جو کہ سیزن ٹو سیزن سپرے کروا دے نہ محلے والوں کو شعور کہ کپڑے لتے سے کچھ پیسے بچا کر مل جل کر ہی اپنے علاقے میں کوی دوا چھڑکوا لیں اور نہیں تو دو چار بوتلیں لا کر اپنے گھر بار میں ہی چھڑکاؤ کروا لیں. گھر والوں کو صلاح دی تو پتا چلا کہ جناب سپرے سے مکھیاں اور بڑھ جاتی ہیں یعنی سپرے بھی ملاوٹ زدہ

.جہاں بڑی بڑی مصیبتیں سر پر کھڑی ہوں وہاں مکھیوں کے منہ کون لگے.گھڑی گھڑی کی لوڈ شیڈنگ، ابھی آنکھیں بند ہونے لگتیں تو بجلی جانے کاٹایم ہو جاتا. جب تک گھر میں موجود جنریٹر چلتا تب تک بچے بھی آٹھ کر بیٹھ جاتے.بڑھتی ہوی گرمی کے ساتھ لوڈشیڈنگ…ایک مہینہ تھا کہ سا سال جتنا لمبا ہوگیا تھا.پر پھر بھی دل میں ایک صبر سا تھا کہ چلو کوی نہیں ایک ماہ ہی ہے ناں پھر تو واپس اپنے گھر چلے جانا ہے.ساتھ ساتھ دل میں شکر کرتے رہنا کہ اللہ جی تیرا شکر ہے کہ ہم یہاں نہیں رہتے.بہترین ماحول، بہترین سہولتیں، نہ بجلی کا مسئلہ نہ پانی کا.نہ ملاوٹ زدہ کھانے نہ گھٹیا مال اسباب.ٹھیک ہے پیسے بہت لگتے ہیں دوبیی رہنے کے ،پر زندگیوں میں سکون تو ہے.دل کے سکوں کے ساتھ ساتھ گردن بھی تھوڑا اکڑ جاتی کہ ہم تو بہترین جگہ رہتے ہیں شکر ہے کہ یہ گندہ ماحول ہمارا نہیں.
.گزرتے سالوں نے اتنا وقار تو دے دیا تھا کہ اب ہر بات پر شکایتی فقرہ نہ نکلتا تھا پر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ فاطمہ چھوٹی سے گاڑی میں دس لوگوں کے ساتھ پھنس کر گھٹنے سینے سے لگا کر بیٹھے اور اپنے مسلے ہوے کپڑوں کو دیکھ کر پراڈو کی بڑی ساری سیٹ یاد نہ کرے کہ جس پر اسکے بچے بھی کھل کر پھیل کر اپنی اپنی چایلڈ سیٹ پر بیٹھ کر سارا رستہ ٹیب سے کھیلتے رہتے تھے.بچوں کے ہاتھ اور چہروں پر کالک پھرتی رہے اور اسکو ٹایلوں سے چمکتے ہوے فرش اور بہتے پسینے میں ہر وقت چلنے والے اے سی کی ٹھنڈک کی کمی محسوس نہ ہو.اب اس پر تو اسکا اختیار ہی نہ تھا.ایک دن فیصل آباد کے ایک بڑے سارے ہوٹل میں سب کی دعوت کی.خوب مزے لے لے کر کھانا کھایا اور خوب خوش ہوئے کہ اس کلاس کا ہوٹل د بئی میں تو اتنے لوگوں کے لیے ہزاروں درہم کا پڑتا.اگلے دن کی اخبار میں ایک آرٹیکل دیکھا جسکے مطابق سارے ملک کے بڑے ہوٹلوں میں گدھے اور کتے کا گوشت مل رہا ہے.تو الٹیاں آنے لگیں.اب کدھر کو جائیں.کھایا ہوا تو نہ جانے کہاں سے کدھر پہنچ گیا اب الٹی کا بھی کیا فایدہ ہو.آیندہ کے لیے توبہ کی کہ اس سے تو اپنے د بئی کے سستے ہوٹل ہی اچھے ہیں چلو چھوٹے ہوٹل میں کھانا کھا لیں پر حلال اور ستھرا تو ہو گا ناں.وہاں کسی کی کیا مجال کہ دو نمبری کر جائیں.واہ اللہ تیری قدرت! کیا مقدر دیا تو نے.کہاں سے نکال کر کہاں لے گیا.

کبھی کبھی احساس ہوتا کہ یار ادھر سے ہی تو گیے تھے.بھلے چنگے خوش باش گیے تھے اب کیا ہو گیا ہے.کچھ یہاں اچھا ہی نہیں لگتا.اب تو پاکستان میں ان گلی محلوں میں گزارا بہت مشکل ہے اب ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ میں فرق نظر آنے لگا ہے.سفید سفید ہی رکھتا ہے اور کالے کا رنگ اصلی کالا.اب چمکدار گھروں میں رہنے کی عادت ہو گئی ہے تو پرانے پرانے گھروں کو پسند کرنے کا حوصلہ نہیں رہا.یہ تبدیلیاں.وقت کے ساتھ ساتھ خود بخود دماغوں اور دلوں میں آتی چلے گئی تھیں.اور پھر فرق بھی کوئی چھوٹا نہ تھا کہ مبہم ہوتا.کہاں فیصل آباد کا گوجرہ اور کہاں د بئی کہ جہاں امریکہ اور برطانیہ کے لوگ بھی بھاگے آتے ہیں.نیا نکور، شیشے کی طرح چمکتا ہوا ریت کے ٹیلوں پر ایسے کھڑا کہ جیسے ریت پر پہرا بٹھا رکھا ہو.عمارتیں ہیں کہ چمچما رہی ہیں، سڑکیں ہیں کے سمندر ہیں.گرمی اتنی کہ کام کرنے والے مزدور مکھیوں کی طرح عمارتوں سے گرتے ہیں.اور گھروں کے اندر اے سی کا نم زدہ موسم سرما سارا سال ختم نہیں ہوتا.انسانوں کا بنایا ہوا صحیح معانوں میں ایک عجوبہ ہے د بئی. ساری دنیا کو بتاتا ہے کہ دیکھو انسان نہ موسموں کا محتاج ہے نہ جنگلوں کا نہ مٹی کا.لگانے کے لیے پیسہ ہو کروانے والے لوگ ہوں تو ریت پر محل ایسے پختہ کھڑے ہوتے ہیں کہ صحرا کی آندھیاں بھی انکو ہلا نہ سکیں.پیسہ تو شاید پاکستان کے پاس ان سے زیادہ ہی ہو پر کرنے اور کروانے والوں کا ایسا قحط پڑا ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا.چاہے جتنی بھی نمازیں پڑھ لو ، آرھتیاں چڑھا لو،نحوست ہے کہ ہٹتی ہی نہیں.رگڑ رگڑ کر چہرہ چھیل لو پر اعمال کی سیاہی ایسی پکی کہ اترتی ہی نہیںں.

گن گن کر دن گزارے! بڑی مشکل سے ایک مہینہ کٹا او ر فاطمہ نے سکوں کا سانس لیا.بد رنگ کپڑے لپیٹے،بچوں کو رگڑیں کھائے بوٹ پہنائے اور جو جہیز کی پیٹیوں سے نکالے تکیے ،بستر ،برتن تھے بڑے بڑے کارٹنز میں پیک کر لیے. گنتی کی ،تو پانچ لوگوں کی ٹکٹوں پر کوی بارہ تو صرف بیگ ہی تھے.بچوں کی سلانٹیز بسکٹس کے ڈبے اچار کے مرتبان، ساس اور ماں دونوں کے ہاتھ کی بنی پنجیریاں ،سالن اور کباب ،بیڈ شیٹس، توا پرات کیا نہیں تھا سامان میں.. آخر اماں ابا کا دیا جہیز کس دن کے لیے تھا.

گھر سے نکلتے ائرپورٹ پر اترتے جہاز میں سوار ہوتے اور اترتے ہر جگہ بار بار گننا پڑتا کہ کہیں کوئی رہ تو نہیں گیا. جہاز میں سوار ہوئے تو سکوں کا سانس سا آیا کہ مشکل دن کٹ گئے.اب اپنے گھر اپنے شہر پہنچیں گئیں جہاں بجلی کبھی نہیں جاتی جہاں بٹن دبانے سے گرم پانی آنے لگتا ہے جہاں کی سڑکیں صاف اور اجلی ہیں، جہاں پر نظام ہیں قواعد ہیں سیکیورٹی ہے اور جہاں کے موسموں کی ہمیں عادت ہے جو اپنا دیس نہ ہو کر بھی اب بہت اپنا اپنا سا لگتا ہے.

رات کے بارہ بجےجہاز دبئی کے رن وے پر اترا تو تینوں بچے بری طرح تھکاوٹ کا شکار تھے سب کی باری باری چیں چیں چل رہی تھی. اوپر سےبارہ ڈبے سنبھالتے نہیں سنبھل رہے  تھے. سامان اٹھا کر تین چار ٹرالیوں پر لادتے ہوے ایک بار خود کو کوسا کہ کیا ضرورت تھی اتنا سامان اٹھانے کی جو اب دو بندوں سے سنبھالا نہیں جا رہا.پورٹر بھی کوئی دکھائی نہ دیا. بڑی مشکل سے تینوں ٹرالیوں کو سنبھالتے امیگریشن آفس پہنچے تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا. کاونٹرز پر صرف دو تین آفیسر بیٹھے تھے باقی سب کاؤنٹر خالی تھے.اور زرادیر پہلے اترنے والی انڈین فلائیٹ کے لوگوں سے سب لائنیں کھچا کھچ بھری ہوی تھیں.یعنی اپنی باری کا انتظار کرتے تو دو تین گھنٹے تو کہیں نہیں گیے تھے.اس وقت فاطمہ کا دل چاہا کہ اس سامان کو آگ لگا دے.چھوٹا بیٹا گود میں اٹھا رکھا تھا جو سویا ہوا تھا. سات اور آٹھ سالہ بیٹیاں ماما جلدی کریں کا شور مچا رہیں تھیں.اور وہ میاں بیوی اب کبھی بچوں کو دیکھتے کبھی سامان کو دیکھتے اور کبھی اس لائن کو .ایسا کبھی ہوا تو نہیں تھا پہلے. نہ جانے آج سارا جنوبی ایشیا ایک ہی ٹائم پر اتر آیا تھا یا سارا عملہ ایک ہی دن چھٹی پر چلا گیا تھا یا پھر پی آی اے کی فلائیٹ لیٹ ہوتی ہوتی غلط ٹائم پر گھس آئی تھی. انڈین مرد اور عورت ایسے لائن میں پھنسے ہوے تھے کہ کھوے سے کھوا چھلتا تھا.کچھ دیر تو وہ بچوں کے ساتھ لائن میں کھڑی رہی مگر بچوں نے کھڑے ہونا حرام کیا ہوا تھا چھوٹے بیٹے کو بھی گود میں اٹھا رکھا تھا اور دونوں بچیاں بےصبری ہو رہی تھیں کہ جلدی کریں.میاں تین ٹرالیاں سنبھالے پیچھے کھڑا تھا. ایک بجنے والا تھا اور بچیاں بے حال ہو رہیں تھیں.آخر فاطمہ کو جوش آیا اور وہ بچوں کو لیے لاینوں کے اندر گھس گی.ہمیشہ تو یہی ہوتا تھا کہ کہ فیملیز کو لائن میں سے نکال کر آگے کر دیا جاتا تھا پر آج شاید سب قوانین بھول گیے تھے.اسکے تینوں بچوں نے جینا حرام کر رکھا تھا اور ابھی تک کسی نے اسکو جگہ نہ دی تھی. انڈین عورتیں اور مرد لایینوں میں مرد اور عورت کی تمیز کے بغیر پھنسے کھڑے تھے .اسنے کوشش کی کہ کسی طرف سے اسکو جگہ مل جائے جو بچے دیکھ کر اکثر آسانی سے مل بھی جاتی ہے مگر یہاں اسکو آتے دیکھ کر انڈین اور جڑتے چلے جا رہے تھے .عورتیں اور مرد ملو زبان میں چیخنے لگے تھے کہ نہیں جانے دینا اسکو ہم پہلے سے کھڑے ہیں .فاطمہ کو شاید غرور تھا کہ اسکے ساتھ بچے ہیں اور فیملی کو پروٹوکول دیا جاتا ہے.بچیاں جڑے یوے ہجوم کے اندر پھنس کر رہ گئیں. پاکستانی عورت کو مردوں کے کندھوں میں گھس کر کھڑے ہونے کی عادت بھی کہاں ہوتی ہے .

.آگے پیچھے کچھ دیر تک لڑھکنے کے بعد وہ بچیوں کو بچاتی باہر لے آئی .بد تہذ یبی کا یہ مظاہرہ فاطمہ نے یہاں پر پہلی بار دیکھا تھا. کچھ اس وقت سیکورٹی عملہ کم ہونے کی وجہ سے بھی لوگ آپے سے باہر ہو رہے تھے.فاطمہ نے باہر نکل کر بچوں کو ایک کونے میں کھڑا کیا اور خود سیکورٹی افسر کے پاس چلے گی.تھکاوٹ اور جھنجلاہٹ سر پر تیار تھی.وہ جاتے ہی سیکورٹی افسر پر چڑھ دوڑی.

“آپ لوگ دیکھ نہیں رہے کتنا ہجوم ہے فیملیز والے کتنے تنگ ہو رہے ہیں”

سیکورٹی افسر کو یقینا انگلش نہیں آتی تھی.وہ جواب میں کچھ عربی میں چنگاڑا اور اسکو واپسی کا اشارہ کرنے لگا.آدھی رات کو تھکاوٹ زدہ حال میں فاطمہ نے اسکو انگلش میں بتانےکی کوشش کی کہ اسکے ساتھ چھوٹے بچے ہیں. مگر عربی افسر کو شاید اسکے لہجے سے کچھ اور سمجھ آرہا تھا وہ عربی میں کچھ چلاتا رہا. نتیجے میں اسکے میاں صاحب لائن سے نکل کر آئے اور اسکو کھینچتے ہوے واپس لے گیے. وہ پوچھتی رہی کہ میں نے کیا کیا ہے آخر ! کوئی میری بات کیوں نہیں سمجھ رہا؟

“بس کر دو گرفتار کر لینا ہے انہوں نے!”

فاطمہ کو لگا اسےکوی غلط فہمی ہوی ہے .وہ پیچھے کھڑے سیکورٹی افسر کے پاس گیی اور اسکو ساری بات بتایی .اپنا رونا رویا کہ وہ بچوں کے ساتھ کیسے خوار ہو رہی ہے.باقی افسروں کی طرح انگلش اسکی بھی شاندار تھی.یس یس نو نو کرتا وہ اس افسر سے بات کرنے چلا گیا. اور فاطمہ وہیں کھڑی پریشانی اور اضطراب میں اسکی واپسی کا انتظار کرنے لگی.زرا دیر گزرنے کے بعد عربی آفیسر واپس آیا.

“he said she shout upon me!”

” No I don’t ! I just want a favour because I’ve small kids with me!”

“Look! This is not your country where you can do whatever you like!”

We have some rules and regulations here to follow!”
سیکورٹی افسر نے میٹھے لفظوں میں کڑوی بات کہی.اس نے اور بھی کچھ بولا مشکل سے نکلتی اٹکتی ہوی انگلش میں مگر ایک ہی فقرے نے اسکے دماغ کو آسماں سے زمیں پر دے مارا تھا

” یہ آپکا ملک نہیں ہے جہاں آپ جو چاہے کرتے پھریں یہاں کچھ قانوں ہوتے ہیں کچھ قاعدے ہوتے ہیں.”
فاطمہ اپنی رواں انگلش کا جادو ایک ایسےافسر کے سامنے نہیں چلا سکتی تھی جسکو انگلش کم کم آتی تھی.وہ دونوں افسروں کو یہ سمجھانے سے قاصر رہی تھی کہ وہی قوانین اورقاعدوں پر غرور ہی تو اسے یہ سب بولنے پر مجبور کر رہا تھا. وہ جانتی تھی کہ کہ وہ ایک مہزب ملک میں ہے جہاں چھوٹے چھوٹے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے.مگر اب اسے سب کچھ بھول گیا تھا. یاد رہا تھا تو یہ کہ یہ اسکا اپنا ملک نہیں ہے کہ وہ جسکا چاہے گریبان پکڑ کر انصاف مانگ لے گی.یہاں وہ دو نمبر شہری ہے .دوسرے لوگوں کے دھکے کھا کر ماں چاہے جتنی بھی گنوار اجڈ کمزور اور غریب ہو ضرور یاد آتی ہے..وہ اپنا سا منہ لے کر واپس آگئی تھی اور اور اپنے سامان کے ڈھیر کے پاس پڑی کرسی پر ڈھے سی گی تھی.اسکے بعد نہ اسے بچوں کے چیخنے چلانے سے گھبراہٹ ہو رہی تھی نہ انتظار کی کوفت.ایک طعنہ اسکے دل اور دماغ میں کھب کر رہ گیا تھا.ایک غرور جو ایک سیکنڈ میں مٹی میں رل گیا تھا.

“یہ ہمارا ملک نہیں تھا! یہ تو کسی اور کا دیس ہے.ہمارا ملک…..ہمارا ملک تو پیچھے رہ گیا کہیں”. 

جس شہر اور جن گلیوں کو دیکھنے کے لیے وہ پورا ایک مہینہ ترسی تھی. جس کی روشنیوں کی اب اتنی عادت ہو گیی تھی کہ اپنے ملک کے اندھیرے ڈرانے لگے تھے.وہ ایک دم سے اپنا طلسم گنوا بیٹھا تھا.

اگلے دو گھنٹے فاطمہ نے اسی کرسی پر جھکی گردن کے ساتھ گزارے تھے. کاش کہ ہمارا ملک اس قابل ہوتا کہ آج یہ لوگ ہمیں جھک کر سلام کرتے.دنیا صرف دو چیزوں کے سامنے جھکتی ہے، پیسے کے یا دماغ کے.بدقسمتی سے اسکے ملک کے پاس دونوں چیزیں نییں تھیں.اسی لیے ایک افسر نے اسکو حق پر ہوتے ہوے جھٹلا دیا تھا کہ ملک انکا تھا اصول انکے تھے. اپنی لمبی بڑی گاڑی میں بیٹھ کر گھر جاتے پہلی بار فاطمہ کا دل باہر دیکھنے سے بیزار تھا.جھلمل روشنیوں اور جگمگاتی سڑکوں سے دل اچاٹ تھا.کہ یہ پردیس تھا.جو اسکا کبھی نہیں ہو سکتا تھا جسکی زمیں پر چلنے کا اختیار تو تھا مگر سر اٹھا کر نہیں.یہ ایک سوتیلی ماں تھی جسکو اسکی محبتوں اور غرور سے غرض نہ تھی.

اور جو اپنا دیس تھا وہ کسی نشہ باز باپ کی طرح فخر نہیں ایک طعنہ جس کے ہوتے ہوے اولاد یتیم کہلاے  .وہ اپنے دیس میں بھی پردیسی تھے اور باہر بھی۔

_——————————————————————

کینوس ڈایجسٹ ڈاٹ کام میں شایع ہوا۔

http://www.canvasdigest.com/%d8%af%db%8c%d8%b3-%d9%be%d8%b1%d8%af%db%8c%d8%b3/%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c%d8%a7%d8%aa/

Staycation at Radisson blu, Yas Island, Abu Dhabi

Why Redisson blu, Yas island?

Are you a poet? A songwriter? No?  OK!  But you love poetry? love sun rise and sun sets?adore nature? Enjoy serenity? Fond of starry nights? Yes! Redisson Blu  in Yas Island is  fit for you. Sit in the balcony, watch the tired sun setting behind Yas links into the sea. Stay late night to witness the milky way of the moon to the depth of the sea, following the sun. The serene moonlit mesmerizes you, you write poetry, sing a song or at least listen some great melodies of your favorite classics or modern. The spacious balcony with great views is really worth your money. wp-image-1835431702

 More plus! 

  1. Beautiful views out of windows.
  2. Spacious rooms with  balconies ,big wardrobe and desk .
  3.  they offer complimentary Water world and Ferrari passes often with their package / deal. ( inquire them for details)
  4. Free  Yas beach entry
  5. Three big pools, separate for kids, family and couples.
  6. A beautiful business lounge on the 8th floor for adds on serenity.wp-image-1960616798

 

Oh they missed!!! 

  1. Lipton yellow lybel tea is not included in their complimentary tea package
  2. Protocol is not up to the mark!
  3. Breakfast at Assymetri has a limited menu:( but services and taste is up to the mark.)

Gallery 

For more images check link
https://sofialog.blog/?p=944

wp-image--356527128

wp-image-641614551

wp-image-1105589759wp-image--271986860wp-image-1301330718

For details;  check  website link below!

https://www.radissonblu.com/en/hotel-abudhabi?facilitatorId=CSOSEO&csref=org_gmb_sk_en_sn_ho_AUHZY