پنچایت 

ویلیم گولڈنگ نے اپنے ایک عالمی شہرت یافتہ ناول لارڈ آف دی فلایز میں کچھ ایسے بچوں کے گروپ کی کہانی بیان کی ہے جو ایک بیابان میں اپنے کارواں سے بچھڑ جاتے ہیں اور ایک جزیرے پر  صرف بچوں کی حکومت قایم کر لیتے ہیں ۔کم عمر بچے جب باشعور بڑوں سے پرے اپنے شعور اور نفس کے ہاتھوں میں تنہا رہ جاتے ہیں تو حکومت کے نام پر وہ ایسا  ہولناک ظلم برپا کرتے ہیں کہ انسانی عقل حیران  و ششدر ہو جاتی ہے۔انسان کو جب اسکے نفس کے بغیر کسی تمیز اور تعلیم کے حوالے کر دیا جاے تو پھر انسان دنیا میں ایسا ظلم برپا کر دیتا ہے کہ جانور اور درندے بھی انگلیاں منہ میں دبا لیں۔
کچھ سال پہلے مختاراں مائی کے واقعہ سے سارے پاکستان نے نہیں بلکہ دنیا بھر نے جانا کہ پاکستان کے اندر انصاف کا نظام کس قدر عمدہ اور جاندار ہے۔سوموٹو ہوے، میڈیا نے خوب شور مچایا این جی اوز بھی جاگیں,مقدمے بھی چلے اور پھر انصاف کا شور مچانے والے انصاف اوڑھ کر سو گیے ۔مجرم ملزم بنے اور بالاآخر رہا ہوے۔مگر میرا مقصد انصاف کے اداروں سے سوال کرنا نہیں ۔میں ان سے پہلے والیان ریاست سے سوال کرنا چاہتی ہوں۔
ہمارے معاشرے کا اک ان کہا ،ان لکھا اصول ہے ،ہر بات ہر عمل میں کسی بڑے کی صلاح لے لو۔کسی عمر ،عقل ،علم اور تجربے میں بڑے سے! گھروں کے اندر ،گھروں سے باہر کے ہزاروں فیصلے انہیں بڑوں کے کیے اور چُنے ہوتے ہیں ۔کبھی گھر کا بڑا ،کبھی خاندان کا بڑا، کبھی علاقے کا بڑا کبھی کسی قبیلے کا بڑا کوی سردار، کوی عزت دار جسکی بات سے کوئی اختلاف نہ کرے یا نہ کر سکتا ہو۔۔۔۔۔ایک پنچایت کا مطلب ہے کہ اس علاقے اور لوگوں کے سب سے معزز، صاحب عزت صاحب قدر لوگ!!!  اور پنچایت کے ایک فیصلہ پر عمل ہونے کا مطلب ہے کہ کم سے کم اس علاقے کے دور و نزدیک کے لوگوں کو وہ فیصلہ پسند نہیں  تو قبول ہے۔اب ایک ایسے صاحب عزت ،صاحب قدرافراد پر مشتمل پنچایت فیصلہ کرتی ہے کہ ایک شخص کے کیے گیے ریپ کی سزا یہ ہے کہ ایک اور ریپ اسکی بیٹی یا بہن کا کیا جاے۔اب اس پر دونوں طرافین سمیت اس سارے علاقے کے کسی جوان، بوڑھے، مرد اور عورت کو اعتراض نہیں ۔تو یہ ایک دو اشخاص کا فیصلہ نہیں ،یہ اس پورے علاقے اور انکے شعور کا فیصلہ ہے۔اسکا قصوروار وہ سارا معاشرہ ہے جسکے اندر یہ فیصلے نہ صرف کیے جاتے ہیں بلکہ پایہ تکمیل تک بھی پہنچتے ہیں۔ہزاروں لاکھوں زرایع ابلاغ، ہزاروں دن رات کے چیختے چنگھاڑتے ٹی وی بھی ملتان، راجن پور، خان پور  اور ڈہرکی یا لاڑکانہ میں ہونے والے فیصلے کی بروقت خبر  نہیں لا پاتے۔واقعہ  ہو جانے پر سب میزبان بیٹھ کر ماتم کرتے ہیں۔بتاییے قصور کس کے نام ہو۔ کیا ظلم کے ان اندھے قانونوں سے بھرا  یہ بے بس  تماش بین معاشرہ محض چند خبروں اور تجزیوں سے بدل جاے گا؟ اسطرح کے فیصلے دینے والی پنچایتیں ان سارے علاقوں کی جہالت کفر اور ظلمت کو ظاہر کرتی ہے جو ان علاقوں میں پھیلا ہے۔یہ آج کے بڑے بوڑھے، “عزت ماب” پنچایت کے رکن پچھلے ستر سالوں میں اس عہدے کے قابل ہوے .پچھلے ستر سالوں میں کسی بھی حکومت کسی بھی فرد ،کسی بھی پارٹی نے بھیڑیوں کے اس ہجوم کو عقل و شعور دے کر انسان کیوں نہیں بنایا۔کیوں پاکستان کے آٹھ کروڑ لوگوں کو ستر سال میں تعلیم ،تہزیب تربیت دے کر ایک صاف سانچے میں ڈھالنے کی کوشش نہیں کی گیی۔کیوں اس قوم کو اپنی اغراض اور مقاصد کی خاطر ریوڑ بنا کر رکھا گیا، قوم بنانے کی کوشش نہ کی گیی۔۔کوی دینی ،کوی دنیاوی ،کوی اخلاقی ،کوی انسانی ،کسی علم ،کسی شعور کی رمق تک ان تک نہ پہنچی، نہ پہنچای گیی۔اس پورے علاقے کے ہزاروں لوگوں کے دماغوں میں آخر کسی بھی وجہ سے کوئی سوال کیوں نہیں اٹھتا۔کوی عزت کوی غیرت کا متوالا، کوی مزہبی ٹھیکے دار کوی آزادی اظہار کا دیوانہ کیوں ان رویوں کے بیچ کی دیوار  نہیں بنتا جبکہ آج کے پاکستان کی ہر چھوٹی سے چھوٹی گلی کے ہر مفلس سے مفلس شخص کے پاس بھی جدید ترین زرایع ابلاغ، تیز تریں فون اور کیمرے اور ہاتھ کی ہتھیلیوں پر انٹر نیٹ کی سہولت موجود ہے۔آخر کیوں کوی چینل معاشرے کی نگرانی کے لیے رپورٹر تیار نہیں کرتا۔ارباب اختیار کی سانس تک کی خبر دینے والوں کی ناک کے نیچے انسانیت اخلاقیات اور مزہب سب کا گلا گھونٹا جاتا ہے اور کسی کو سن گن تک نہیں ملتی۔ہزاروں لاکھوں ڈگری یافتہ ہنر مند لوگ ملکر بھی اس ظالمانہ نظام کو چیلنج نہیں کر سکتے کیا؟ہزاروں لاکھوں ادارے،قانون اور انصاف کے علمبردار،تعلیم اور ہنر کے ہزاروں لاکھوں ادارے ملکر بھی پچھلے ستر سال میں اس جانوروں کے ریوڑ پر مبنی معاشرے  کو انسان کیوں نہ بنا سکے؟ کسی وزیراعظم ،کسی ڈکٹیٹر، کسی پارٹی یا حکومت نے اس قوم کے ہاتھوں میں شعور دینے کی کوشش کیوں نہ کی؟ غضب تو یہ کہ آج بھی انسانی تعلیم و تربیت سے کسی کوغرض نہیں ۔یعنی اسکے بعد آنے والے اشرافیہ کے ریوڑ بھی اپنی اپنی وسیع جاگیروں میں اتنے ہی ظالم اتنے ہی کالے اور اخلاق سوز ہونگے۔تو کچھ ادارے کچھ لوگ بچھے کچھے قانون سے اس ریوڑ کو کیا باندھ سکیں گے۔انسانوں کو باندھنے کے لیے خدا نے علم اتارا تھا مگر انفرادی مفادات میں آنے والے سب رہبروں نے اس علم کا راستہ اندھا کر کے اندھیرے پھیلاے۔آج تبھی تعلیمی اداروں میں ہزاروں کا ہجوم کسی ایک پر فتویٰ کفر لگا کر ٹوٹ پڑتا ہے ،کبھی چوری کا نام دے کر اینٹیں مار مار کر لاشیں بنا کر درختوں سے ٹانک دیتا ہے۔ پھر جب اپنے اندر کے کتوں اور بھیڑیوں سے تھک جاتا ہے تو سور کی کھال اوڑھ کر قندیل بلوچییں دیکھنے لگتا ہے۔یہ چند لوگوں کا رویہ نہیں یہ پورے پورے علاقے اور قبیلے کی سوچ اور طور طریقہ ہے ۔ یہ معاشرے کے رویے ہیں جو انسانوں کی پہچان ہوتے ہیں اس ظلمت کے نظام کو ہزاروں نہیں لاکھوں کروڑوں نے سنبھال رکھا ہے۔اس معاشرے کو شعور دینے کے لیے کون اترے گا۔۔چند لوگوں کی تلاشی سے، چند لوگوں کی نااہلی اس معاشرے کا تریاق نہیں ۔
سرکاری تعلیم، اسلامی مدرسے، انگریزی سکول ہر موڑ پر کھلے ہیں مگر قوم  بحثیت مجموعی بے شعور ہے۔آج قوم کو صرف قاید اعظم کی نہیں اقبال اور سرسید احمد خان کی مولانا اشرف علی تھانوی کی سید سلمان ندوی کی بھی ضروت ہے۔اس قوم کو صرف حکمران نہیں اب رہبر چاہیں اگر اسکو زندگی چاہیے تو ورنہ مردہ قومیں بھی کیا خاک جیا کرتی ہیں۔
اگر مختاراں مای کے کیس پر ایک سفاک فیصلہ آ جاتا تو شاید کافی پنچایتوں کے لیے اک سبق ہوتا۔مگر ہمارے ہاں کا ظالم سفاک اور بے دید ہے اور منصف نرم دل اور بامروت!!! اگراس واقعہ سے سبق سیکھ کر کچھ قواںین بناے جاتے، پاکستان میں ہزاروں نہیں لاکھوں پڑھے لکھے صاحب شعور قانون دان کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پروفیسر میڈیا کے دماغ ہیں کیا چند لاکھ کو بٹھا کر کسی نے کوی ایسا طریقہ  وضع کرنے ،کوی قانوں  بنانے، کوی روایت ایسی ڈالنے کی کوشش کی گیی جو دوبارہ کروڑوں کے اس ہجوم میں ایسے واقعات کو جنم نہ دے؟  کیا پاکستان کے زرخیز دماغ ان مسائل کا کوئی حل تجویز نہیں کرتے ؟کیا ٹی وی اخبارات میڈیا پر کسی نے زاتی یا اجتماعی حیثیت سے اسکے لیے کچھ قدم اٹھانے کی کوشش کی ماسواے مختاراں مای کے نام پر ایک این جی او بنا کر اسے کچھ لاکھ دینے کے۔؟ اگر ان سب کا جواب ایک صفر ہے تو آپ آیندہ بھی ایسی خبریں خدانخواستہ رپورٹ  کرتے رہیں گے۔کہ خدا ایسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جسکو اپنی حالت سے غرض ہی نہ ہو! 

Published in ARY NEWS. check link! 

https://arynews.tv/ud/blogs/archives/69928

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s